تیز گام کا سانحہ کیوں ہوا؟
01 نومبر 2019 2019-11-01

عملی صبح کا آغاز ہی رحیم یار خان کے قریب تیز گام میں ہونے والی آتشزدگی سے ساٹھ سے زائد افراد کے جاں بحق ہونے کی خبر سے ہوا اوربتایا گیا کہ اس ٹرین کے ذریعے تبلیغی اجتماع میں آنے والوں کے پاس کھانا پکانے کے لئے گیس کے سلنڈر تھے جن پر وہ ناشتہ تیار کر رہے تھے کہ ایک سلنڈر دھماکے سے پھٹ گیا جس سے نہ صرف پوری بوگی آگ کی لپیٹ میں آ گئی بلکہ چلتی ہوئی ٹرین میں ہوا نے آگ کو باقی دو بوگیوں تک بھی پھیلا دیا۔ ابتدائی خبر میں بتایا گیا کہ دھماکا شدید نوعیت کا تھا جس کے باعث بہت سارے مسافر یہ سمجھے کہ ٹرین کو تخریب کاری کا نشانہ بنایا گیا ہے اور انہوں نے چلتی ٹرین سے چھلانگیں لگانا شروع کر دیں مگر جوں جوں وقت گزرتا گیا ہلاک شدگان کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا گیا اور نئے حقائق بھی سامنے آتے گئے۔ میں اس کے سوا کیا کہوں کہ ہلاک ہوجانے والے مسافر شہید ہیں کہ وہ اللہ کے دین کی سربلندی کے لئے یہ سفر کر رہے تھے اور دوسرے وہ یوں بھی شہادت کے مرتبے پر فائز ہوتے ہیں کہ میرے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث کے مطابق جو جل کر ہلاک ہو وہ بھی شہید ہے مگر کیا ان کو شہادت کے مرتبے پر فائز کرتے ہوئے ہم اپنی ذمہ داریوں سے پہلوتہی کر سکتے ہیں؟

مسافروں کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ تباہی کا شکار ہونے والی تین بوگیوں میں سے دو اکانومی کلاس جبکہ ایک بزنس کلاس کی تھی۔ اکانومی کلاس ائیرکنڈیشنڈ نہیں ہوتی مگر بزنس کلاس میں اے سی ہوتا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ بوگی کے اندر سے کیمیکل کی بو آ رہی تھی۔ اے سی کی گیس لیک ہو رہی تھی اور شارٹ سرکٹ پنکھے کی وجہ سے ہوا جس سے لگنے والی آگ نے ایک کے بعد دوسری بوگی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ میں نہیں جانتا کہ حقائق کیا ہے مگر ریلوے میں ایک فیڈرل گورنمنٹ انسپکٹر آف ریلویز ( ایف جی آئی آر) ہوتا ہے جو تمام حادثوں کی تحقیقات کرتا اور ذمہ داروں کا تعین کرتا ہے۔ مجھے اپنی زندگی میں دو برس تک اس قومی ادارے کا ترجمان ہونے کا اعزا ز حاصل رہامگر میں اب بھی ریلوے کے پیچیدہ نظام کو مکمل طور پر جاننے اور سمجھنے کا دعویٰ نہیں کر سکتا تاہم مکمل طور پر لاعلم بھی نہیں ہوں۔سانحے کے بعد دوسرا سانحہ یہ ہے کہ ہم مرنے والوں کی شناخت نہیں کرسکتے کیونکہ نعشیں جلنے کے بعد ناقابل شناخت ہوچکی ہیں ، ستم یہ ہے کہ ریلوے کے پاس بھی مسافروں کا ریکارڈ نہیں کیونکہ پوری بوگی ایک ہی فرد کے نام پر بک کر دی گئی تھی۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے الیکشن کے سلسلے میں جناب ارشد انصاری نے پوری بوگی کی بکنگ کروائی تھی مگر ہم نے ایک ایک مسافر کے نام پر ٹکٹ جاری کیا تھا مگر یہاں ایک بوگی میں 77 اور دوسری بوگی میں 76 مسافروں کے ناموں کا ریکارڈ اب صرف تبلیغی جماعت کے امیر کے پاس ہی ہے۔

اگر شیخ رشید احمد کی بات مان لی جائے کہ مسافروں کے پاس سلنڈر تھے تو پھر یہ بھی مان لینا چاہئے کہ ریلوے میں سیفٹی اور سیکورٹی کے اصولوں پرعمل نہیں ہورہا۔ یہ بات درست ہے کہ گذشتہ دور میں صرف بڑے ریلوے اسٹیشنوں پراسکینر لگے مگر یہ بات درست نہیں کہ چھوٹے ریلوے اسٹیشن مکمل طور پر لاوارث ہوتے ہیں اور وہاں سے جو شخص جو سامان بھی چاہے لے کر ٹرین پر سوار ہو سکتا ہے۔ اس سلسلے میں ایس او پی موجود ہے جس پر عمل نہیں ہو رہا۔ عینی شاہدین سلنڈر پھٹنے والے موقف کی حمایت کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں اور مجھے افسوس کے ساتھ کہنا ہے کہ ٹرینوں کی خستہ حالی کے باعث ان میں شارٹ سرکٹ ہونا او ر آگ لگ جانا کسی طور بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ریلوے حکام اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں بتایا کرتے تھے کہ ہر ڈویژن میں پانچ سے دس فیصد بوگیاں اضافی موجود ہوتی تھیں اور کسی بھی بوگی میں کسی بھی خرابی پر اسے ری پلیس کر دیا جاتا تھا۔ اس کی مثال یوں بھی ہے کہ سابق دور میں دو درجن کے قریب ٹرینیں ( ستر کے لگ بھگ ریک) اپ گریڈ کئے گئے مگر دو اڑھائی برس بعد علم ہوا کہ تمام ٹرینوں میںاپ گریڈڈ بوگیاں کسی نہ کسی فالٹ کی وجہ سے تبدیل ہوچکی ہیں ۔ پہلے کارکردگی یہ تھی کہ سروس کا معیار بہتر ہو، معیاری بوگیوں کے ساتھ ٹرینیں بروقت چلیں مگر اب کارکردگی صرف یہ ہے کہ نئی نئی ٹرینوں کا افتتاح کر دیا جائے جوبظاہر ایک اچھا کام لگتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ اگر آپ کے پاس نئی بوگیاں ہی نہیں ہیں تو آپ نئی ٹرینیں کیسے چلا رہے ہیں؟

نئی بوگیوں کی عدم موجودگی میں گذشتہ دور میں خریدے گئے طاقتور انجنوں کے ساتھ وہ بوگیاں لگا کر ٹرینوں کا افتتاح کیا جا رہا ہے جو ریلوے کی بائیبل کے مطابق ہر ڈویژن میں اضافی ہونا ضروری ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ نان ریزرویشن ٹرینوں کی بوگیاں بھی اتار لی گئی ہیں جس کی وجہ سے متعدد برانچ لائنوں پر مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ریلوے ملازمین بتاتے ہیں کہ اب ایک ٹرین آتی ہے تواس کی بوگیوں سے دوسری تیارہوتی ہے۔ حافظ سلمان بٹ صاحب سمیت دیگر کے مطابق یوں بھی ہو رہا ہے کہ بوگیاں واشنگ لائن بھیجے بغیر ہی دوسری ٹرین میں لگا دی جاتی ہیں جس کی وجہ سے ان کی صفائی ہی نہیں بلکہ مکینیکل اور الیکٹریکل انسپکشن بھی نہیں ہوپاتی۔ یوں بھی ہوتا ہے کہ ایک ٹرین مسلسل لیٹ ہو رہی ہے تو ا س کی لیٹ نکالنے کے لئے اسے واشنگ لائن کی ضروری انسپکشن کے بغیر ہی اسٹیشن پر لا کھڑا کیا جاتا ہے اور یوں ان خدشات کو جواز ملتا ہے کہ ٹرین سے کسی جگہ اے سی کی گیس لیک ہو رہی ہو یا وائرنگ شارٹ ہو۔ واشنگ لائن بھیجے بغیرچلتی ٹرین میں خرابیوں کی جانچ پڑتال اور حل ناممکن ہے۔ یہ نشاندہی بھی ہوئی کہ تیز گام کے ساتھ متعلقہ سٹاف پوری تعداد میں نہیں تھا اور مجھے یہ کہنے میں عار نہیں کہ ریلوے کا محکمہ اس وقت بہت ہی کم سٹاف کے ساتھ چل رہا ہے، بہت ساری جگہوں پر سٹاف کی یہ کمی پچاس فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ اس کی ذمہ داری کسی حد تک سابق دور پر بھی عائد کی جا سکتی ہے جب تاثر یہ تھا کہ پرویز مشرف اور آصف زرداری کے دور میں ریلوے میں سفارشی بھرتیاں کی گئیں تو پھر گذشتہ دور میں ملازمین کو نکال کر اخراجات قابو کرنے کی بجائے صرف انتہائی ضروری پوسٹوں پر تقرریوں کی حکمت عملی اپنائی گئی جس کی وجہ سے بہت سارے مقامات پر ٹیکنیکل عملے کی بھی شارٹیج ہوگئی۔ موجودہ وزیر ریلویز نے بھرتیوں کا اعلان کیا مگر درجہ چہارم تک کی بھرتیوں میں آدھے اپنے حلقے کے لوگ بھر لئے جس کی وجہ سے بے چینی پھیلی اور ملازمین کو عدالت سے رجوع کرنا پڑا۔

مجھے ریلوے اور پاکستان کے چلنے میں بہت مماثلت نظر آتی ہے۔ اگر ریلوے چل رہا ہو، اس میں ترقی ہو رہی ہو، جدت آ رہی ہو،اس کی آمدن بڑھ رہی ہو تو یہ پاکستان کے چلنے اور ترقی کرنے کا اشارہ ہے مگر ریلوے ایک بار پھر بیمار ہو رہا ہے۔ ٹرینوں کی آمدو رفت میں گھنٹوں کی تاخیر معمول بن چکی ہے اورمیڈیا رپورٹس کے مطابق ایک برس میں حادثات کا ایک نیا ریکارڈ قائم ہوا ہے۔ وزیر ریلویز ، ریلوے ہیڈکوارٹرز میں بیٹھ کے سیاسی بڑھکیں مارتے ہیں، پیشین گوئیاں کرتے ہیں، افسروں کو بے عزت کرتے ہیں، میڈیا پر آنے کے لئے جگتیں لگاتے ہیں حالانکہ یہ سب کام ریلوے ہیڈکوارٹرز میں کرنے والے نہیں ہیں ، وہاں ریلوے کی بہتری کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہے ورنہ نئی ٹرینیں چلانے کے سیاسی دعووں میں جب چھوٹی چھوٹی خامیوں کو دور کرنے اور ان کی بہتری پر کام نہیں کیا جائے گا تو بڑے بڑے حادثے ہوتے رہیں گے۔ میری رائے یہی ہے کہ یہ ایک چھوٹی سی غلطی تھی چاہے وہ سلنڈر تیز گام میں لانے کو نظرانداز کر کے کی گئی یا اے سی کی گیس لیک ہونے اوروائرنگ کی صورت ہوئی مگر ایک بڑے حادثے اور سانحے کا سبب بن گئی۔ میں وزیر موصوف سے استعفے کا مطالبہ نہیں کرتا مگر یہ ضرور کہتا ہوں کہ اب بھی اگر حکمت عملی نہ بدلی گئی تو کریڈٹ لینے کے چھوٹی چھوٹی خواہشوں پوری کرنے کے چکر میں چھوٹی چھوٹی غلطیاں ایسے بڑے بڑے حادثوں کا سبب بنتی رہیں گی۔ اللہ ریلوے اور پاکستان پر رحم کرے۔


ای پیپر