سندھ میں لسانی فسادات کی بو
01 اکتوبر 2018 2018-10-01

سندھ اسمبلی میں پیپلزپارٹی اور اپوزیشن دونوں ایک دوسرے کے اعصاب اور قوت برداشت آزما رہے ہیں۔ تحریک انصاف حکومت نے پیپلزپارٹی کو کھیلنے کے لئے کالاباغ ڈیم اور غیرقانونی مقیم تارکین وطن کو پاکستانی شہریت اور قومی شناختی کارڈ جاری کرنے کے اعلانات کے اشو بنا کر دیئے۔ بجٹ اجلاس میں بجٹ کے بجائے سیاسی تقریر کیں۔ اور ایک دوسرے پر الزامات عائد کئے ۔ سندھ کوئی عالمی یتیم خانہ نہیں کہ برمی بنگالی و افغانی یہیں پر آکر آباد ہوں۔ کالاباغ ڈیم و دوسرے مجوزہ ڈیموں اور غیرملکیوں کو پاکستانی شہریت اور قومی شناختی کارڈ کے خلاف ایوان میں گرمی موجود تھی کہ معاملہ سیاست سے ہٹ کر لسانیت کی طرف چلا گیا۔ ایم کیو ایم کے محمد حسین نے کہا کہ دیہی علاقوں سے منتخب ہو کر آنے والے شہری علاقوں سے انصاف نہیں کرتے۔ کراچی پورے ملک کو پالتا ہے۔ سندھ کو پالنے والے کراچی کو پانی نہیں دیا جارہا۔ کراچی کو سندھ حکومت کچھ دینے کے لئے تیار نہیں۔ سابق صوبائی وزیر داخلا سہیل انور سیال اردو بولنے والوں کو ٹارگیٹ بنایا۔ سندھی جان دینا جاتے ہیں تو جان لینا بھی جانتے ہیں۔ چار وز بعد کراچی اور حیدرآباد میں سندھیوں کے خلاف وال چاکنگ نظر آئی۔ اور جوابا ویسی وال چاکنگ مہاجروں کے خلاف بھی کی گئی۔ 
اس خطرے کو بھانپتے ہوئے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے سہیل انور سیال کی تقریر کا نوٹس لیا اور برہمی کا اظہار کیا۔معاملہ اتنا حساس تھا۔ بلاول بھٹو اسلام آباد سے کراچی آئے اور انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ سے ملاقات کی ۔ اور معاملے کی حساسیت سے آگاہ کیا۔وزیرعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بجٹ پر بحث کو سمیٹتے ہوئے ان تقاریر کا حوالہ دیا۔ انہوں نے اپوزیشن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ واحد صوبہ ہے جس کی اسمبلی میں پاکستان کی ہر زبان بولنے والے بیٹھے ہیں، میں اپنے اراکین کی طرف سے خود معافی مانگتا ہوں۔ ہمیں اپنے اندر برداشت کا مادہ پیدا کرنا ہوگا، میں خود ہجرت کر کے آیا ہوں میرے بڑے ہجرت کرکے آئے ہیں سندھ نے ہمیں اپنا کہا ہم سندھی ہوگئے، آپ بھی سندھ کو اپنائیں۔انھوں نے کہا کہ قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی کو سندھ کے لوگوں نے عزت دی،ا ب وہ بھی سندھی سیکھیں اور کوشش کریں کہ سندھ اسمبلی کا ماحول آگے خراب نہ ہو۔ صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ سید ناصر شاہ نے وضاحت کی کہ سہیل انور سیال جذبات خطابت میں کچھ آگے نکل گئے۔ صوبائی وزیر زراعت محمد اسماعیل راہو نے کراچی میں سندھیوں کے خلاف دیواروں پر وال چاکنگ کرنے والوں کے خلاف ردعمل دیتے ہوئے کا ہے کہ کراچی میں دیواروں پر سندھیوں کے خلاف وال چاکنگ کرنے کی پرزور مذمت کی اور کہا کہ سندھی اور مہاجر آپس میں بھائی ہیں۔ پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ہمارے آنے سے سب سے زیادہ فائدہ مہاجروں کو ہوا ہے مہاجروں کو ایک شخص سے جوڑ دیا گیا جس سے ہم نے علیحدہ کر کے مہاجروں کی اصل شناخت بحال کرائی آج شہر میں لاشیں نہیں ملتیں، شہداء قبرستان مزید آباد نہیں ہو رہا، مہاجر اپنے گھروں پر سو رہے ہیں۔
ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی نے پرانے زخم ہرے کر دیئے ہیں۔ غیر ذمہ دارانہ جملے خواہ کوئی بھی بولے نقصان سندھ کے لوگوں کا ہے۔ تیس سال قبل تیس ستمبر کو سانحہ حیدرآباد ہوا اور دوسری رات یکم اکتوبر کو سانحہ کراچی۔ یہ دونوں دن سندھ کی تاریخ کے سیاہ ترین باب کے طور پر لکھی جائیں گے۔ تیس ستمبر 1988 کی شام کو حیدرآباد شہر میں کاروں اور موٹر سائیکلوں پر سوار مسلح افراد کی اندھا دھند فائرنگ کی جس میں 250 افراد جاں بحق اور 500 زخمی ہوئے تھے۔ یکم اکتوبر کو کراچی میں سندھی بستیوں کو ٹارگیٹ کیا گیا۔ جس میں درجنوں افراد قتل و زخمی ہوئے۔ حکومت نے کراچی اور حیدرآباد میں فوج طلب کرلی اورکرفیو ناٖفذ کردیا۔ سندھ کی دو لسانی آبادیوں میں کشیدگی اور پرتشدد واقعات جون 1988 سے ہو رہے تھے۔ اس سے پہلے مارچ 1983 میں جب ایم کیو ایم بلدیاتی انتخابات جیت کرآئی توسندھ کے ترقی پسند اور کسان رہنما کامریڈ حیدربخش جتوئی کے نام سے منسوب شہر کے گاڑی کھاتہ میں واقع حیدر چوک کا نام تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی، اور کچھ قابل اعتراض وال چاکنگ کی گئی تھی۔ 
عجیب بات ہے کہ 80 کے عشرے میں بھی ماہ ستمبر اور اکتوبر میں خونریزی ہوئی تھی۔ لسانی ب بنیادوں پر پرتشدد واقعات نے کراچی شہر کو لپیٹ میں لے لیا۔ اورمعاملہ دہشتگردی تک جا پہنچا۔ 
سوشل میڈیا پر بھی خطرے کا الارم بج گیا۔ اور گرما گرم بحث چھڑ گئی ہے۔ سندھ کے اہل دانش حلقوں میں تاثر پایا جاتا ہے جس کا اظہار مین اسٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا دونوں پر کیا جارہا ہے کہ آج کے مقتدرہ قوتوں کا تکون ایک پیج پہ ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری بھی کہتے ہیں فوج اور عدلیہ حکومت کی پشت پر کھڑے ہیں۔ سیلکیڈ وزیراعظم کو مصنوعی طریقے سے جتنی شہرت دی گئی اس کے نقصانات کا اندازہ اسٹیبلشمینٹ کو اب شاید اچھی طرح ہونے لگا ہے جب اس وقت سندہ اور پنجاب میں عمران خان کی حکومت اور اس کو سپورٹ کرنیوالے اداروں کے خلاف نفرت، غم و غصہ سڑکوں پہ آیا گیاہے۔دانشور اور حقوق کی ایکٹوسٹ امر سندھو سوشل میڈیا پر لکھتی ہیں کہ جہاں اسٹبلشمنٹ کی یہ تینوں طاقتیں ایک پیج پہ ہیں وہاں سندھ کا سیاسی و سماجی شعور بغیر کسی سیاسی جماعت کے فرق کے ایک سڑک پہ اس ’’نئے پاکستان ‘‘کے خلاف احتجاج میں ہے۔ سندھ کی زبان سنیں تو۔ پسینہ آنے لگتا ہے کہ اب سندھ کی دس سالہ خاموشی اچانک اس طرح پھر سے سیاسی طور مزاحمتی شکل میں سامنے آ رہی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعے سندھ کے عوام کو پھر سے لسانی آگ میں دھکیلا جائے۔ اسمبلی میں اپنے مہروں کو آگے کرنے کے باوجود مطلوبہ نتائج نہ آنے پہ اس قسم کی نعرے بازی شروع کردی ہے۔ لگتا ہے پھر سے کوئی تیس ستمبر یا پہلی اکتوبر کرا کے اس طوفان سے توجہ ہٹانا چاہتی ہے جو ڈیم کی چندہ مہم سے شروع ہو کر این ایف سی ایوارڈ اور اٹھارویں ترمیم پہ حملے کی صورت میں نازل ہونے والا ہے۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی کی طرف سے کوئی سنجیدہ ردعمل ظاہر کر کی بجائے گھٹیا فلموں جیسے ڈائلاگ پر مبنی نفرت آمیز تقریروں بھی دراصل عتاب میں آئی ہوئی اپنی گردن بچا کر سندھ کے عوام کو سستی پر خطرناک لسانی تصادم کے منہ میں دھکیلنا ہے ۔لہذا سندھ کے تمام باشندے (بشمو ل اردو اور سندھی بولنے والے) کو سستی جذباتیت کا شکار ہونے کی بجائے اپنی مزاحمتی سیاست سے مرکزی حکومت اور ’’نیا پاکستان‘‘ کا نعرہ لگانے والوں کے ان منصوبوں کو بے نقاب کرنا ہے جس میں صوبائی خود مختاری سے لیکر مالیاتی ایوارڈ بھی چھیننے کی کوشش کی جارہی رہی ہے۔ لسانی تصادم کسی صورت سندہ کے مفاد میں نہیں ، اس لئیے اس آگ میں حصہ لینے کی بجائے پیپلز پارٹی پریشر ڈالیں کہ عوام کو لسانی تصادم میں الجھانے بجائے مرکز سے پانی، مالیاتی ایوارڈ اور صوئی خودمختاری پہ پوزیشنیں اور عوام بھی سستے ڈرامے کا کردار بننے کے بجائے اپنے آئینی حقوق کے حصول پہ توجہ دے۔ 
ایک حلقہ اس خیال کا ہے کہ اس وقت پاکستان سخت معاشی بحران میں ہے۔ اب مستقل مفادات رکھنے والے سندھ میں جھگڑے کرواکر کراچی کی سندھ سے علیحدگی کرادی جائے جس کیلئے ایم کیو ایم کے بکھرے ہوئے ٹکڑے کام آئیں گے۔ اس طرح کراچی وفاق کا سبجیکٹ بنادیا جائیگا ۔یوں کراچی سے حاصل ہونے والا 70 فی صد ریوینیو وفاق کو چلا جائے گا اور سندھی اور اردو بولنے والے سندھی ہاتھ ملتے رہ جائیں گے اور ایک دوسرے سے دست و گریبان رہیں گے۔ 
گزشتہ دس سال تک ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی اقتدار میں شریک رہے ہیں۔ اب چونکہ معالہ کھل کر سامنے آگیا ہے۔ دونوں جماعتوں خواہ دونوں آبادیوں کو کو احتیاط اورہوش سے کام لینا چاہئے کہ کہیں کوئی اشتعال انگیزی کسی بڑے واقعہ کی شکل نہ اختیار کر لے اورواقعات سندھ کو 80 کے عشرے میں نہ دھکیل دیں۔


ای پیپر