وزیراعظم کا جنرل اسمبلی سے خطاب اور مسئلہ کشمیر!
01 اکتوبر 2019 (23:42) 2019-10-01

قارئین! جب آپ یہ تحریر پڑھ رہے ہوں گے وزیراعظم عمران اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کر چکے ہوں گے۔ انہوں نے دورہ امریکہ سے قبل مظفر آباد میں جلسے سے خطاب میں کہا تھا کہ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے لائیں گے۔ وزیر اعظم عمران خان نے 27 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب سے قبل مختلف سربراہان مملکت سے ملاقاتیں کیں اور انہیں کشمیر کے مسئلہ پر پاکستان کا ہم آواز بنانے کی بھر پور کوشش کی۔ ان عالمی رہنماو¿ں میں مسلم حکمرانوں کے علاوہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور برطانوی وزیراعظم بورس جانسن اور نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نمایاں رہنما تھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم اور کشمیری قیادت کے وفد سمیت مختلف عالمی رہنماو¿ں سے بھی ملاقاتیں کیں۔

ان ملاقاتوں میں وزیراعظم اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مابین ہونے والی ملاقات کافی اہمیت اور توجہ کی حامل رہی۔ عمران خان نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کے دوران جب مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے انسانیت سوز اقدامات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کرفیو کے خاتمے کی بات کی تو امریکی صدر نے اس سلسلے میں مودی سے بات کرنے کی یقین دہانی کرائی اور مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ،آپ تو تیار ہیں اگر دوسرا فریق بھی مان جائے تو میں کشمیر پر آپ دونوں کی مدد کر سکتا ہوں تا ہم انہوں نے یہ کہنا بھی مناسب سمجھا کہ کشمیر بہت پیچیدہ مسئلہ ہے جو بہت عرصہ سے چلا آ رہا ہے گویا اس کا حل اتنا آسان نہیں ہے۔ امریکی صدر کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں عمران خان نے توجہ دلائی کہ ٹرمپ دنیا کے طاقتور ترین صدر ہیں مسئلہ کشمیر حل کروانا امریکہ کی ذمہ داری ہے اور ٹرمپ اس سلسلے میں سلامتی کونسل پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کر سکتے ہیں۔ وزیراعظم نے معاملے کی حساسیت اور بھارت کی ہٹ دھرمی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر فوری اور عملی اقدامات نہ کئے گئے تو کشمیر کا بحران ایک بڑے المیے کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ امریکی صدر نے تسلیم کیا کہ عمران خان سنجیدگی سے انسداد دہشت گردی میں پیش رفت چاہتے ہیں۔ ٹرمپ افغانستان میں امن کے لئے بھی پاکستان کے کردار کے معترف ہیں مگر مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے معاملے میں ان کا لہجہ بہت کمزور ہے، وہ ثالثی کی پیشکش دہرا رہے ہیں مگر اسے بھارت کی رضا مندی سے مشروط کر کے خاموش ہو جاتے ہیں حالانکہ وہ اس پوزیشن میں ہیں کہ بھارت پر دباﺅ ڈال کر مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرا سکیں، وہ اس سلسلے میں سلامتی کونسل کے ارکان پر بھی اپنا اثر و رسوخ استعمال کر سکتے ہیں مگر ایسا لگتا ہے کہ وہ زبانی جمع خرچ سے آگے بڑھنا ہی نہیں چاہتے۔ امریکہ نے افغان امن مذاکرات سے بھی اچانک ہاتھ کھینچ کر خطے میں کشیدگی کے خاتمے کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے اور ایران کو بھی جنگ کی دعوت دے رہا ہے، ایسے میں کشمیر کے مسئلے پر جنگ جیسی صورتحال امن عالم کے لئے تباہ کن خطرات کی نشاندہی کر رہی ہے ۔ امریکہ ایک سپر پاور ہے وہ اپنے مثبت عمل سے ان خطرات کو ٹال سکتا ہے صدر ٹرمپ کو اس حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کرنا چاہئے اور کشمیری عوام کے مصائب کے خاتمے اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لئے اپنا موثر کردار ادا کرنا چاہئے توقع ہے کہ وزیراعظم عمران خان سے ملاقات میں انہوں نے جو کچھ کہا ہے اس پر نیک نیتی سے عمل بھی کریں گے۔

دوسری جانب بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی بھی اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے امریکہ میں موجود تھے، جہاں انہوں گزشتہ اتوار کی شب انڈین کمیونٹی سے خطاب بھی کیا جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی شرکت کی۔ دونوں رہنماو¿ں نے دہشت گردی کے خلاف مل کر جنگ لڑنے کا عزم کیا۔ اس موقع پر امریکی صدر نے انڈیا کو بہترین دوست بھی قرار دیا۔ انڈین کمیونٹی کے اجتماع میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شرکت کو بھارت کی پاکستان پر سفارتی برتری کے طور پر دیکھا گیا۔ ایسے میں وزیر اعظم عمران خان کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس سے خطاب کی اہمیت اور اس سے وابستہ توقعات مزید بڑھ گئی تھیں۔

عمران خان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں سب سے اہم ایشو مسئلہ کشمیر لے کر گئے تھے۔ لیکن اس حوالے سے اگر ہم ماضی میں جھانکیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ماضی میں بھی کشمیر کے حوالے سے بات تو ہوتی رہی ہے لیکن ذاتی مفادات کو دیکھتے ہوئے اس مسئلے پرکھل کر بات نہیں کی جاتی تھی۔‘ عمران خان کا چونکہ سیاست میں کوئی ذاتی مفاد نہیں ہے اس لئے ان کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس سے خطاب سے امیدیں زیادہ لگائی گئیں لیکن اس ضمن میں انہوں نے بھی اقوام متحدہ میں بھی وہی باتیں کیں جو ہم کم و بیش پہلے بھی کرتے آرہے ہیں۔ لیکن اس بار اقوام متحدہ میں خطاب کی اہمیت اس لیے بڑھ چکی تھی کہ بین الاقوامی میڈیا کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کر رہا ہے اور دنیا کی توجہ کشمیر کی طرف مبذول ہو چکی ہے۔‘ اس امر میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان تقریر اچھی کرتے ہیں، انہوں نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ یہ ان کے لیے شرم کا مقام ہے کہ وہ کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے اس پر خاموش رہے۔‘ عمران خان نے دنیا کو ان کی ذمہ داریاں یاد کروائیں۔ ہر سال دنیا کو کشمیر کے حوالے سے باور کروایا جاتا ہے کہ آپ نے اپنی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کیا اور عمران خان بھی یہی کر سکتے ہیں۔‘

اب اس سارے سیناریو کے بعد اُمید تو یہی کی جا سکتی ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے خطاب سے انڈیا پر فوری دباو¿ بڑھے گا۔ انڈیا پر اخلاقی دباو¿ تو ضرور آئے گا لیکن جو عالمی طاقتوں کی طرف سے دباو¿ بڑھنا ہے وہ فوری طور پر آتا نظر نہیں آرہا۔ ایک بات یہ بھی ہے کہ بیرون ملک مقیم بھارتیوں پر دباو¿ بڑھا ہے اور اس میں مزید اضافہ بھی ہو گا۔ انسانی حقوق کے حوالے سے بھی بھارت کی بدنامی ہو رہی ہے لیکن فوری طور پر کشمیر میں کرفیو کے خاتمے کے حوالے سے دباو¿ بڑھتا تادم تحریر نظر نہیں آرہا۔ کیونکہ یہ ایک دن کا مقدمہ نہیں کہ آپ نے تقریر کی اور آپ یہ جنگ جیت گئے، یہ ایک لمبی سیاسی اور سفارتی جنگ ہے اور اس میں کشمیری عوام کی حمایت حاصل ہو گی تو اس کو تقویت ملے گی۔ اگر پاکستان دنیا کو باور کروانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو انڈیا پر دباو¿ بڑھے گا۔ کیونکہ جہاں تقاریر کا تعلق ہے تو ذوالفقار علی بھٹو نے بھی اپنے دور میں اقوام متحدہ میں بڑی متاثر کن تقریر کی تھی، لیکن جب وہ تقریر کر کے لوٹے تو بنگلہ دیش پاکستان سے الگ ہو چکا تھا۔ اس لئے پاکستان کو محض اس تقریر کے بعد حالات پر تکیہ کر کے نہیں بیٹھ جانا چاہیے، اس حوالے سے سابق سفیر اور ممتاز تجزیہ نگار شمشاد احمد کا کہنا ہے کہ ”اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کے بعد پاکستان اپنی کوشش جاری رکھے گا اورہر فورم پرکشمیرکا معاملہ اٹھائے گا۔ پاکستان جنگ کرے یہ درست نہیں کیوںکہ جنگیں کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتیں۔ عمران خان کی پالیسی یہی ہے کہ سفارتی اور سیاسی طور پر کشمیر کا مقدمہ لڑتے رہیں گے۔اس ضمن میں سابق سفیر ایاز وزیر کا خیال ہے کہ ”انڈیا کی جانب سے آنے والے دنوں میں کشمیر میں مزید مظالم ہوں گے۔ جیسے ہی کرفیو میں نرمی ہو گی تو کشمیری عوام باہر نکلیں گے اور مزید ظلم ہو گا۔ بنیادی طور پر یہ جنگ کشمیری عوام نے لڑنی ہے اور پاکستان کے پاس یہی آپشن ہے کہ وہ دنیا کی توجہ کشمیر پر مبذول کرواتے رہیں۔“....

انڈیا نے آرٹیکل 370 کے خاتمے کا ی کطرفہ اقدام کیا ہے جس کے بعد مسئلہ کشمیر اب دو طرفہ مسئلہ نہیں رہا۔ پاکستان کو اب واضح مو¿قف اپنانا چاہیے کہ کشمیر کا مسئلہ اب دوطرفہ نہیں، یک طرفہ اقدامات کے بعد شملہ معاہدہ ختم ہو چکا ہے اور اب تمام فیصلے سکیورٹی کونسل میں ہوں گے جہاں قرارداد پہلے سے موجود ہے۔‘ پاکستان کو یہ معاملہ اب سکیورٹی کونسل لے کر جانے کی ضرورت ہے جس کے لیے سفارتی کوششیں تیز کرنا ہوں گی لیکن یہ ایک دن کی بات نہیں ایک لمبا عمل ہے۔

۰۰۰


ای پیپر