خورشید شاہ کی کرپشن کی عجب کہانی ،رفاہی پلاٹ پر60ملین سے گھر کی تعمیر
01 اکتوبر 2019 (19:06) 2019-10-01

سکھر:آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں احتساب عدالت نے پیپلز پارٹی کے رہنماسید خورشیدشاہ کومزید 13روز کے لیے نیب کے حوالے کرتے ہوئے حکم دیاکہ14اکتوبر کو دوبارہ پیش کیاجائے ،پیشی کے موقع پر خورشید شاہ کے وکلا اور نیب پراسیکیوٹر میں سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہوا، خورشید شاہ کے وکیل رضا ربانی نے ایک موقع پر نیب پراسیکیوٹر کے خلاف ہائی کورٹ میں جانے کا اعلان بھی کیا۔

نیب نے بتایا کہ خورشیدشاہ کا گھر رفاہی پلاٹ پر بنا ہوا ہے اور ان کا گھر 60 ملین روپے کی لاگت سے بنا، گھر کی تعمیرآمدن سے زائد اثاثہ جات کی مد میں آتی ہے۔نیب کی جانب سے بتایاگیا کہ خورشید شاہ خاندان کے 10 بینک اکاﺅنٹس ہیں اور ان بینک اکاﺅنٹس میں کروڑوں روپے کی ٹرانزیکشنز ہوئی ہیں، خورشید شاہ کی بے نامی بہت ساری جائیدادیں ہیں۔

نیب نے احتساب عدالت سے15 دن کے مزید ریمانڈ کی استدعا کی ،جس پرخورشید شاہ کے وکیل مکیش کمار نے اپنے دلائل میں کہا کہ خورشید شاہ کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے، ہائی کورٹ پہلے ہی ان الزامات سے خورشید شاہ کو بری کرچکی ہے.

وکیل مکیش کمار نے کہا 500 ارب سے کہانی شروع ہوئی جواب 4 پلاٹس پر رک گئی ہے، باہر سے نیب افسران کو سکھرلا کر صرف ہراساں کیا جارہا ہے۔وکیل نے کہاکہ نواز دور حکومت میں بھی خورشید شاہ کا احتساب ہوا، دوسرا احتساب مشرف دور میں شروع ہوا، اب میرے موکل کا یہ تیسرا احتساب کا عمل شروع ہواہے، انشااللہ اس بار بھی آپ کی عدالت خورشید شاہ کو باعزت بری کرےگی۔


ای پیپر