کشمیرکے سفیر نہیں وکیل بنیں
01 اکتوبر 2019 2019-10-01

پچھلی دفعہ کشمیر کے بارے میں ذکرکرتے ہوئے میں یہ بتا رہا تھا کہ وادی کشمیر کے موسم، اور وہاں کے پھلوں اور پھولوں کے بارے میں مغلیہ بادشاہ ظہیرالدین بابر کہتے ہیں ، کہ صرف سوات، اور کشمیر کو دیکھ کر انہیں اپنا سمرقندوبخارا یاد آگیا ، اور میں یہ بات پوری دیانت داری سے کررہا ہوں ، کہ میرے وطن اور یہاں کے پھلوں میں کوئی فرق نہیں ، اور وہ ایک جیسے ہیں، تاہم ہندوستان کی آب وہوا بالکل مختلف ہے، اس میں وبائی امراض اور ہوا میں کثافت پائی جاتیہے، اور ایسی نامناسب آب وہوا دنیا کے کسی اور ملک میں میں نے نہیں دیکھی۔ بابر بادشاہ کہتے ہیں کہ ہندوستان میں مجھے لطائف کی کمی کا بہت احساس ہوا، یہاں کے لوگ کچھ خوبصورت بھی نہیں ہیں، اور نہ ملنے جلنے کے آداب ہی سے واقف ہیں، ان کے ذہن بھی بہت پست ہیں، محبت خلق اور وضع داری میں بھی بہت کورے ہیں۔ یہ ہندوستان جس کی مجھے بادشاہت نصیب ہوئی ہے، بہت وسیع اور آباد ملک ہے، اس کے مشرق جنوب بلکہ مغرب کے ایک حصے تک سمندر ہی سمندر ہے، شمال میں کوہ ہمالیہ ہے، جس سے کوہ ہندوکش کوہستان ، کافرستان اور کشمیر ملحق ہیں۔

اس کا سب سے اہم شہر دہلی ہے، سلطان شہاب الدین غوری سے لے کر فیروز شاہ تغلق تک سارے بادشاہ سارے ہندوستان ، پہ یہیںسے حکومت کرتے تھے میرے ہندوستان پہ قبضے کے وقت وہاں پانچ مسلمان اور صرف دوہندوراجے یہاں کے حکمران تھے۔ مسلمان بادشاہ لودھی پٹھان تھے، ہندوستان ہمارے لیے بالکل اجنبی کا درجہ رکھتا ہے اس کے پہاڑ، اس کے جنگل اس کے دریا، حتیٰ کہ اس کی جانور نباتات تک ہمارے ہاں کی نباتات سے بالکل مختلف ہیں، یہاں تک کہ ان کے زبان بھی الگ ہے، اور اس کی آب وہوا بھی ہماری آب وہوا سے کوئی بھی میل نہیں کھاتی۔ جب بھی ہم دریائے سندھ کو عبور کرکے اس ملک میں داخل ہوتے ہیں تو ہرچیز مختلف دکھائی دیتی ہے۔

اس کے پہاڑ پہ جو لوگ آباد ہیں وہ پہاڑ ”کشمیر“ سے لے کر بنگالہ تک چلا گیا ہے اس پہاڑ کے شمال میں تبت، اور جنوب میں ہندوستان واقع ہے، اور ہندوستان کے اکثر دریاﺅں کے منبع کشمیر کے پہاڑوں سے نکلتے ہیں، اور یہیں موجود ہیں جن میں سندھ سب سے بڑا دریا ہے، اس کے بعد چناب، جہلم ، راوی، بیاس اور ستلج ہیں، اور یہ کشمیر سے نکلنے والے تمام دریا ملتان کے قریب ایک دوسرے سے مل جاتے ہیں، اور وہاں سے سندھ کا نام پاکر سب آپس میں مل جاتے ہیں۔ دہلی، آگرہ اور بیانسہ میں زیادہ تر ”چرس“ کا استعمال عام ہے ۔یہاں کے شہر غلیظ ہیں، یہاں کے باغوں کے اردگرد دیواریں بھی نہیں بنائی جاتیں یہاں کے شہر پانی کی موجودگی کی وجہ سے جلد آباد اور جلد ویران ہوجاتے ہیں، قارئین اسی کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مودی کبھی پانی اپنے ڈیموں کے طفیل بند کردیتا ہے، اور برسات اور سیلاب کے دنوں میں پاکستان کے دریاﺅں میں پانی چھوڑ دیتا ہے۔ خطرے کے وقت یہاں کی آبادیوں کے باشندے، اس طرح سے بھاگ جاتے ہیں کہ اپنے پیچھے کچھ بھی نہیں چھوڑ جاتے۔ بہرحال ہندوستان میں مجھے لطائف کی کمی کا بہت ہی شدت سے احساس ہوا، یہاں کے لوگ خوبصورت بھی نہیں ہیں، یہ ملنے جلنے کے آداب کے علاوہ ذہن بھی بہت پست رکھتے ہیں۔

قارئین کرام، ہندوستان پر ڈھائی صدیاں حکومت کرنے والا بادشاہ ہندوستان کی کس خوبصورتی سے تصویر کشی کرتا ہے، کہ اتنا عرصہ گزرجانے کے بعد بھی اس میں سرموفرق نہیں پڑا۔ ظہیرالدین بابر کے بقول یہ ہندوستانی مروت، اخلاق سے بالکل عاری ہوتے ہیں، عموماً یہاں کے شہر بہت غلیظ ہوتے ہیں، نہ تو یہاں حمام ہیں، اور نہ ہی یہاں مدرسوں کا رواج ہے، گھروں میں شمعیں اور شمع دان بھی استعمال نہیں کرتے، ان کے ہنرمند بھی اور ان کی تربیت بھی موزوں نہیں ۔ یہاں کا گھوڑا اچھا نہیں ہوتا، اور اس کا گوشت بھی مزیدار نہیں ہوتا، قارئین اب آپ خود اندازہ لگالیں، ہندوستان کی کوئی بھی چیز اچھی نہیں تو وہاں اس ماحول میں رہنے والوں کے ذہن کیسے اچھے ہوسکتے ہیں؟ آگے لکھتے ہیں کہ نہ تو یہاں کے انگور اچھے ہوتے ہیں، نہ ہی خربوزے اور نہ کوئی اور پھل، بازاروں میں بکنے والی روٹی بھی خراب ہوتی ہے، اور یہاں کا سالن بھی مزے کا نہیں ہوتا۔ ہندوستان کی بس ایک ہی خوبی ہے کہ بہت وسیع ملک ہے، اس میں سونے چاندانی کی بہتات ہے، برسات کے دنوں میں چلنے والی ہوا بہت لطف دیتی ہے نہ یہاں کی عمارتیں ہوا دار ہوتی ہیں، اور نہ ان کا نقشہ اچھا ہوتا ہے۔ برسات کے دنوں میں تو کبھی تو ایک دن میں پندرہ بیس دفعہ بارش ہو جاتی ہے، برسات کے دنوں میں جل تھل ہوجاتا ہے، جہاں پہلے پانی کی بوند نہیں ہوتی، وہاں ندی نالے بہنے شروع ہو جاتے ہیں۔

برسات میں تو کتابیں کپڑے دیگرسامان حتیٰ کہ تیر بھی بے کار ہو جاتے ہیں اور سیلابے جاتے ہیں، برسات کے دنوں کے علاوہ دیگر موسم میں بعض اوقات تیز ہوا، آندھی اور طوفان کا رخ اختیار کرلیتی ہے۔ ایک جگہ وہ بتاتے ہیں، کہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے مجھے ہندوﺅں پر ایسی مکمل فتح عطا کی، دشمن ہارکر بھاگا تو ہم اس کے تعاقب میں آگے کوچلے ، اس کی چھاﺅنی پہ قبضے کے بعد چھاﺅنی میں پہنچا، تو ایک منجم نے غلط اور بے ہودہ پیشین گوئی کی تھی اور مبارک بادی کے لیے وہ حاضر خدمت ہوا، میں نے اسے سخت سست کرکے بہت سنوائیں، خلا کی تسخیر کے لیے راکٹ کی ناکامی کا بھی مودی نے نجومیوں سے پوچھا تھا،لیکن چونکہ یہ دربار کا مستقل ملازم تھا، لہٰذا میں نے اسے ایک لاکھ دے کراسے حکم دیا، کہ وہ میری قلمروسے فوراً نکل جائے، اس کے علاوہ قارئین بابر بادشاہ نے ایک کارنامہ سرانجام دیا، جس سے حضور خاتم النبیین کا دل خوش ہوگیا ہوگا، ان شاءاللہ اگلے کالم میں لکھوں گا، مسئلہ کشمیر کے بارے میں ۔

سردست تو ہماری وزیراعظم عمران خان سے یہ گزارش ہے ، کہ وہ سعودی عرب، اور عالم اسلام کے مفتیان، فقہان وعلماءکرام سے کشمیر کے بارے میں جہاد کا فتویٰ ضرور لے لیں، اس کا اثر اقوام متحدہ میں منفی نہیں مثبت ہوگا کہ میں نے قوم کومقبوضہ کشمیر داخل ہونے سے منع کیا ہوا ہے ورنہ قوم اپنے بھائیوں کو بچانے پر مجبور ہوجائے گی ۔مفتی صاحبان جہاد کی کوئی تاریخ تو نہیں دیں گے، مگر تیاری تو واجب ہو جائے گی مگر سترسال کی تاریخ میں یہ پہلی دفعہ ہے کہ افواج پاکستان کا بجٹ کم کردیا گیا ہے اور یہ فوج کے سپہ سالار کی مرضی سے ہوا جبکہ مودی نے فوج کا بجٹ کئی گنا بڑھا دیا، شاید مسلمانوں کی جگہ مودی جہاد کو استعمال کررہا ہے۔ جب کہ ہمیں اپنے یکتا وتنہا اللہ عزوجل پہ بقول شاعر نسبت ونسب سید مظفر علی شاہ

گمان ہستی یزداں یقیں میں موڑ ہی دیں گے

دردودیوار کعبہ پر سروں کو پھوڑ ہی دیں گے

بہت الزام رکھے ہیں تری نگری کے لوگوں نے

ارادہ ہوگیا اپنا ، اسے اب چھوڑ ہی دیں گے

بھلا صیاد کب تک تو ہمیں محبوس رکھے گا

بہ فیض صبح آزادی سلاسل توڑہی دیں گے

امیر شہر اب تیرے مظالم بڑھ چلے حد سے

ہم ان سوئے ہوئے لوگوں کو اب جھنجھوڑ دیں گے


ای پیپر