نجی اسکولوں کو اضافی وصول کی گئی فیسیں سپریم کورٹ میں جمع کرانے کا حکم
01 اکتوبر 2018 (19:07) 2018-10-01

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے نجی اسکولوں کو وصول کی گئی اضافی فیسیں سپریم کورٹ میں جمع کرانے کا حکم دےدیا.

سپریم کورٹ نے نجی اسکولوں کو اضافی فیسوں کی وصولی کے حوالے سے تمام عدالتوں میں جاری مقدمات کو یکجا کر کے سپریم کورٹ میں لگانے کا حکم بھی دیا۔پیر کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ترقی کرنا ہر شخص کا حق ہے۔جسٹس اعجازالحسن کا کہنا تھا کہ تعلیم کا شعبہ ٹیکسٹائل اور اسٹیل ملز سے مختلف ہے۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ٹیوشن سینٹرز اور ایئر کنڈیشنڈ اسکول تعمیر کر کے والدیں کو لوٹا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ جو والدین فیسیں ادا نہیں کر سکتے ان کے بچوں کو اسکول سے نکال دیا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں لوگوں نے تعلیم، لیڈرشپ اور جوڈیشل سسٹم کی بنیاد پر ترقی کی، آکسفورڈ اور ہارورڈ جیسی یونیورسٹیز بھی نجی شعبے میں بنائی گئی تھیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں بھی معیاری اور سستی تعلیم فراہم کرنے والی یونیورسٹیز کی ضرورت ہے، اور تعلیمی ریفارمز کے حوالے سے ہم قوم کو تحفہ دیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ملک میں ہر بچے کے لیے یکساں تعلیم اور یونیفارم پالیسی کا تحفہ دینا چاہتے ہیں اس حوالے سے لا اینڈ جسٹس کمیشن نے کام مکمل کر لیا ہے۔

سپریم کورٹ نے نجی اسکولوں کی جانب سے زائد وصول کی گئی فیسیں جمع کرانے کا حکم دیا اور اس حوالے سے تمام عدالتوں میں جاری مقدمات کو یکجا کر کہ سپریم کورٹ میں لگانے کا حکم دےدیا۔بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔


ای پیپر