سانحہ ساہیوال....قصوروار کون؟
01 نومبر 2019 2019-11-01

مملکت خداداد میں گزشتہ دنوں ایک اور ایسے سانحے کا بھی ڈراپ سین ہو گیا جو جب وقوع پذیر ہوا تو اتنا شدید عوامی ردعمل سامنے آیا کہ نئے پاکستان کی موجودہ حکومت کو بے رحم قاتلوں کو عبرت ناک انجام سے دوچار کرنے کا اعلان کرنا پڑا۔ لیکن بدقسمتی سے ایک بار پھر قاتل بچ جانے میں کامیاب ہو گئے۔ سانحہ ساہیوال کے نام سے جڑا یہ ہولناک واقعہ رواں سال بیس جنوری کو پیش آیا تھا جس میں محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے ساہیوال کی مرکزی شاہراہ پر لاہور کے رہائشی محمد خلیل، اس کی زوجہ نبیلہ، 13 سالہ بیٹی اریبہ اور دوست ذیشان کو دو کمسن بچوں کے سامنے سرعام موت کے گھاٹ اتار ڈالا۔ لیکن پھر وہی ہوا جو ہمارے ملک میں اس سے پہلے پیش آنے والے سانحات میں ہوتا آ رہا ہے۔ تقریباً نو ماہ کے عرصے میں قصوروار ٹہرائے گئے ملزمان کی بریت کی شکل میں اس سانحے کا ڈراپ سین بھی سامنے آ چکا ہے۔ چوبیس اکتوبر کو لاہور کی انسداد دہشتگری کی خصوصی عدالت نے اس کیس میں گرفتار تمام ملزمان کو گواہوں کے منخرف ہونے پر شک کا فائدہ دیتے ہوئے الزامات سے بری کر دیا۔ حال ہی میں اس فیصلے کو پڑھنے کا اتفاق ہوا تو ملزمان کی بریت کا سبب بننے والے حقائق دیکھ کر بہت افسوس اور حیرانگی ہوئی کہ کس طرح حساس اداروں اور اعلیٰ پولیس افسران پر مشتمل تحقیقاتی ٹیم کی جانتے بوجھتے ہوئے غیر قانونی تفتیش اور اہم تکنیکی غلطیوں کی مدد سے ملزمان قانون کی گرفت سے بچنے میں کامیاب ہوئے۔ اس واقعے کی ہر وہ شہادت جو مقتول خاندان کو انصاف کی فراہمی میں مددگار ہو سکتی تھی، تفتیشی ٹیم کی مجرمانہ غفلت، نااہلی، غیر سنجیدگی یا ملزمان کو فائدہ دینے کی کوشش میں سخت قانون کے سامنے برباد ہو گئی۔ عدالت نے چالیس صفحات پر مشتمل اپنے فیصلے میں بھی بار بار جے آئی ٹی کی غیر قانونی اور ناقص تفتیش کا ذکر کیا ہے۔ 22 جنوری کو پنجاب حکومت کی ہدایت پر اس سانحے کی تحقیقات ایڈیشنل آئی جی سید اعجاز الحسن شاہ، انٹیلی جنس بیورو کے ڈپٹی ڈائریکٹر اعجاز حفیظ، آئی ایس آئی کے میجر بلال نیازی، ڈی ایس پیز خالد ابوبکر اور فلک شیر بھٹی پر مشتمل جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کو سونپی گئی۔ جس نے تفتیش مکمل کر کے چھ اہلکاروں سب انسپکٹر صفدر حسین، کارپورلز احسن خان، محمد رمضان، سیف اللہ، حسنین اکبر اور ناصر نواز کو گرفتار کیا اور ستائیس فروری 2019 کو انسداد دہشتگری کی خصوصی عدالت میں مقدمے کا چالان بھجوایا۔ فیصلے میں عدالت نے جے آئی ٹی کے ممبر ڈی ایس پی فلک شیر بھٹی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے واضح طور پر کہا کہ جے آئی ٹی نے جانتے بوجھتے ہوئے غیر قانونی تفتیش کی۔ کیونکہ پراسیکیوٹر جنرل پنجاب سے قانونی رائے لینے کے باوجود اس مقدمے کی دوسری ایف آئی آر درج کی گئی جو کہ صغراں بی بی بنام سرکار کیس میں سپریم کورٹ کی دی ہوئی گائیڈ لائنز کی صریحاً خلاف ورزی تھی۔ فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ پراسیکیوٹر جنرل کی رائے جاننے کے باوجود پولیس کا دوسری ایف آئی آر درج کرنا اور جے آئی ٹی کا تفتیش جاری رکھنا بدنیتی پر مبنی اقدام تھا۔ اس طرح عدالتی فیصلے نے یہ بات ثابت کر دی ہے اس کیس میں جے آئی ٹی نے بھی وہی کردار ادا کیا جو تفتیشی پہلوو¿ں سے نابلد ایک روایتی تھانیدار کی تفتیش میں نظر آتا ہے۔ جے آئی ٹی نے اپنی کارروائی کا آغاز ہی ایسے غیر قانونی اقدام سے کیا۔ جس کا نتیجہ بالآخر ملزمان کو فائدے اور سرکاری وسائل کے ضیاع کی شکل میں ہی نکلنا تھا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں جے آئی ٹی کی طرف سے اکٹھی کی جانے والی شہادت سے متعلق کہا ہے کہ اس کیس میں جے آئی ٹی نے مدعی سمیت 22 چشم دید گواہوں کے بیانات قلمبند کیے اور وہ سب کے سب عدالت میں منخرف ہو گئے۔ مدعی سمیت تمام گواہوں نے برملا اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ انھوں نے وقوعہ ہوتے نہیں دیکھا، یوں عدالت کے سامنے ایسی کوئی عینی شہادت پیش نہیں کی گئی جو ملزمان کا تعلق اس واقعے سے ثابت کر سکے۔ جبکہ طبی شہادت حملہ آوروں کی نشاندھی نہیں کر سکتی۔ اس لئے طبی شہادت استغاثہ کی مدد کرنے سے قاصر ہے۔ فیصلے میں عدالت کی جانب سے جے آئی ٹی کی پیش کردہ ڈیجیٹل شہادت کو بھی مسترد کر دیا گیا۔ جے آئی ٹی کو واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج فراہم کرنے والے گواہ منیجر ٹول پلازہ اوکاڑہ نصر اللہ مہر کی شہادت اس لئے مسترد کر دی گئی کہ دوران جرح اس نے تسلیم کیا کہ اس نے یو ایس بی تیار کرنے کے لئے اعلی حکام سے اجازت نہیں لی اور نہ ہی انھیں آگاہ کیا۔ اسی طرح ٹول پلازہ پتوکی کی سی سی ٹی وی فوٹیج فراہم کرنے والے دوسرے گواہ نیشنل ہائی وے پٹرولنگ کے سب انسپکٹر خالد بشیر نے بھی اپنا بیان تبدیل کرتے ہوئے عدالت میں کہا کہ ٹول پلازہ اس کی حدود میں نہیں آتا اور نہ ہی وہ انچارج ٹول پلازہ ہے۔ اسی طرح سانحے کی مختلف ویڈیوز پر مشتمل یو ایس بی جے آئی ٹی کو فراہم کرنے والے گواہ رامون تعظیم کی شہادت اس لئے مسترد کر دی گئی کہ وہ یہ بتانے سے قاصر رہا کہ اس نے یہ ویڈیوز کہاں سے حاصل کیں۔ اس طرح سپریم کورٹ کی گائیڈ لائنز کی روشنی میں اس ڈیجیٹل شہادت کی اہمیت نہیں رہتی۔ فیصلے میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ مدعی مقدمہ جلیل نے اپنے بیان میں عدالت کو بتایا کہ اس نے دوران تفتیش جے آئی ٹی کو بتایا تھا کہ یہ ایف آئی آر اس کے کہنے پر یا تحریری درخواست پر درج نہیں ہوئی بلکہ پولیس نے خود ساختہ درخواست اس سے منسوب کر کے مقدمہ درج کیا۔ ملزمان کی شناخت پریڈ کا اہم قانونی تقاضا بھی پورا نہیں کیا گیا۔ اسی طرح اسلحے کی برآمدگی ثابت کرنے کے لئے بطور گواہ پیش ہونے والے سی ٹی ڈی اہلکار محمد علی نے ملزمان کو سرکاری اسلحے کی تقسیم کا ریکارڈ پیش کیا لیکن یہ بتانے سے قاصر رہا کہ کون سا ہتھیار کس ملزم کو دیا گیا۔ بلکہ گواہ نے انکشاف کیا کہ یہ اسلحہ 23 جنوری کو جے آئی ٹی کو دیا گیا جس نے چھ فروری کو اس کی برآمدگی ڈالی۔ عدالت کے مطابق اتنی دیر تک اسلحہ پاس رکھ کر برآمدگی نہ ڈالنے کے اس راز کو استغاثہ بھی کھولنے میں ناکام رہا۔ اور عدالت کو اس سوال کا جواب نہیں مل سکا کہ پندرہ روز تک یہ اسلحہ کہاں رہا۔ اسی طرح جائے وقوعہ سے ملنے والی گولیوں کے خول فرانزک ٹیسٹ میں رمضان اور سیف اللہ کے اسلحے سے میچ ہونے کے باوجود استغاثہ کے کسی کام اس لئے نہیں آ سکے کیونکہ جے آئی ٹی نے براہ راست ملزمان سے برآمدگی نہیں کی۔ فیصلے کے مطابق فرانزک رپورٹ پر یقین کرنے کے لئے گولیوں کا اسلحہ سے میچ ہونا اور انھیں مخفوظ طریقے سے لیب بھجوانا ضروری تھا لیکن خالق ریاض نامی جس تھانیدار نے اسلحہ لیب میں جمع کروایا اسے جے آئی ٹی نے بطور گواہ پیش ہی نہیں کیا اور نہ ہی مقتولین کی گاڑی قبضے میں لی جس سے برآمد ہونے والی گولیاں فرانزک ٹیسٹ میں ملزمان کے اسلحے سے میچ بھی ہوئیں۔ قانونی ماہرین یہ سمجھتے ہیں کہ اتنی سنگین غفلت سامنے آنے پر عدالت کو جے آئی ٹی کے خلاف سخت کارروائی اور اصل ملزمان کو سامنے لانے کا حکم دینا چاہیے تھا۔ قانونی ماہرین کے نزدیک کمزور قوانین کی بندشوں میں جکڑی ہماری ماتحت عدلیہ ایسے مقدمات میں ملزمان کو بری کر کے یہ سمجھتی ہے کہ انصاف ہو گیا۔ لیکن اس طرح کے انصاف کے نتیجے میں مجرم کو اگلے جرائم کے لئے حوصلہ افزائی اور ناقص تفتیش کرنے والے افسران کو اگلے مقدمات کا بیڑہ غرق کرنے کے لئے کھلی چھوٹ مل جاتی ہے اور بے گناہ مارے جانے والوں کے مجبور لواحقین یونہی دربدرکی ٹھوکریں کھاتے رہتے ہیں۔ بہرحال یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں جس میں ایسا ہوا ہو۔ بلکہ روزانہ کی بنیاد پر ایسے کئی واقعات سننے میں آتے ہیں جن میں مقتولین کا خون اسی نظام کا شکار ہو کر رائیگاں چلا گیا۔مگر ریاست اور اس کے کسی ادارے نے یہ زخمت نہیں کی کہ اگر پکڑے جانے والے بے گناہ ہو جائیں یا مقدمے کے گواہ منخرف ہو جائیں تو کیا جرم کا ارتکاب بھی ختم ہو گیا۔ ہم کب سوچیں گے کہ اگر یہ بے گناہ ہے تو قصوروار کون ہے، کیا عدالت یا حکومت کبھی تفتیشی اداروں سے باز پرس کرے گی کہ ملزمان کو جان بوجھ کر شک کا فائدہ کیوں دلوایا گیا۔ کیا عینی شاہدین نہیں ہوں گے تو انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوں گے۔


ای پیپر