نیازی عہد کی بے نیاز خارجہ پالیسی
01 اکتوبر 2018 2018-10-01

ایک آزاد ملک میں ہوتا یہ ہے کہ اس کی پارلیمان اس کی خارجہ پالیسی بناتی ہے۔ وزارت خارجہ اور دوسرے اداروں کے ذمہ ان کے فرائض سونپ دیتی ہے تاکہ وہ اس پر عمل کریں ۔گوسب سے بنیادی ذمہ داری وزارت خارجہ کی ہوتی ہے۔ مگر بدقسمتی سے پاکستان میں شروع سے ہی یہ کام نہیں ہوا۔ پتہ نہیں پاکستان کے اولین رہناوں نے کیا سوچ کر پاکستان کی خارجہ پالسیے بنائی تھی ۔ بہت جلد ہم دوسری جنگ عظیم کے بعد سرد جنگ میں امریکہ کے اتحادی بن گئے ۔
کہتے ہیں کہ پاکستان کے ایک وزیر خارجہ نے کیبنٹ کی منظوری کے بغیر سیٹو معاہدہ پر دستخط کر دئے ۔مگر دلچسپ بات یہ کہ کیبنٹ نے کبھی اس پر اعتراض نہیں کیا۔ اس کے بعد ایک زمانہ آیا کے فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے زمانے میں پاکستان نے امریکہ کو بڈبیڑ کے مقام پر ایک ہوائی اڈہ بھی دے دیا اور دنیا اور پاکستانی عوام کو اس ہوائی اڈہ کی اس وقت خبر ہوئی جب روس نے اس اڈہ سے جاسوسی کی غرض سے اڑنے والے ایک جہاز کو مار گرایا اور اس کے پائلٹ کو گرفتار کر لیا۔
اس سے پہلے کہ پا ک امریکہ تعلقات پر کچھ روشنی ڈالی جائے برطانوی ہند کی خارجہ پالسیے پر ایک نظر ڈالنا شائد چیزوں کو سمجھنے اور حالات کو جاننے میں مدد گار ثابت ہو سکے۔ برطانیہ دوسرے مغربی ممالک کر طرح دوسرے ملکوں کو غلام بنا رہا تھا۔ جب برطانیہ نے ہندوستان پر مکمل قبضہ کرلیا تو اسے محسوس ہوا کہ مغرب میں ایک طاقت ابھر رہی ہے جس کا نام روس ہے اور وہ وسطی ایشیا کی ریاستوں کو غلام بنا رہا ہے اور وہ وقت دور نہیں جب وہ ہندوستان کی طرف بھی پیش قدمی کر سکتا ہے۔اس لئے اس نے ایک طرف افغانستان کو اپنا غلام بنانے کی کوشش کی جس میں اس کی مکمل کامیابی نہیں ہوئی ۔
سب سے دلچسپ نظریہ جو آج بھی سرکاری نظریہ دانوں اور دانشوروں میں بہت مقبول ہے وہ یہ کہ روس ہندوستان/پاکستان کے ذریعہ گرم پانیوں تک رسائی حاصل کرنا چاہتا ہے۔انگرْیز چلا گیا مگر اس کی چھوڑی ہوئی نادرن کمانڈ نے جس کا ہیڈکواٹر راولپنڈی تھا اس نظریہ کو اپنے ایمان کا حصہ بنا لیا اور روس کو بلا جواز اپنا دشمن نبمر ایک قرار دے دیا۔ پاکستان اندا دھند برطانوی خارجہ پالیسی پر عمل کر رہا تھا مگر زمینی حقائق کسی اور بات کا تقاضہ کرتے تھے اس لئے جب ہمارے ہمسائے میں چین آزاد ہوا تو ہم نے اسے تسلیم کیا اور اس کے ساتھ خارجہ تعلقات قائم کر لئے ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ 
پاکستان نے کوریا کی جنگ میں کسی طرح سے بھی شمولیت سے انکار کر دیا۔ دوسری طرف شائد ان حقائق کا ذکر کرنا بھی مفید ہوکہ نہرو کے چین کے آزادی کے رہنماوں کے ساتھ ذاتی تعقات تھے۔کانگرس نے چین ایک ہیلتھ مشن بھی بھیجھا تھا جس کی سربراہی ڈاکڑ کٹسنں تھا جو وہاں مارا گیا جس کا ماٰو نے اپنے ایک مضمون میں ذکر بھی کیا۔جس پر ایک فلم بھی بنی تھی ’ڈاکڑ کٹنس کی امر کہانی‘۔
کہتے ہیں کہ پاک چین تعلقات بڑھانے میں حسین شہید سہروردی نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ پاکستان کی خوش قسمتی سے چین اور ہندوستان کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہو گئی اور خراب ہوتے ہوتے یہ جنگ کی صورت اختیار کر گئے۔جس میں بھارت کو ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا بڑا ۔اس کے بعد پاکستان اور چین بہت قریب آگئے۔جنرل ایوب نے چین کے ساتھ ایک سرحدی معاہدہ بھی کرلیا اور کہتے ہیں کہ چین کو گلگت کا کچھ علاقہ دے دیا۔ 1965کی جنگ کے بعد پاک امریکہ تعلقات میں وہ گرم جوشی نہیں رہی جو پہلے تھی۔پاکستان کا خیال تھا کہ امریکہ نے اس کی فوجی امداد روک کر اور اس کا ساتھ نہ دے کر اس سے دھوکہ کیا تھا۔اس کے برعکس امریکہ کا یہ نقطہ نظر تھا کہ اس کے معاہدے کمونزم کے خلاف ہیں۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ جنرل ایوب کے جانے کے بعد جنرل یحیےٰ نے چین اور امریکہ کو قریب لانے میں خفیہ سفارت کاری کی اور امریکی سیکریڑی خارجہ اسلام آباد سے اڑ کر چین گیا۔
جب مشرقی پاکستان پر جنرل یحیےٰ نے فوج کشی کی تو گو امریکہ پاکستان کو توڑنے کے خلاف تھا مگر پاکستان کے خیال میں اس نے پاکستان کی ہندوستان کے خلاف اس سطح پر مدد نہیں کی جہاں تک پاکستان کو امید تھی۔پاکستان ساتویں بحری بیڑہ کا انتظار ہی کرتا رہا۔ پاکستان دولخت ہونے کے بعد امید تھی کہ پاکستان ایک آزاد خارجہ پالسیے اپنائے گا مگر جنرل ضیا کے زمانے میں جب امریکہ نے افغانستان میں روسی فوجوں کے خلاف پاکستان سے مدد مانگی تو پاکستان نے ان کے لئے سارے دوازے کھول دیئے۔ لہذا جب سویٹ فوج جنیوا معاہدہ کے تحت افغانستان سے واپس چلی گئی اور روس اپنے اندرونی تضادات کی وجہ سے ٹوٹ گیا تو ہم نے بڑے زور شور سے یہ پراپیگنڈہ شروع کر دیا کہ ہم نے روس کو توڑ کر 1971کا بدلہ لے لیا ہے۔
خارجہ پالسیے کے طالب علموں کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ پاکستان نے پہلے افغانستان میں روس کے خلاف جنگ میں ڈیورنڈ لائین کو توڑا اور پھر جب ہم نے ملا عمر کو کابل کے تخت پر بھٹایا تو اس نے ڈیورنڈ لائین کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ جنرل مشرف کے دور میں جب 9/11کا واقعہ ہوا تو امریکہ نے کابل پر حملہ کردیا اور پاکستان نے ایک طرف امریکہ کا بھر پور ساتھ دیا اور سارا پاکستان ان کے لئے کھول دیا اوع دوسری طرف اسامہ بن لادن اور ملا عمر کو پاکستان لے آئے۔ عمران خان نیازی صاحب کو بر سر اقتدار آتے ہی CEPCکا مسئلہ پیش آگیا ۔ CPECکے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ پاکستان میں امریکی لابی اس منصوبہ کے خلاف ہے اور ہے وہ اسی لئے عمران خان کے دھرنے کو اس کے ساتھ ملا کر دیکھتے ہیں۔ نیازی صاحب کے ایک بہت ہی اہم مشیر داود رزاق صاحب جن کا امریکہ سے مشترکہ کاروبار بھی ہے نے آتے ہی برطانوی اخبار فنانشل ٹامز میں CPECکے خلاف بیان داغ دیا۔جب یہ بیان چھپ گیا تو اس کے ثمرات سامنے آگئے۔
پاکستان کے آرمی چیف جنرل باجوہ کو چین کے شکوک و شبہات دور کرنے کے لئے خود پیکنگ جانا پڑا۔ ووسری طرف پاکستان اور امریکہ ٹیلیفون رابطہ کے بارے میں بھی شکوک وشبہات پیدا ہو گئے۔ اس کے بعد پاک ہند تعلقات میں گرمی پیدا ہو گئی۔ ہند پاک تعلقات کی اپنی تاریخ ہے اور اس کی جو انگریزی میں کہتے ہیں Baggage ہے۔ گو عالمی سطح پر پاکستان اورہندوستان دونوں پر بہت زور ہے کہ وہ تعلقات میں بہتری لائیں مگر ایسا مستقبل قریب میں ہوتا نظر نہیں آتا۔ عالمی پریشر کا اندازہ آپ اس سے لگا لیں کہ حال ہی میں روس میں پاکستانی اور ہندوتسانی فوجوں نے مشترکہ مشقوں میں حصہ لیا اور شام بھی بہت خوشگوار گزاری۔ سارے کہانی دھرانے کا مقصد یہ ہے کہ گو خلائی مخلوق اور نیازی حکومت ایک پیج پر ہیں مگر کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی مسئلہ پیدا ہو رہا ہے اور ہوتا رہے گا۔ مودی کا یار چلا گیا مگر اب کیا ہوگا یہ لگتا ہے کسی کو معلوم نہیں کیونکہ دعوی کے باوجود افغانساتان کے ساتھ تعلقات اچھے نہیں ہیں۔ایران پر امریکہ ایک دفعہ پھر پابندیاں لگانے کی سوچ رہا ہے۔ امریکہ ہندوستان سے اور قریب ہو رہا ہے۔ ہندوستان نے پاک ہند وزرا خارجہ کی طے شدہ ملاقات منسوخ کرکے امن دشمنوں کی حوصلہ افزائی کی ہے ۔ گو دعویٰ کیا جارہا ہے کہ سعودی عرب CPECمیں سرمایہ کاری کرنے جا رہا ہے مگر ایسے میں ہمیں نئی پارلیمنٹ کو اعتماد میں لے کر ایک دفعہ خارجہ پالیسی کی واضح بنیادیں طے کر لینی چاہیں۔


ای پیپر