یوسف عالمگیرین اور ان کا پنجابی مجموعہ کلام ’’ سُفنے ‘‘ !
01 اکتوبر 2018 2018-10-01

موضوعات اگرچہ کئی ہیں لیکن اِس بار میں نے سوچا تھا کہ سیاست، حالاتِ حاضرہ اور قومی معاملات و مسائل جیسے گھِسے پٹے اور کسی حد تک یکساں اور غیر دلچسپ موضوعات میں سے کسی پر لکھنے کی بجائے کسی ایسے موضوع پر لکھوں گا جس سے دل کے تار ہی نہ جھنجھلا اُٹھیں بلکہ ذہن کے خوابدیدہ گوشے بھی وا ہو جائیں۔ میری یہ بدنصیبی کے قلم اس طرح کے موضوعات پر رواں دواں ہونے پر آمادہ نہیں ہو پا رہا۔ لگتا ہے کہ وہ ایک جیسے موضوعات پر لکھتے لکھتے تھک گیا ہے یا پھر میرے ذہن کی رسائی میں کچھ فرق پڑ گیا ہے۔ وجہ کچھ بھی ہو سچی بات ہے کہ لکھنا کبھی بھی کچھ سہل نہ تھا میرے لئے اور اب تو شاید دشوار بھی ہو گیا ہے۔ لیکن کِدھر جائیں اور اس سے کیسے پیچھا چھڑائیں کہ کالم نگاری کا ٹھپہ (لیبل)لگا ہوا ہے۔ اِسے کسی نہ کسی صورت میں برقرار رکھنا ہی ہے ۔ لہٰذا کچھ نہ کچھ خامہ فرسائی تو کرنی ہوگی۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ کوئی ایسا موضوع چننا پڑے گا جس سے دل کے تار ہی نہ جھنجھلا اُٹھیں بلکہ قلم میں بھی روانی آجائے۔ میرے لئے بلا شبہ کسی مہربان شخصیت کا ذکر، کتاب میں لکھا کوئی خوبصورت افسانہ یا دل کو مو لینے والی تحریر، کسی کی آپ بیتی یا زندگی کے اوراق کا تذکرہ جس میں آپ کو ماضی کا عکس نظر آئے یا پھر کوئی ایسی تحریر یا کوئی ایسا اقتباس جس میں دیہی زندگی کی عکاسی کے ساتھ والدین بالخصوص ماں جیسی شفیق ہستی کی شفقت اور محبت کا پَر تو بھی جھلکتا نظر آئے یا پھر حضرت کھڑی شریف میاں محمد بخشؒ جیسے صوفی بزرگ کے صوفیانہ کلام کی طرح کے کلام جسے پڑھ سُن کر آپ بے ساختہ داد دینے پر ہی مجبور نہ ہو جائیں بلکہ آپ کی آنکھیں بھی پُر نَم ہو جائیں جیسے موضوعات کشش اور جذبہ کو اُبھارنے(Inspiration) کا باعث رہے ہیں۔تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ اس طرح کے موضوعات پر لکھنا اور اِن سے انصاف کرنا میرے جیسے علم و ادب اور تحریروتصنیف سے واجبی تعلق رکھنے والے ’’قلم کار ‘‘یا ’’کالم نگار‘‘ کے لئے اِتنا آسان نہیں لیکن مجبوری ہے کہ کالم کا پیٹ تو بھرنا ہی ہے خواہ اس کے لئے خامہ فرسائی ہی کیوں نہ کرنی پڑے۔ تو چل میرے خامے بِسم اللہ آج کچھ تذکرہ مہربان شخصیت یوسف عالمگیرین اور اُن کی پنجابی شاعری کے مجموعے ’’ سُفنے ‘‘ کا کر لیتے ہیں۔ 
مسلح افواج کے خوبصورت، دیدہ زیب، پُر وقار اور مُستند مجلے ماہنامہ’’ ہلال‘‘ کے اُردو ایڈیشن کے ایڈیٹر یوسف عالمگیرین عُمر میں مُجھ سے کافی چھوٹے ہونگے لیکن اُن سے مل کر ہمیشہ احساس رہا کہ کسی یارِ مہربان سے ملاقات ہو رہی ہے۔ میری اُن سے پہلی ملاقات کو بمشکل 3/4سال ہوئے ہونگے لیکن غائبانہ تعارف یا تعلقِ خاطر کے حوالے سے کہا جا سکتا ہے کہ یہ ایک عشرے سے بھی زیادہ عرصے پر محیط ہوگا۔ اِس لئے کہ میں اِن کی تحریروں (اخبارات میں چھپنے والے کالموں) کا کب سے قاری چلا آرہا ہوں۔ ظالباً ستمبر 2007کی بات ہے کہ مشہور دانشور ، مصنف، ڈرامہ نگار، افسانہ نگار اور انتہائی قابل قدر شخصیت محترم اشفاق احمد کا انتقال ہوا تو جناب اشفاق احمد کے بارے میں اُن کا کالم معاصر ’’نوائے وقت‘‘ میں چھپا ۔ اُسی روز محترم اشفاق احمد مرحوم کے بارے میں میر امضمون یا کالم بھی ’’نوائے وقت‘‘ میں اُن کے کالم کے پہلو میں چھپا۔ بلا شبہ مجھے یوسف عالمگیریت کی تحریر اپنے دل کے بہت قریب لگی۔ اس طرح اُن سے غائبانہ تعلق خاطر قائم ہوا اور 3/4سال قبل جب علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے علم دوست وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شاہد صدیقی کے دفتر میں اُن سے بالمشافہ ملاقات ہوئی تو میں نے اِسے اپنی خوش نصیبی گردانہ۔ 
حقیقت یہ ہے کہ پچھلے 3/4برسوں کے دوران یوسف عالمگیرین سے جب بھی ملاقات ہوئی یہی احساس اُبھرا کہ بلند ویژن اور مثبت اندازِ فکرونظر کی حامل ایسی خوبصورت شخصیت سے ملاقات ہو رہی ہے جو عاجزی و انکساری کا پیکر ہی نہیں ہے بلکہ اِسے دوسروں کی پذیرائی اور قدر افزائی کر کے راحت بھی حاصل ہوتی ہے۔ اگست کے اواخر میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شاہد صدیقی کے صاحبزادے عزیزی صہیب کے ولیمے میں یوسف عالمگیرین سے ملاقات ہوئی تو محترم جبار مرزا بھی اُن کے ہمراہ یا یہ اُن کے ہمراہ تھے ۔ ہم نے ایک ہی میز پر بیٹھ کر کھانا کھایا ۔ محترم جبار مرزا کا میں کیا تعارف کرواؤں۔ اُٹھارہ کتابوں کے مصنف، سینئر صحافی، وقائع نگار، افسانہ نگار، ڈرامہ نگار، سوانح نگار، شاعر اور ادیب جنہوں نے اپنی ناکام اورادھوری محبت کی سچی داستان کو’’پہل اُس نے کی تھی‘‘ جیسی آپ بیتی کی صورت میں قلمبند کر کے اَمر کر دیا۔ جناب جبار مرزا سے بھی میرا غائبانہ تعارف عرصے سے تھا کہ معاصر ’’جنگ‘‘ میں’’آن دی ریکارڈ‘‘کے عنوان سے چھپنے والے اُن کے کالم ذوق شوق سے پڑھتا رہا ہوں کہ اُن میں تاریخ کا تذکرہ، تہذیب کا شعور، روایات اور اِقدار کی پاسداری، اسلام اور پاکستان سے محبت کا درس، قومی تاریخ کے اہم واقعات کا پس منظر اور پیش منظر اور بقول علامہ اقبال ء یاد ماضی میری خاک کو اکسیر ہے جیسی میرے ذوق و شوق اور دلچسپی کی بہت سی باتیں ہوتی تھیں۔ یہ عجیب اتفاق ہے کہ 3/4سال قبل جب اِن سے میری پہلی ملاقات ہوئی تو وہ اور یوسف عالمگیرین اِکٹھے تھے۔ جناب جبار مرزا کا تذکرہ میرے لئے بڑا دلنشین ہے لیکن پھر کبھی سہی۔ یوسف عالمگیرین کی طرف واپس آتے ہیں۔ 
جناب یوسف عالمگیرین محض ادیب(ایڈیٹر اور کالم نگار) ہی نہیں ہیں شاعر بھی ہیں۔ کچھ عرصہ قبل اُن کی پنجابی شاعری کا مجموعہ ’’سفنے‘‘ کے نام سے چھپا ہے۔ اُنہوں نے انتہائی دیدہ زیب اور خوبصورت گردوپیش سے مزئین یہ مجموعِہ کلام مجھے بھی بھیج رکھا ہے۔ میں ’’سفنے‘‘کے بارے میں خواہش کے باوجود اظہارِ خیال نہ کر سکا۔ اس میں میری کمزوری ، خامی یا مجبوری ہے کہ پنجابی شاعری سمیت پنجابی تحریروں کو روانی سے پڑھنے، سمجھنے اور اُن کے مافی الضمیر کو پا لینے کی مجھ میں کمی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پنجابی زبان کی مجھے کم ہی شد بُد ہے ۔اس بنا پر میں نے سفنے کو ایک طرف پڑے رہنے دیا کہ کبھی فرصت ہوئی تو اِسے پڑھنے اور سمجھنے کے بعد اس پر اظہارِ خیال کی کوشش کروں گا۔ اگلے دِن ’’سفنے‘‘ کو میں نے اُٹھایا کہ میری نظر اس کے بیک ٹائٹل پر جناب یوسف عالمگیرین کی روشن چہرے کے ساتھ ہنستی مسکراتی تصویر کے ساتھ چھپے اِن کے دو اشعار جو اِن کی کتاب کے صفحہ 27پر چھپی غزل کے پہلے 2شعر ہیں پر پڑی ۔ میں نے اِن کو ایک بار، دو بار ، کئی بار پڑھااور اِن اشعار کے سحر میں ہی نہیں کھو گیا بلکہ ان کے مطالب پر غور کیا تو ایسے لگا جیسے میرے حالِ دل کی بھی ترجمانی کر رہے ہوں۔ شعر اس طرح ہیں
آپنے پنڈ نوں جاواں کیکن
ٹُر جاواں تے آواں کیکن 
ماں باجوں ہُن کُجھ نئیں لبھدا
کٹھیاں کراں دُعاؤاں کیکن
اِن اشعار کوپڑھتے اور دوہراتے میری آنکھیں کئی بار بھیگیں کہ اِن میں ماں جیسی شفیق، مہربان اور مقدس ہستی کی دُعاؤں کا ذکر ہے۔ شاعر نے کس خوبصورت اور دل مو لینے والے انداز میں اِس کیفیت کو بیان کیا ہے کہ میں اپنے گاؤں کیسے جاؤں (مجھے حوصلہ نہیں پڑتا یا وہ ہستی جس کو میرا انتظار رہتا تھا وہ اب موجود نہیں تو میں کس کے پاس جاؤں)، اگر میں حوصلہ کر کے چلا ہی جاؤں تو پھر وہاں سے واپس کیسے آؤں کہ گاؤں جس سے میرا دِلی تعلق ہے، جو میری ذات میں رَچا بسا ہے اُس سے جُدائی اختیار کرنا آسان نہیں۔ ماں جو میرے لئے ہر لمحے دُعا گو رہتی تھی وہ مجھے اَب کہاں سے ملے کہ اَب وہ اِس دنیا میں نہیں تو میں کیسے اُس کی دُعائیں حاصل کروں کوئی کیسے میرے لئے اِن دُعاؤں کو اِکٹھا کرے۔ 
’’سفنے‘‘ 130صفحات پر مشتمل خوبصورت گیٹ اپ اور مضبوط جلد سے مزئین اعلیٰ سفید آف سیٹ پیپر پر چھپی دیدہ زیب کتاب ہے جس میں جناب یوسف عالمگیرین کی 29غزلیں 83چھوٹی بڑی نظمیں اور 3صفحات پر مشتمل متفرقات شامل ہیں۔یہ کتاب جناب جبار مرزا کی زیر نگرانی اور علامہ عبدالستار عاصم اور محمد فاروق چوہان کے زیر اہتمام چھپی ہے اور اس پر ملنے کا پتہ قلم فاؤنڈیشن انٹر نیشنل والٹن روڈ لاہور کینٹ درج ہے۔ اس کے فلیپ جناب جبار مرزا اور محترمی زاہد حسن نے تحریر کیے ہیں۔ جناب یوسف عالمگیرین نے ’’مُڈھلی گل ‘‘ کے عنوان سے پنجابی زبان میں کتاب کا ایک طرح کا دیباچہ لکھا ہے۔ جس میں وہ کہتے ہیں کہ ’’ سفنے‘‘ صرف میرے سفنے (خواب) نہیں ہیں۔ اِن’’ سُفنوں‘‘ میں دھرتی ماں میں رہنے والوں کی گل (بات) بھی موجود ہے۔ اس طرح یہ ’’سفنے‘‘ ہر کسی کے سفنے ہیں۔ جناب یوسف عالمگیرین کا یہ کہنا یقیناًدرست ہے کہ یہ ’’سفنے‘‘ جناب یوسف عالمگیرین کے سفنے ہی نہیں ہیں اَوروں کے بھی یا کم از کم میرے سُفنے ضرور ہیں۔ 


ای پیپر