اسلام میں والدین اور اولاد کے باہمی حقوق
01 اکتوبر 2019 (23:39) 2019-10-01

اسلام نے جہاں ایک طرف اولاد کو اپنے والدین کی اطاعت و فرماں برداری کا پابند بنایا ہے تو وہیں دوسری طرف والدین کے ذمے بھی اولاد کے کچھ حقوق مقرر کیے ہیں تاکہ والدین اور اولاد کی باہمی معاشرتی و اجتماعی زندگی میں توازن کا عنصر برقرار رہے اور انسانی معاشرہ اعتدال اور میانہ روی کے ساتھ ٹھیک طرح سے تشکیل پائے۔ آج ہمارا معاشرہ بنیادی طور پر اسی لئے بگاڑ، فساد اور عدم توازن کا شکار ہے کہ اُس میں والدین اور اولاد کے باہمی حقوق میں اسلامی تعلیمات پر عمل کا عنصر مفقود ہوتا جا رہا ہے۔ والدین اولاد سے نالاں ہیں اور اولاد والدین سے شاکی ہے۔ والدین شروع میں اسلامی تعلیمات کے مطابق اپنی اولاد کی ٹھیک طرح سے تربیت نہیں کر پاتے، جس کے نتیجے میں بڑی ہو کر اولاد ماں باپ کو آنکھیں دکھاتی اور اُن کے گلے پڑتی ہے، جس کی وجہ سے بڑھاپے میں اپنی نوجوان اولاد سے طویل عمر سے وابستہ والدین کی امیدیں اپنا دَم توڑنے لگتی ہیں اور والدین کی زندگی اجیرن ہو جاتی ہے۔

اسلامی نقطہ نظر سے سب سے پہلے تو والدین پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بچپن میں اپنی اولاد کی اچھی تربیت کریں، اُن کو اعلیٰ دینی و دُنیوی تعلیم دلوائیں، اُن کو اخلاق و آداب سکھائیں اور اُن کو دین و ملت کی خدمت کے لئے تیار فرمائیں تاکہ وہ آنے والے وقت میں معاشرے کی فلاح و بہبود اور اس کی صلاح و فلاح میں اپنا کردار ادا کریں اور بڑھاپے میں اپنے والدین کے لئے سہارا بن سکیں۔ اسی طرح نوجوان اولاد پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ان کے والدین نے بچپن میں جو اعلیٰ تعلیم و تربیت اور اچھے اخلاق و آداب سے آراستہ کر کے انسانی معاشرے کی تعمیر و ترقی اور بڑھاپے میں اپنا سہارا بننے کے لئے محنت کی ہے اس میں وہ اچھا کردار ادا کر کے اپنے والدین اور اساتذہ کی محنت کا عملی ثبوت پیش کریں۔

حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم نے ارشاد فرمایا کہ ساتویں روز بچے کا عقیقہ کرنا چاہیے اور اس کا نام رکھنا چاہیے اور اس کے سر کے بال مونڈھنے چاہئیں۔ پھر جب بچہ سات سال کا ہو جائے تو اسے ادب و تہذیب سکھلانی چاہیے۔ اسے نماز پڑھنے کا حکم دینا چاہیے۔ جب نو سال کا ہو جائے تو اس کی چار پائی الگ کر دینی چاہیے۔ جب دس سال کا ہو جائے تو اسے نماز نہ پڑھنے پر مارنا چاہیے۔ اور ایک روایت میں جب تیرہ سال کا ہو جائے تو اسے نماز نہ پڑھنے پر مارنا چاہیے۔ جب سولہ سال کا ہو جائے تو اس کے باپ کو چاہیے کہ اس کا نکاح کر دے۔ پھر اس کا ہاتھ پکڑے اور کہے کہ میں نے تجھے ادب سکھایا، تیری تعلیم و تربیت کی اور اب تیرا نکاح کیا، اب میں دُنیا میں تیرے فتنے سے اور آخرت میں تیرے عذاب سے پناہ مانگتا ہوں۔ رسول کریم نے فرمایا کہ باپ پر اولاد کا حق ہے کہ وہ ان کو تہذیب سکھائے۔ ایک جگہ دُعا دیتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ رحم فرمائے اس باپ پر جس نے اپنی اولاد کی نیک کاموں میں مدد کی۔ ایک جگہ فرمایا کہ ایک شخص کا اپنی اولاد کو ادب سکھانا ساڑھے تین سیر غلہ یا کھجوریں وغیرہ صدقہ کرنے سے بہتر ہے۔ ایک جگہ فرمایاکہ ایک باپ کا اپنے بیٹے پر ادب سکھانے سے بڑھ کر اور کوئی احسان نہیں ہے۔ (جامع ترمذی)

اس کے برعکس اولاد کے ذمے بھی اپنے والدین کے کچھ حقوق ہیں ان کو پورا کرنے کی بھی قرآن و حدیث میں بڑی تاکید آئی ہے۔ چنانچہ ایک مرتبہ ایک صحابی ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل کیا ہے؟ آپ نے فرمایا نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا۔ صحابی ؓنے عرض کیا اس کے بعد؟ فرمایا والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا۔ صحابی ؓ نے عرض کیا اس کے بعد؟ فرمایا اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔ (بخاری و مسلم)۔ ایک مرتبہ ایک شخص نے رسول کریم سے جہاد میں جانے کی اجازت طلب کی تو آپ نے پوچھا کہ تیرے والدین زندہ ہیں؟ اس نے عرض کیا جی ہاں زندہ ہیں! آپ نے فرمایا ان ہی کی خدمت کر کے جہاد کا ثواب کمایئے! (بخاری و مسلم)ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ والدین کا اولاد پر کیا حق ہے؟ تو آپ نے فرمایا کہ وہ دونوں تیری جنت اور جہنم ہیں (یعنی ان کے ساتھ حسن سلوک سے جنت ملتی ہے اور بد سلوکی سے جہنم میں جانا پڑے گا) (سنن ابن ماجہ)۔ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ میں ہجرت کی بیعت کرنے آیا ہوں۔ جب میں چلا تھا تو ماں باپ کو روتا ہوا چھوڑ کر آیا تھا۔ حضور نے ارشاد فرمایا کہ فوراً واپس جاو¿ اور انہیں جس طرح رلایا ہے اس طرح انہیں ہنساو¿! (سنن ابوداو¿د)۔ ایک مرتبہ ایک صحابی ؓ نے عرض کیا یارسول اللہ میں جہاد میں جانا چاہتا ہوں مجھے اجازت دیجئے! آپ نے پوچھا تمہاری ماں زندہ ہے؟ عرض کیا جی ہاں زندہ ہے! فرمایا اسی کے پاس رہیے کہ جنت ماں کے قدموں کے نزدیک ہے۔ (سنن نسائی) اور ایک روایت میں ہے کہ ماں باپ کے پاو¿ں کے نیچے جنت ہے۔ (معجم طبرانی)

حافظ ابونعیمؒ وغیرہ نے حضرت طاو¿سؒ سے نقل کیا ہے کہ ایک آدمی بیمار ہو گیا، اس کے ہاں اس کے چار لڑکے تھے، ان میں سے ایک لڑکے نے اپنے بھائیوں سے کہا کہ یا تم میں سے کوئی والد کی خدمت کرے اور حق وراثت سے محروم ہو جائے، یا پھر یہ کام میں کر لوں اور حق وراثت چھوڑ دوں۔ بھائیوں نے کہا کہ تو ہی والد کا علاج معالجہ کر اور حق وراثت سے محروم ہو جا۔ چنانچہ اس نے والد کی خدمت اور اس کا علاج معالجہ کرنا شروع کر دیا، مگر وہ جانبر نہ ہو سکے اور اسی بیماری کی حالت میں ان کا انتقال ہو گیا۔ والد کے انتقال کے بعد تینوں بیٹے وراثت کے حق دار بن گئے اور یہ محروم رہ گیا۔ کچھ دنوں بعد اس لڑکے کو والد خواب میں آئے اور کہا:” فلاں جگہ جاو ¿اور وہاں سے سو دینار لے لو“ لڑکے نے پوچھا: ”کیا ان میںبرکت ہو گی؟“والد نے کہا: ”نہیں!“جب صبح ہوئی تو لڑکے نے اپنا خواب بیوی کے سامنے بیان کیا، بیوی نے ان کے لینے پر اصرار کیا اور کہا کہ کم از کم اس سے اتنا تو فائدہ ہو گا کہ کپڑے اور کھانے پینے کا کچھ سامان مہیا ہو جائے گا، مگر لڑکے نے بیوی کی ایک نہ سنی۔ جب اگلی رات آئی تو پھر یہی خواب نظر آیا، والد نے کہا:”فلاں جگہ جاو¿! اور وہاں دس دینار رکھے ہوئے ہیں لے لو“ لڑکے نے پھر وہی سوال دہرایا کہ ان میں کچھ برکت بھی ہو گی یا نہیں؟والد نے اس بار بھی نفی میں جواب دیا اور کہا کہ کچھ بھی برکت نہیں ہو گی۔ صبح لڑکے نے پھر یہ خواب بیوی سے بیان کیا اور بیوی نے پھر یہی مشورہ دیا کہ لے آو¿ کچھ تو سہارا مل جائے گا، مگر اس بار بھی لڑکے نے بیوی کی بات نہ مانی۔ تیسری رات پھر یہی خواب لڑکے نے دیکھا کہ والد کہہ رہے ہیں کہ فلاں جگہ جاو¿! اور وہاں صرف ایک دینار رکھا ہوا ہے لے لو، لڑکے نے پھر وہی سوال دہرایا کہ اس میں کچھ برکت بھی ہو گی یا نہیں ؟والد نے کہا: ہاں! اس میں برکت ہو گی، جب صبح ہوئی تو لڑکا اس مقررہ جگہ پر پہنچ گیا اور وہاں سے وہ ایک دینار اٹھا لایا، دینار لے کر جب وہ بازار کی طرف گیا تو اس کو ایک شخص ملا جس کے پاس دو مچھلیاں تھیں اور وہ انہیں بیچنا چاہتا تھا، لڑکے نے ان کی قیمت معلوم کی تو اس نے ان دونوں کی قیمت ایک دینار بتلائی، لڑکے نے ایک دینار میں وہ دونوں مچھلیاںخرید لیں اور گھر لے آیا۔ جب ان کو صاف کرنے بیٹھا اور ان کا پیٹ چاک کیا تو ان دونوں مچھلیوں کے پیٹ سے ایک ایک قیمتی موتی برآمد ہوا، اتفاقاً اس وقت بادشاہ کو ایک قیمتی موتی کی سخت ضرورت پیش آگئی، جب تلاش کیا گیا تو اس لڑکے کے علاوہ ایسا قیمتی موتی کہیں سے بھی برآمد نہ ہو سکا، بادشاہ نے وہ موتی اس لڑکے سے بیس وقرسونے کے عوض خرید لیا اور اسے اس کا کثیر معاوضہ ادا کر دیا۔ بعد میںبادشاہ کے حاشیہ¿ خیال میں یہ بات آئی کہ یہ موتی اپنے جوڑے کے بغیر اچھا معلوم نہیں ہوتا اس لئے اس کا جوڑا بھی تلاش کیا جائے۔ چنانچہ اس نے اپنے کارندوں کو حکم دیا کہ ایسا ہی ایک اور موتی تلاش کر کے لاو¿ چاہے وہ دوگنی قیمت پر ہی دستیاب کیوں نہ ہو سکے۔ چنانچہ شاہی کارندے اس کی تلاش میں پھرتے پھراتے دوبارہ اسی لڑکے کے پاس آپہنچے اور اس سے اس موتی کے جوڑے کا پوچھا اور کہا وہ ہمیں ہر حال میں لے جانا ہے، چاہے دوگنی قیمت پر ہی کیوں نہ مل سکے، لڑکے نے دوگنی قیمت پر معاملہ طے کرکے وہ دوسراموتی بھی ان کے ہاتھ فروخت کر دیااور پیسوں سے مالامال ہو گیا۔(نقوشِ رفتہ گاں: جلد اوّل)

٭٭٭


ای پیپر