آزادی مارچ والے کس سے آزادی مانگ رہے ہیں: عمران خان
01 نومبر 2019 (16:06) 2019-11-01

گلگت: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ آزادی مارچ والے کس سے  آزادی مانگ رہے ہیں ٗ جتنی دیر مرضی بیٹھیں جب کھانا ختم ہو تو ہم کھانا بھی بھجوا دیں گے لیکن این آر او کسی صورت نہیں دیں گے۔ میں ان سب کو کہنا چاہتا ہوں کہ فضل الرحمن کے ہوتے ہوئے یہودیوں کو سازش کرنے کی ضرورت کیا ہے۔ جتنے خوش پاکستان کے دشمن خوش ہو رہے ہیں فضل الرحمن کے مارچ سے ٗ آپ ہندوستان کا میڈیا دیکھ لیں جو ہندوستان کا میڈیا خوش ہے۔ ایسا لگے گا کہ فضل الرحمن انڈین نیشنل ہے۔ جن نوجوانوں کو یہ ہی نہیں پتہ کہ اسلام کیا ہے وہ فضل الرحمن سے اسلام سیکھیں گے۔ فضل الرحمن کو دیکھ کر کوئی اسلام کی طرف نہیں آئے گا۔

اسلام آباد میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فضل الرحمن کو کشمیر کمیٹی کا چیئر مین بنا دیں تو وہ خوش ہیں ٗ پیپلز پارٹی والوں کو پتہ ہی نہیں کہ وہ آزادی مارچ میں کیوں شریک ہیں خود کو لبرل کہنے والوں کو لبرل ازم چھو کر بھی نہیں گزری ۔ تین بار وزیر اعظم رہنے والوں نے جائیدادیں بنا لی ہیں۔

مزید برآں وزیراعظم عمران خان نے گلگت بلتستان میں آزادی پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہہمارے کشمیری بہن، بھائی ، بچوں پر گزشتہ تقریباً تین ماہ سے مقبوضہ کشمیر میں نریندر مودی کی ظالمانہ حکومت نے کرفیو لگایا ہوا ہے، ان کے سارے بنیادی حقوق ختم کئے ہوئے ہیں، کشمیریوں کو انسانوں نہیں بلکہ جانوروں کی طرح رکھا ہوا ہے، بھارت کی 9 لاکھ فوج نے کشمیریوں کو بند کرکے رکھا ہوا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ میں اپنے کشمیری بھائیوں کو پیغام دیتا ہوں کہ ساری پاکستانی قوم آپ کے ساتھ ہے آپ کے لیے دعائیں کررہی ہے۔ میں آپ کا سفیر بھی بن چکا ہوں ، ترجمان بھی بن چکا ہوں اور انشاء اللہ دنیا میں آپ کا وکیل بھی بن کر ساری دنیا میں آپ کی وکالت کروں گا۔


ای پیپر