”سجدہ خالق کو بھی ابلیس سے یارانہ بھی“ مقبوضہ کشمیر کا دکھ امت کا دکھ کیوں نہیں؟
01 اکتوبر 2019 (23:58) 2019-10-01

وادی کو بھارتی مظالم سے نجات دلانے کیلئے مسلم حکمرانوں کو اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہوگا

نسیم الحق زاہدی

مسلم امہ کے بارے میں ہمارے نبیﷺ نے فرمایا تھا کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں اگر جسم کے کسی ایک حصے میں تکلیف ہوتی ہے تو سارا جسم درد میں مبتلا ہو جا تا ہے۔ لیکن آج کا مسلمان یوں فرقوں اور قومیتوں میں بٹ چکا ہے کہ کسی دوسرے مسلمان کی کتلیف کا احساس تک نہیں ہوتا۔ اس کی واضح مثال مقبوضہ کشمیر کی ہے۔ جہاںکشمیریوں پر عرصہ¿ درازسے احاطہ زندگی تنگ کر تے ہوئے مظلوم وادی کو ایک بہت بڑے عقوبت خانے میں تبدیل کر دیا گیا ہے، کشمیری عورتوں کا ریپ بھارتی فوجیوں کا ہتھیار بن چکا ہے۔ نوجوان لڑکیوں کو رات کے اندھیرے میں اٹھا لیا جاتا ہے اور انہیں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا جا تا ہے صرف کشمیر میں ہی نہیں بلکہ برما ، فلسطین، اور شام میں مسلمان عورتوں کو وحشی درندے، بھیڑئیے نوچ رہے ہیں، ہماری عزت مآب بہنوںکی عصمتیں لوٹی جا رہی ہیں اور ہمارے مسلم حکمران غفلت کی نیند میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ کہنے کو تو 65 سے زائد اسلامی ریاستیںہیںجن میں امیر و کبیر ریاستیں بھی شامل ہیں جن کی دولت کے بل بوتے پر یہود و ہنود نے دنیا کو مسلمانوں کے لئے جہنم بنا کر رکھ دیا ہے۔کاش آج طارق بن زیاد ززندہ ہوتا جس کی ہیبت و دہشت سے شاہ اندلس نے خودکشی کر لی تھی ۔ حجاج بن یوسف بھی توایک عرب حکمران تھا جس نے دیبل (سندھ )کی ایک عورت کی پکار پر لبیک کہا اور سپہ سالار محمد بن قاسم کو ظالم راجہ داہر اور اس کی فوج کی سرکوبی کے لیے بھیجا اور اسی عظیم سپہ سالا رکی بدولت سندھ میں اسلام کی روشنی پھیلی۔

آج کے مسلم ممالک کے سربراہوںکی رگوں میںمسلمان لہو ہے پھر انہیں کشمیر کی عورتوں کی آہ وپکار کیوں سنائی نہیں دے رہی؟۔ کیوں وہ گونگے، بہرے بن گئے ہیں اور انہوں نے بھارت کی بربریت و درندگی پر چپ سادھ لی ہے۔34 اسلامی ملکوں کی اتحادی فوج کہاں ہے جو مسلمانوں کی حفاظت کے لئے بنائی گئی تھی اس کا تعلق صرف عرب ریاستوں کے تحفظ سے ہے، دنیا کے دیگر حصوں میں بسنے والے مسلمانوں کی جان ومال ، عزت وآبرو سے انہیں کوئی سروکار نہیں۔ دنیا جانتی ہے کہ ہم جنگ کے خواہش مند نہیں بلکہ امن پسند قوم ہیں لیکن کیا اس امن کے لئے اپنے مسلمان بھائیوں کو گاجر مولی کی طرح کٹتے ہوئے دیکھتے رہیں ۔ انہیں کشت وخون میں نہلایا جاتا رہے اور ہم امن کا راگ الاپتے رہے۔ مجاہد اسلام ، فاتح افغانستان ، عظیم سپہ سالار جنرل ر حمید گل ؒ فرماتے تھے کہ ہم جنگ کے خواہشمند نہیں ہیں لیکن اگر ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو پھر چین وعرب ہمارا ، ساراہندوستا ن ہمارا ہو گا۔

مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کے بدترین مظالم پر دوسرا میڈیا تو ایک طرف بھارتی اخبار ت بھی خاموش نہیں رہے۔ اخبار ہندو مقبوضہ وادی کی صورتحال خوفناک قرار دے چکا ہے، دی ہندو نے اپنے اداریے میں لکھا تھا کہ یہ تصور کرنا کہ ا یک کھلا معاشرہ، ایک آزاد میڈیا کسی بھی طرح قومی سالمیت اور سلامتی کے لیے خطرہ ہے، آمریت کی توجیہہ سے کم نہیں،ایڈیٹوریل میں اس بات کی نشاندہی کی گئی تھی کہ بھارت کو صحافت میں تشویشناک حد تک معیار میں کمی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ گزشتہ دنوں برطانوی اخبار انڈی پینڈنٹ نے مقبوضہ وادی کو دنیا کا سب سے بڑا ملٹری زون قرار دیا تھا۔ اخبار نے تہلکہ خیز انکشاف کیا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں خون کی ندیاں بہائی جا رہی ہیں اور اب کشمیریوں کا کہنا ہے کہ 5 اگست سے جاری اس نسل کشی میں شہید ہونے والے کشمیریوں کے ڈیتھ سرٹیفیکیٹ جاری کرنے سے انکار کر دیا ہے، دوسری طرف بھارتی فوج اور حکومت بہت ڈھٹائی سے کہتی پھر رہی ہے کہ کشمیر میں 5 اگست کے بعد ایک ہلاکت بھی نہیں ہوئی۔ 5 اگست سے اب تک کشمیر میں لاتعداد انسانوں کا قتل عام کیا جا چکا ہے، اس دوران شہید ہونے والے کشمیریوں میں نوجوان ہی نہیں بچے، بزرگ اور خواتین بھی شامل ہیں لیکن مکمل میڈیا شٹ ڈاﺅن کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر میں کھیلی جانے والی خون کی ہولی کے اعداد و شمار منظر عام پر نہیں آ رہے۔ اخبار دی انڈی پینڈنٹ نے سوال اٹھایا تھا کہ اگر کشمیر میں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی تو شہریوں کے ڈیتھ سرٹیفیکیٹ جاری کرنا کیوں بند کر دیئے گئے ہیں؟۔ کشمیر کا محاصرہ جاری ہے ٹیلی فون رابطہ دنیا سے منقطع ہے خبروں کا مکمل بلیک آﺅٹ جاری ہے کرفیو چل رہا ہے پورا علاقہ ایک بہت بڑی جیل میں تبدیل ہو چکا ہے۔ خوراک کا ذخیرہ ختم ہو چکا ہے۔ سڑکیں بند ہیں ایمبولینس کو بھی گزرنے کی اجازت نہیں۔ انڈیا کے بدنام زمانہ جاسوس جو آجکل نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر ہیں وہ کئی دنوں سے کشمیر میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں کشمیری احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں، گھروں میں گھس کر نوجوانوں کو اٹھا لیا جاتا ہے لاپتہ افراد کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں سنگین خلاف ورزیوں پر چیخ رہی ہیں امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے کشمیر کو جہنم قرار دیا مگر پھر بھی دنیا خاموش ہے۔ بھارتی فوج نے درندوں کوبھی پیچھے چھوڑ دیا ہے، دہشت پھیلانے کے لیے بھارتی فوج نے شیطان کوبھی شرمادیا ہے۔

بھارت اسرائیلی طرز کی جنگی پالیسیاں اپنائے ہوئے ہے۔ پورے مقبوضہ کشمیر کو کھنڈر بنایا جا رہا ہے۔ مہلک ہتھیاروں کے استعمال سے کشمیریوں کی نوجوان نسل اپاہج، نابینا اور ذہنی و جسمانی معذور ہورہی ہے۔ یہ سب منظم سازش کے تحت کیا جارہا ہے۔ کشمیری قائد سید علی گیلانی نے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی عالمی سطح پر تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، تاہم جب عالمی قوتیں خود بھارت کی سرپرستی میں مصروف ہوں تو پھر ایسے ظلم و دہشت گردی کا سد باب کون کرے گا؟1993ءمیں عالمی کنونشن کے تحت کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر پابندی لگائی گئی۔ یہ معاہدہ 1997ءمیں نافذالعمل ہوا اور 192ملک اس کنونشن کے فریق ہیں، لیکن افسوس کہ امریکہ، یورپ اور دیگر عالمی قوتیں دوسروں کو تو ان قوانین کا پابند بنانے کی باتیں کرتی ہیں مگر خود اس پر عمل نہیں کرتیں اور کشمیر سمیت فلسطین و دیگر مسلمان ملکوں میں ان ہتھیاروں کا استعمال جاری ہے۔ لیکن غاصب بھارت کو چونکہ مکمل امریکی و صہیونی سرپرستی حاصل ہے، اس لیے وہ عالمی قوانین کو روندتے ہوئے کھلے عام مہلک ہتھیاروں کا استعمال کر رہا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں آگ اور خون کا کھیل جاری ہے۔ بھارت انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کرنے والے 38 ممالک میں شامل ہے۔ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو کی جاری کردہ رپورٹ میں بھارت کا نام بھی شامل ہے۔ گذشتہ 29 برسوں میں 8 ہزار سے زائد کشمیر لاپتہ ہوئے۔ مقبوضہ وادی میں ہزاروں گمنام قبریں دریافت ہوئیں۔ شبہ ہے گمنام قبریں بھارتی فورسز کی حراست سے لاپتہ افراد کی ہیں۔

بھارتی صحافی رعنا ایوب نے مقبوضہ وادی کا دورہ کرنے کے بعد بھارتی گھناﺅنے مظالم بے نقاب کرتے ہوئے ٹویٹ میں کہا تھا کہ مقبوضہ کشمیر سے ابھی لوٹی ہیں، مقبوضہ وادی میں جو دیکھا وہ اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا ہو گا۔ بھارتی فورسز کی جانب سے 12 سالہ بچے کو حراست میں لے کر پیٹا جا رہا تھا، خواتین کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔ رعنا ایوب نے کہا کہ لڑکوں کو الیکٹرک شاکس دئیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کے اندر بھارتی میڈیا کے لیے جو غصہ اور نفرت ہے وہ پہلے کبھی نہیں دیکھی ہے۔ بی بی سی کے رپورٹر نے مقبوضہ کشمیر کے جنوبی اضلاع کے علاقوں کا دورہ کیا جہاں عوام نے انہیں بھارتی افواج کی جانب سے ڈھائے گئے مظالم کی داستانیں سنائیں۔ رپورٹ کے مطابق کشمیریوں نے رات گئے بھارتی چھاپوں، مار پیٹ اور تشدد کی ملتی جلتی کہانیاں سنائیں اور بھارتی سکیورٹی فورسز پر مارپیٹ اور تشدد کے الزامات لگائے۔ مقبوضہ وادی کے محصور شہریوں نے یہ بھی بتایا کہ آرٹیکل 370 ختم کرنے کے متنازع فیصلے کے چند گھنٹوں بعد ہی فوج گھر گھر گئی، بھارتی فوج نے راتوں میں چھاپے مار کر گھروں سے لوگوں کو اٹھایا اور سب کو ایک جگہ پر جمع کیا۔ شہریوں نے بتایا کہ بھارتی فوج نے ہمیں مارا پیٹا، ہم پوچھتے رہے ہم نے کیا کیا ہے لیکن وہ کچھ بھی سننا نہیں چاہتے تھے۔

کشمیرمیں بھارتی فوج کی تازہ بربریت کا سب سے المناک پہلو یہ ہے کہ کشمیرکی نوجوان نسل کی بینائی چھینی جا رہی ہے۔ سری نگرکے ہسپتال ایسے زخمیوں سے بھرے پڑے ہیں کہ پیلٹ گن کے استعمال سے جن کی آنکھوں کی بینائی چھین گئی۔ کئی زخمیوں میں پلیٹ آنکھ کے ایک طرف گھسا ہے اور دوسری طرف واپس نکلا ہے۔ پیلٹ لگنے سے زخمی کثیر تعداد ان نوجوانوں کی ہے جو سکولوں میں زیر تعلیم ہیں اور جن کی عمر 25 سال سے زائد نہیں ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ نوجوان اپنی شناخت بھی ظاہر نہیں کر پا رہے ہیں کیونکہ بھارتی فورسزنے ہسپتال میں ایک طرح کامارشل لاءلگارکھا ہے۔ریاستی دہشت گردی کی انتہاکرتے ہوئے بھارتی فورسز بیڈوں پروینٹی لیٹر،آکسیجن ،خون اور گلوکوزلگے ہوئے زخمیوں کواتارپھینک رہی ہے اور تیمار داروں کی بھی شدید مارپیٹ کررہی ہے۔ زخمی شہریوں کو سرینگر پہنچانے سے قبل پولیس و فورسز کے اہلکار راستے میں ہی بے تحاشا تشدد کا نشانہ بنارہے ہیں۔

پاک و ہند کی آزادی کے 72 سال بعد بھی پاکستان اور بھارت کے آپسی تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں جس کی وجہ صرف کشمیر ہے، آزادی ہر فرد کا بنیادی حق ہے، کشمیری عوام کب تک بھارت کا ظلم و بربریت برداشت کریں، عالمی سطح پر اس حوالے سے آواز اٹھائی جاتی ہے تاہم بھارت ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کشمیری عوام کو حق خود ارادیت دینے سے گریزاں ہے۔ اب بھی بھارت کا یہی طرز عمل ہے۔ اس کی وجہ شائد مسلم حکمران بھی ہیں۔ معروف کالم نگار محمود شام لکھتے ہیں” ہماری تاریخ گواہی دیتی ہے کہ ہمیں کشمیر سے زیادہ مسئلہ کشمیر عزیز ہے، اس مسئلے کے زندہ رہنے سے مقبوضہ کشمیر ، آزاد جموں و کشمیر ، بھارت، پاکستان اور دبئی کے کتنے ہی خاندانوں کے وارے نیارے ہو گئے اور ہو رہے ہیں، وہ کیوں چاہیں گے کہ کوئی ایسی صبح طلوع ہو جب کشمیری اپنی مرضی سے آزادی کی زندگی گزار سکیں۔

کشمیریوں کو اس وقت ہی بھارتی مظالم سے نجات مل سکتی ہے جب مسلم ریاستوں کے حکمران اور عوام اسے اپنا مسئلہ اور اپنا دکھ سمجھیں گے، جب تک یہ باتیں سامنے آتی رہیں گی کہ مسئلہ کشمیر کو اُمت کا مسئلہ نہ بنایا جائے، بھارت یونہی مظلوم کشمیریوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹتا رہے گا۔

٭٭٭


ای پیپر