ملکی سیاست پر ایک کالم
01 نومبر 2020 2020-11-01

غدار، غدار کے نعروں کے ساتھ ملکی سیاست ایک بار پھر خطرناک راستے پر آ گئی ہے اور مجھے ایک فلمی گانا یاد آ گیا ہے کہ لے آئی پھر کہاں پر قسمت ہمیں کہاں سے، یہ تو وہی جگہ ہے گزرے تھے ہم جہاں سے‘ کہ اس سے پہلے بھی غدار ، غدار کا کھیل کھیلا گیا تھا اور اس کا نتیجہ ملک کے دولخت ہونے کی صورت نکلا تھا۔میرے ملکی سیاست پر اس کالم کو ہرگز سنجیدہ تحریر مت سمجھئے گا کہ اگر اسے سنجیدہ رکھا گیا تو ہو سکتا ہے کہ یہ آخری تحریر ہومگریہ ممکن ہی نہیں کہ قومی سیاست کے اس اہم ترین موڑ پر خاموش رہا جائے اور اپنا حق ادا نہ کیا جائے۔ چچا غالب نے کہا تھا، ’جاں دی ہوئی اسی کی تھی، حق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا‘ اور’کچھ توپڑھیے کہ لوگ کہتے ہیں، آج غالب غزل سرا نہ ہوا‘۔ فلمی گانے اور مرزاغالب سے براہ راست بہادر شاہ ظفر یاد آ گئے، فرمایا، ’ہم یہ تونہیں کہتے کہ غم کہہ نہیں سکتے، پر جو سبب غم ہے وہ ہم کہہ نہیں سکتے‘ اور دوبارہ ایک فلمی گانا ہی ذہن میں آیاکہ’ اظہار بھی مشکل ہے، چپ رہ بھی نہیں سکتے، مجبور ہیں اف اللہ ، کچھ کہہ بھی نہیں سکتے‘۔ میں خود کو اپنی سن اکہترکی جیسی تاریخ کے دہرائے جانے کے عمل کو دیکھتے دیکھتے اس سردار جی جیسا محسوس کر رہاہوں جو ایک روز ایک کیلے کے چھلکے سے پھسلے اور گر گئے، جب وہ اگلے روز اسی جگہ سے گزرے توکیلے کا ایک اور چھلکا وہاں پڑا ہوا تھا، سردار جی نے سر پرہاتھ مارا اور بولے، ہائے او ربا، ہن فیر پھسلنا پئے گا۔ شاعری اور لطیفے شائدآپ کو عجیب لگیں مگر جان لیجئے کہ ہر لطیفہ کسی المئے سے ہی نکلتا ہے، احمد راہی نے کہا تھا، ’ میرے حبیب میری مسکراہٹوں پر نہ جا، خدا گواہ مجھے آج بھی تیرا غم ہے‘۔

سردار ایاز صادق نے اپنی طرف سے بلا گھمایا اور سیاسی چھکا مارا مگر وہ ساتھ ہاکی کی گراونڈ میں جا گرا۔ سابق سپیکر قومی اسمبلی کی گفتگو سن لی جائے تو واضح طورپرنظر آتا ہے کہ وہ اپنے سیاسی حریف عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو ٹارگٹ کر رہے ہیں۔ ایک اپوزیشن رہنما کے طور پر ان کا حق ہے کہ وہ حکومتی فیصلوں کی مخالفت کریں، ان پر تنقید کریں مگر حیرت انگیزطورپرکرکٹ کی شاٹ پر گول کیپر نے ہٹ بیک کیا،چلیں، مان لیتے ہیں کہ سردار ایاز صادق نے ستیاناس کیا مگر اس کے بعد حکومتی وزیر نے سوا ستیا ناس کر دیا جب وہ پلوامہ والے واقعے کا کریڈٹ لے اڑے۔ مجھے پیپلزپارٹی کے رہنماقمر الزماں کائرہ کی اس بات سے مکمل اتفاق ہے کہ یہ بحث ہونی ہی نہیں چاہئے مگر سوال یہ ہے کہ اس بحث کا آغاز کس نے کیا۔ کس نے اپوزیشن کے رہنماو¿ں پربغاوت اور غداری کے مقدمات کروائے۔ جب آپ کسی کو تھپڑ ماریں گے تو وہ روئے گا اور آپ کو اس کا رونا برداشت کرنا پڑے گا ۔ ہمارے اداروں کو سیاسی بحث کا حصہ ہی نہیں ہونا چاہئے اور اس سے پہلے سیاسی عمل کا بھی۔

میں نے سوچا کہ آج سیاست پر کالم نہ لکھوں بالکل اسی طرح جیسے جماعت اسلامی سیاست کے اس کھیل کے اس اہم ترین راو¿نڈ میں پوری طرح باہر ہے۔نہ حکومتی جماعتوں میں ہے اور نہ ہی اپوزیشن اتحاد میں۔ سنا ہے کہ وہ آج سے مہنگائی کے خلاف ایک مہم شروع کر رہی ہے۔مجھے جماعت والے فلم کیری آن جٹا کے وہ نوجوان کردار لگے ہیں جس نے ہر حال میںکینیڈا جانا تھا، خاندان میں بہو، بیٹیوں کے بھاگ جانے اور بھگا لیے جانے تک کے معاملات پر شورمچا ہوا تھا اور وہ ہر صورت اپنی کینیڈا والی ایف ڈی سائن کروانا چاہتا تھا۔ میں یہ نہیںکہتاکہ مہنگائی اہم ایشو نہیں ہے، بہت اہم ایشو ہے، لوگوں کی چیخیں نکلی ہوئی ہیں مگر سیاست کی ٹرین اس وقت مہنگائی کے اسٹیشن پر نہیں ہے، اس سے بہت آگے غداری کے اسٹیشن پر ہے اور وہ اس وقت منیر نیازی بنے ہوئے ہیں جنہوںنے کہا تھا، ’ ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں، ضروری بات کہنی ہو، کوئی وعدہ نبھانا ہو، اسے آواز دینی ہو، اسے واپس بلانا ہو، ہمیشہ دیر کردیتا ہوں میں ۔۔‘، جماعت سے درخواست ہے کہ وہ کچھ تو فیصلہ کرے چاہے واپنی نصف صدی کی روایات کے مطابق وہ غلط ہی کیوں نہ ہو۔

عمران خان کہتے ہیں کہ نواز شریف کو فوج سیاست میں لائی اور میں کہتا ہوںکہ دیکھو کہتا کون ہے ۔ سچ ہے کہ ملکی سیاست کو تمام بڑے لیڈرز اسٹیبلشمنٹ نے ہی دئیے ہیں جیسے ذوالفقار علی بھٹو ، نواز شریف اور اب عمران خان۔ نواز شریف کے اسٹیبلشمنٹ سے تعلق کی حالت تو عدیم ہاشمی کے شعروں جیسی ہوچکی کہ ’تعلق توڑتا ہوں تومکمل توڑ دیتا ہوں، جسے میں چھوڑ دیتا ہوں مکمل چھوڑ دیتا ہوں‘ اور’بچھڑ کر تجھ سے نہ دیکھا گیا کسی کا ملاپ،اڑا دئیے ہیںپرندے شجر میں بیٹھے ہوئے‘، جی ہاں، ان کے لئے کوئی بے بسی سی بے بسی ہے، ’ فاصلے ایسے بھی ہوں گے یہ کبھی سوچا نہ تھا، سامنے بیٹھا تھا میرے اور وہ میرا نہ تھا‘۔ یہ سیاست بھی عشق جیسی ہو گئی ہے اور سعد اللہ شاہ نے اسی بارے کہا تھا، ’ مجھ سا کوئی جہان میں نادان بھی نہ ہو، کر کے جو عشق کہتا ہے نقصان بھی نہ ہو‘ اور’ خوابوں سی دِلنوازحقیقت نہیں ہے کوئی، یہ بھی نہ ہو تو درد کا درمان بھی نہ ہو‘۔ سردار ایاز صادق اور فواد چوہدری کے ’انکشافات کے بعد پروین شاکر کا ایک شعربہت اِن ہو گیا ہے، ’ تہمت لگا کے ماں پہ جو دشمن سے داد لے، ایسے سخن فروش کو مرجانا چاہئے‘، ان کی اسی غزل کا پہلا شعر نذرہے،’ کچھ فیصلہ تو ہو کہ کدھر جانا چاہئے، پانی کو اب تو سر سے گزر جانا چاہئے‘۔ مجھے کل مولانا فضل الرحمان کے ایک فقرے نے لطف دیا، فرمایا، قیامت کی علامت ہے کہ مسلم لیگی غدار ٹھہرے ہیں۔ جب یہ مان لیا گیا کہ قومی سیاست کو گذشتہ پچاس برسوں میں تمام بڑے لیڈر اسٹیبشلمنٹ سے دئیے توایک ستم ظریف نے کہا کہ دینے والا حق سمجھتا ہے کہ وہ جب چاہے واپس بھی لے لے۔ 

سیف الدین سیف نے کہا تھا، ’بڑے خطرے میں ہے حسن گلستان ہم نہ کہتے تھے، چمن تک آگئی دیوارزنداںہم نہ کہتے تھے‘ اور مجھے اب یہی لگ رہا ہے کہ بات بڑھ گئی ہے مگر اس بڑھی ہوئی بات میں عوام کے ہاتھ کیا آئے گا تو اس پر مجھے اعزاز احمد آذر کے ہمیشہ جذباتی کر دینے والے دو، تین اشعاریاد آ گئے، انہوںنے کہا تھا، ’ درخت ِ جاں پہ عذاب رُت تھی نہ برگ جاگے نہ پھول آئے، بہار واد ی سے جتنے پنچھی ادھر کو آئے ملُول آئے‘ اور’ وہ ساری خوشیاں جو اس نے چاہیں اُٹھا کے جھولی میںا پنی رکھ لیں، ہمارے حصے میں عذر آئے ،جوازآئے ، اصول آئے‘ اور یہ بھی کہ ’ بنامِ فصل بہار آذر وہ زرد پتے ہی معتبر تھے ، جو ہنس کر رزق خزاں ہوئے جو زرد شاخوں پر جھول آئے۔


ای پیپر