دھرنا.... حکومت اور عوام کو دُھر بنانے کا عمل
01 نومبر 2019 2019-11-01

ہمارے سرکار دو عالم رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”راستے میں مت بیٹھو“ یعنی راستے میں رکاوٹ نہ بنو، لوگوں کو تکلیف نہ دو ، ظاہر ہے راستے بند کر دیئے جائیں، کنٹینر لگا کر آمدورفت کے سلسلے معطل کر دیئے جائیں، جلسے اور جلوسوں سے عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو جائے تو اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک یہ اچھا عمل نہیں ہے، مسلمان تو وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے۔

ہمارے ہاں تو پروٹوکول کے لئے ٹریفک روک کر لوگوں کو مصیبت میں ڈال دیا جاتا ہے، اگر کسی جلسے جلوس نے گزرنا ہے تو بھی ٹریفک کو روک کر یا اسے دوسرے چھوٹے چھوٹے راستوں، سڑکوں یا گلیوں میں بے لگام چھوڑ دیا جاتا ہے، ٹریفک کے انتظام پر مامور سرکاری افراد بلاسوچے سڑک کے اشاروں پر چوراہوں میں ٹریفک اچانک بند کر دیتے ہیں اور گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ جاتی ہیں کسی کو کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ آگے سے ٹریفک کیوں اور کس لئے بند ہے؟ لوگ مسلسل کئی کئی گھنٹے ایک عجیب کرب سے گزرتے ہیں پھر پتہ چلتا ہے کہ آگے چند افراد نے ٹریفک کو روک رکھا ہے وہ احتجاج کر رہے ہیں سو ٹریفک کنٹرول کرنے والوں نے متبادل راستہ دیئے بغیر گاڑیوں کو آگے جانے سے روک رکھا ہے اکثر دیکھا کہ آنے والی سڑک پر جا رہے ہوتے ہیں اور جانے والی سڑک پر آ رہے ہوتے ہیں، یعنی یک طرفہ ٹریفک کے اصولوں کو پامال کرتے ہیں، اوپر سے صبر برداشت کا حوصلہ نہایت کم ہوتا جاتا ہے ہر کوئی تیزی سے آگے جانا چاہتا ہے وہ کسی بھی طرح دوسروں کا خیال کئے بغیر خود جلدی سے نکلنا چاہتا ہے چاہے اس کے لئے اسے قانون اور اخلاق کی دھجیاں کرنی پڑیں، وہ اصولوں کی خلاف ورزی کرتا ہے اور سارے لوگوں کے لئے مصیبت بن جاتا ہے۔

ہمارا ذاتی خیال یہ ہے کہ سڑکوں کو کشادہ ہونا چاہیئے اگر کشادہ نہ ہوں تو کم از کم کسی بھی شخص، جماعت یا جتھے کو کسی قسم کا کوئی راستہ یا سڑک بند کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیئے، لیکن یہاں تو جمعہ کی نماز کے لئے بھی سڑک بند کر دی جاتی ہے نماز سڑک پر ہوتی ہے کس کو جرا¿ت کہ راستے بند کرنے پر کوئی تنقید کر سکے اور پھر نماز کے لئے سڑک استعمال کرنے سے روکنے کی جرا¿ت کون سا افسر کر سکتا ہے؟ ٹرینوں میں لوگوں کے پاس کھڑے ہونے کو جگہ نہیں ہوتی۔ لوگ گتھم گتھا نظر آتے ہیں اچانک کوئی شخص آتا ہے وہ سب کو پیچھے ہٹاتا ہے جگہ بناتا ہے اور نماز ادا کرنے لگ جاتا ہے یعنی لوگوں کے پاس کھڑے ہونے کی جگہ نہیں ہے اور وہ سجدے کی جگہ بھی بنا لیتا ہے لوگ مجبوراً اور اخلاقاً نماز کے لئے خود تنگ ہوتے ہوئے بھی اس نمازی کے لئے جگہ بناتے ہیں۔ کیا لوگوں کو یوں تکلیف میں ڈال کر کسی کی نماز ہوسکتی ہے؟ آئے روز سڑکوں پر ہر قسم کے جلسے جلوس باوجود ”سکیورٹی مسائل“ کے دکھائی دیتے ہیں، یہ سارے احتجاجی جلسے ایک مخصوص جگہ پر ہونے چاہئیں اور چاردیواری کے اندر ہوں، احتجاج سب کا جمہوری حق ہے مگر اس کے لئے راستوں سڑکوں کو روکنا ٹریفک میں خلل ڈال کر لوگوں کو اذیت سے دوچار کرنا سراسر غیراخلاقی اور نہایت ناپسندیدہ عمل ہے، پچھلے چند رز سے سڑکوں پر مارچ ہو رہا ہے جہاں سے بھی ”آزادی مارچ“ گزرا لوگ پریشان ہوئے، اب مارچ قافلہ اسلام آباد میں پہنچ رہا ہے تو سکول اور کالج بند کرنے پڑے، جلوسوں کی راہ میں آنے والی مارکیٹیں بند ہوں گی، ایک ہجوم سا اسلام آباد میں ہو گا اور اس کے کارپرواز ”دین“ کی باتیں کرنے والے ہیں، کیا یہ عوام کو دُھر بنانے کے مترادف نہیں، یہ پہلی بار ہوا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کسی حکومت میں شامل نہیں ہیں ورنہ وہ کسی نہ کسی طرح اقتدار کا حصہ رہے ہیں، انہوں نے کبھی عام آدمی کے مسائل کے لئے پریس کانفرنس تک نہیں کی، مہنگائی کے خلاف جلوس نہ نکالا کشمیر کمیٹی کے سربراہ ہونے کے باوجود کشمیریوں کے لئے ایسا کوئی لانگ مارچ نہ کیا مگر آج وہ حکومت گرانے کے لئے سڑکوں پر ہیں اور وہ جمہوریت کے لئے احتجاج کر رہے ہیں، وہ بھی ڈنڈا بردار باوردی فورس کے ساتھ.... یہ آزادی مارچ کیسے ہو گیا....؟؟

بظاہر یہ ایک لانگ مارچ ہے اور اختتام پر احتجاجی جلسہ ہو گا مگر یہ ”شرکائے مارچ“ باقاعدہ دھرنے کا ارادہ لئے ہوئے پورے بندوبست کے ساتھ سفر کر رہے ہیں، حکومت مذاکرات اور معاہدے پر اکتفا کئے ہوئے ہے کیا حکومت نے جلسے کی اجازت دے کر خود اپنے پاﺅں پر کلہاڑی نہیں ماری؟ کیونکہ ہجوم میں سر تو ہوتے ہیں دماغ نہیں ہوتے نہ ہی کسی جم غفیر کے آگے کوئی بند باندھا جا سکتا ہے، اسلام آباد میں اس ہجوم کو طاقت سے روکا جائےگا یوں مولانا کی تمنا پوری ہو جائے گی۔ وہ چند لاشیں لینا چاہتے ہیں جس سے بڑے خون خرابے کا اندیشہ ہے اور یہ سارا کھیل اکیلا صرف کوئی مولوی نہیں کھیل سکتا کہ اس کے لئے بڑی پلاننگ اور رقم کی ضرورت ہوتی ہے، دھرنے کے لئے قیام و طعام کے لئے کروڑوں روپے درکار ہوتے ہیں یہ سب کہاں سے آ رہا ہے اس کے پیچھے کون ہیں؟ یہ بھی حکومت کے سوچنے کے کام ہیں۔

خدا خیر کرے.... ایک زمانے میں ”ظالمو قاضی آ رہا ہے“ کا نعرہ مشہور ہوا تھا اب مولانا فضل آ رہا ہے فضل کی آمد سے پنجاب کی کرسی پر چہرہ بدل سکتا ہے یہ بھی ایک پیش گوئی ہے۔ مصیبت تو ہرحال میں عوام الناس کے لئے ہے پچھلے 72 برسوں سے عوام ہی مصیبت میں ہیں، سیاستدان توعافیت میں ہیں، جیل جاتے ہیں ہسپتال کا گوشتہ عافیت انہیں مل جاتا ہے۔


ای پیپر