تقریرکے دورُخ!
01 اکتوبر 2019 2019-10-01

وزیراعظم پاکستان عمران خان کی اقوام متحدہ میں کی جانے والی تقریر کو وسیع پیمانے پر سراہا جارہا ہے، اِس ضمن میں سوشل میڈیا پر میں نے اُن لوگوں کی تحریریں بھی پڑھیں جو خان صاحب کی ہراچھی بُری پالیسی پر تنقید کرنے کو باقاعدہ ”کارِ ثواب“ سمجھتے ہیں، اُنہوں نے بھی اقوام متحدہ میں کی جانے والی تقریر کو بے حد سراہا، وزیراعظم عمران خان کو اپنی پارٹی کے کچھ رہنما یا کارکن جو پچھلے کچھ عرصے سے اُن کی کچھ پالیسیوں سے خاصے ناراض دیکھائی دے رہے تھے اِس تقریر نے وزیراعظم کے ساتھ اُن کی محبت کو دوبارہ جگا دیا ہے، حتیٰ کہ پی ٹی آئی کی مخالفت سیاسی جماعتوں کے کچھ مخلص کارکن اور رہنما بھی اِس تقریر سے بڑے متاثر دیکھائی دے رہے ہیں، .... سوشل میڈیا پر اِس حوالے سے بڑے مزے مزے کے تبصرے پڑھنے کو مِل رہے ہیں۔ ایک وقت تھا عام آدمی کو کسی بھی معاملے میں اپنی رائے یا اپنے جذبات کے اظہار کا کوئی فورم میسر نہیں تھا، یہ کمی سوشل میڈیا نے پوری کردی۔ اب ہر شخص اپنی فیس بک وال پر اپنی رائے کا اظہار کرکے جی ہلکا کرلیتا ہے، ....اقوام متحدہ میں وزیراعظم کی تقریر پر بے شمار لوگوں نے اپنے اپنے انداز میں اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے،اِس تقریر کی ”تصویر“ کے دونوں رُخ بڑے سلیقے اوردلائل کے ساتھ پیش کیے جارہے ہیں، میں بھی اِس پر اپنے جذبات تفصیل سے عرض کروں گا، پہلے ذرا میرے دوعزیزوں کے جذبات ملاحظہ فرمالیں، مجھے نہیں معلوم یہ تحریریں جو اپنی فیس بک وال پر اُنہوں نے پوسٹ کیں اُن کی اپنی ہیں یا نہیں؟ مگر ان تحریروں سے اُن کے جذبات کی عکاسی ضرور ہورہی ہے۔ میرے ایف سی کالج کے شاگرد عزیز حمزہ صدیق بٹ کے مطابق”اقوام متحدہ میں کسی پاکستانی سیاستدان کی سب سے مشہورتقریر بھٹو صاحب کی تھی، جس میں جذبات بھی تھے، لفاظی بھی تھی، امن کا بھاشن بھی تھا اور کچھ کر گزرنے کی دھمکیاں بھی تھیں، ڈاکو منٹس پھاڑے گئے، اور بھٹو صاحب اجلاس چھوڑ کر چلے گئے۔ مگر اس کا نتیجہ صفر نکلا، ....اِسی اقوام متحدہ کے فورم پر جنرل ضیاءالحق نے تقریر کی جسے پاکستانی میڈیا نے تاریخی تقریر قرار دیا، اُس موقع پر فرمایا گیا تھا ” جنرل نے عالمِ اسلام کی بہترین نمائندگی کی ہے، اور اقوام مغرب کو صحیح آئینہ دیکھایا ہے“ ۔....بے نظیر بھٹو میں دانش بھی تھی، وہ اعلیٰ درجے کی مقرر تھیں، اُنہوں نے بھی 1996ءمیں اقوام متحدہ کے فورم پر ایک انتہائی خوبصورت تقریر کی، مگر نتیجہ کچھ نہ نکلا، آپ پاکستان سے اگر باہر نکلیں اور ایک نظر ان تقریروں پر ڈالیں جو اقوام متحدہ میں یاسرعرفات سے لے کر احمدی نژاد، صدام حسین، ہیوگوشاویز اور فیڈرل کاسترو نے کی ہیں، اِن کی افادیت اور اثرات کیانکلے؟ حقیقت یہ ہے اصلی خارجہ پالیسی اور عالمی فورمز پر کی جانے والی جذباتی تقریروں میں بڑا فرق ہے، مثال کے طورپر وزیراعظم عمران خان نے فرمایا ” دنیا بھارت کے ساتھ تعلقات محض ٹریڈ کی بنیاد پر نہیں بلکہ اخلاقی بنیادوں پر قائم کرے، جس وقت وہ بات کررہے تھے اُس دن اُسی فورم پر پاکستان نے یمن کے مسئلے پر سعودی عرب کے حق میں ووٹ دیا، کیا یمن کا معاملہ اخلاقی نہیں؟ کیا یمن کے معاملے میں سعودی عرب کا ریکارڈ خراب نہیں؟۔....اسی طرح خان صاحب نے فرمایا کہ ”کشمیریوں کو بھارت نے محبوس بنایا ہوا ہے، اِس طرح کوئی جانوروں کو بھی قید نہیں کرتا، خان صاحب نے واقعی درست فرمایا ہے اور اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، مگر کیا یہ حقیقت نہیں یمن بھی چاروں اطراف سے محبوس ہے، یمنیوں پر زمین سے گولے پھینکے جارہے ہیں تو آسمان سے جہاز بمباری کررہے ہیں، خوراک کا وہاں شدید ترین بحران ہے، کیا پاکستان نے جب یمن کے معاملے میں سعودی عرب کو سپورٹ کیا تو ہماری اخلاقی پوزیشن قائم رہی ؟وہی اخلاقی پوزیشن جس کی طرف وزیراعظم نے مغربی دنیا کو متوجہ کرنے کی کوشش کی ؟ ۔جب چین میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں پر ہونے والے مظالم پر بات ہوتی ہے تو ہمارے وزیراعظم فرماتے ہیں اُنہیں اس بارے میں

معلومات نہیں ہیں، کیا چین کے معاملے میں ”سب ٹھیک ہے“ کی خارجہ پالیسی اور کشمیر کے معاملے میں اخلاقی جواز کی دُہائی خارجہ پالیسی میں ایسا تضاد نہیں جو دنیا میں ہمارے مو¿قف کی اخلاقی حیثیت کو مشکوک نہیں بنا دیتا ؟ یا ہم جو کریں وہ ٹھیک ہے اور وہی کچھ دوسرے کریں تو وہ ظالم ہیں ؟؟؟، حقیقت یہ ہے ہم معاملات کو بڑھا چڑھاکر پیش کرنے کے ماہر ہیں، دورنہ جائیں، جب گزشتہ دنوں خان صاحب کی ٹرمپ کے ساتھ ملاقات ہوئی تھی تو سوشل میڈیا پر ویسا ہی ماحول تھا جیسا اب ہے، ”خان صاحب نے خود کو منوالیا، خان صاحب چھا گئے، خان صاحب کی بلے بلے ہوگئی، یہ خان صاحب کی شخصیت کا اثر ہے کہ اب امریکی صدر ٹرمپ مسئلہ کشمیر پر ثالثی کرے گا وغیرہ وغیرہ“ ....۔مگر چند دنوں بعد یہ نتیجہ سامنے آیا کہ کشمیر کے مسئلے پر نہ امریکہ سے کوئی سفارتی مدد آئی، نہ وہ فنڈزاور امدادیں آئیں جن کے وعدے کئے گئے تھے ۔اب شاید کوئی احمق ہی اس دورے کو تاریخ ساز قرار دے گا، اُس دورے کی کامیابی کی دھول اب مکمل طورپر بیٹھ چکی ہے۔ حال ہی میں اقوام متحدہ میں کی جانے والی خان صاحب کی تقریر کے نتائج بھی ایسے ہی برآمد ہوں گے، آپ محض چند دنوں میں دیکھ لیں گے اس تقریر کے دنیا پر کیا اثرات مرتب ہوئے ؟۔ ....گزارش یہ ہے اپنی آنکھیں اور ذہن کھلے رکھیں، اور ان حالات وواقعات سے سیاسی شعور حاصل کریں۔ اور ہرایونٹ پر جسے میڈیا یا سوشل میڈیا بڑھا چڑھا کر پیش کرے اُس پرہیجان میں مبتلا ہوکر دیوانہ وار ناچنا نہ شروع کردیا کریں“....میرا خیال ہے ملک کے دووزیراعظم ہونے چاہئیں تقریروں کے لیے وزیراعظم عمران خان ہی بہترین ہے جبکہ ملک چلانے کے لیے کوئی اور ڈھونڈناچاہیے، ہماری تو دعا ہے جس طرح وہ تقریریں وغیرہ بہت اچھی کرکے لوگوں کو بلکہ اب تو پوری دنیا کو متاثر کر رہے ہیں اِسی طرح اپنی کچھ پالیسیاں تبدیل کرکے پاکستان اور اس کے محروم ومظلوم عوام کی زندگی کے معاملات میں بہتری لانے کے لیے بھی کوئی کردار ادا کریں، اقوام متحدہ میں زبردست تقریر کرکے خود کو عالمی سطح کے ایک لیڈر کے طورپر اُنہوں نے منوالیا اب ملکی معاملات میں بہتری لاکر ”قومی سطح کے لیڈر یا حکمران کے طورپر بھی خود کو وہ منوالیں تو اِس سے بڑھ کر پاکستان کی خوش قسمتی کیا ہوسکتی ہے؟ (جاری ہے)


ای پیپر