خواتین صحافیوں کو آزادی مارچ کی رپورٹنگ سے روک دیا گیا
01 نومبر 2019 (17:24) 2019-11-01

اسلام آباد: خواتین صحافیوں کو جمعیت علمائے اسلام (ف)کی طرف سے رپورٹنگ کرنے سے روک دیا گیا ۔خاتون صحافی عینی شیرازی اور شیفا یوسفزئی کو آزادی مارچ کے منتظمین نے کوریج سے روکا۔انصارالسلام کے رضا کاروں نے خواتین صحافیوں کو پنڈال میں جانے کی اجازت نہیں دی۔

تفصیلات کے مطابق رپورٹرقر ۃالعین صبح جلسے کی کوریج کیلئے جلسہ گاہ میں موجود تھیں جنہیں نکال دیا گیا۔اینکرپرسن شفا یوسزئی نے بتایا کہ جلسہ گاہ میں ایک کارکن نے نعرہ لگایا خواتین یہاں نہیں آسکتیں۔ انہوں نے کہا پہلے ہی اندازہ تھا کہ خواتین کو جلسے میں نہیں آنے دیا جائیگا۔رپورٹرعینی شیرازی نے بتایا جب وہ ترجمان جے یو آئی کے اجازت سے رپورٹنگ کرنے پہنچیں تو کارکنان نے کہا کہ آپ یہاں سے جائیں۔

وفاقی وزیرزرتاج گل نے اپنے رد عمل میں کہا کہ خواتین ارکان ہر پارٹی کا حصہ ہیں، کسی خاتون کوجلسے کی کوریج یا سیاسی سرگرمی سے نہیں روکا جاسکتا۔انہوں نے جے یو آئی ارکان کے فعل کی مذمت کی اور سوال اٹھایا کہ خواتین کو کس حق سے اظہار آزادی رائے سے روکا جارہا ہے؟۔پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنما شہلارضا نے اپنے رد عمل میں کہا کہ آزادی مارچ فضل الرحمان کا پروگرام ہے، ہم نے کم سے کم ایجنڈا پر آزادی مارچ میں شمولیت اختیار کی ہے۔انہوں نے کہا خواتین کی شرکت پر پابندی لگانا فضل الرحمان کا اپنا نظریہ ہے۔


ای پیپر