جعلی اکاﺅنٹس پر گرفتار کرنا ہے تو کر لیں، آصف زرداری
01 نومبر 2018 (22:28) 2018-11-01

اسلام آباد: پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے سربراہ اورسابق صدر آصف علی زرداری نے کہاہے کہ سندھ اور پنجاب میں مشکوک اکاﺅنٹس کوئی نئی بات نہیں، ثابت کرنا ہو گا کہ میں نے لوگوں کے جعلی اکاﺅنٹس میں پیسے ٹرانسفر کیے ، جعلی اکاﺅنٹس پر گرفتار کرنا ہے تو کر لیں، میں تو گرفتار ہو کر پنجاب میں دوبارہ مشہور ہونا چاہتا ہوں، پہلے بھی گیارہ سال جیلیں بھگتیں، اب بھی تیار ہوں.

جب میرے خلاف قتل کے کیسز بنائے گئے تو تب بھی نہیں گھبرایا تھا، اب تو جعلی کیسز بنائے جا رہے ہیں، موجودہ حکومت کے سعودی عرب سے اتنے مراسم نہیں کہ انھیں پیسے مل جاتے، کسی نے انھیں سعودی عرب سے پیسے دلوائے ہیں، اب حکومت کو چین اور ابوظہبی سے بھی پیسے ملیں گے، نئی حکومت کو چھ ماہ کا عرصہ ملنا چاہیے لیکن اگر عوام کو ریلیف نہ ملا تو سڑکوں پر نکلیں گے،موجودہ صورتحال میں وزیراعظم سے لازمی تعاون کریں گے پتہ نہیں وزیراعظم کو کس نے وزارتِ داخلہ کا قلمدان رکھنے کا مشورہ دیا، وزیراعظم کو ان معاملات پر براہ راست خود بات کرنی چاہیے، وزارت داخلہ کو ہی مذاکرات کرنا ہوتے ہیں، وزیراعظم نے خود کو ہٹا لیا اور دوسروں کو سامنے کر دیا، عمران خان کو زیادہ بولنے کی عادت ہے، مفاہمت کیلئے تو ہم ہمیشہ تیار ہوتے ہیں،ہر ادارے کو اپنے دائرے میں رہنا چاہیے بے شک وہ سیاسی ہو یا کوئی اور ہو ، نیب بغیرالزام ثابت کئے قصوروار ٹھہرا دیتاہے ،امریکا افغانستان سے جائے گا نہ افغان لڑنا چھوڑیں گے، خارجہ پالیسی میں سب سے بڑا چیلنج افغانستان ہے۔وہ جمعرات کو نجی ٹی وی سے گفتگو کررہے تھے۔

آصف علی زرداری نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب میں اپنی پارٹی کو پیچھے کرکے دوسری فورسز کو آگے کھڑا کردیا ہے۔ تاریخ میں پہلی دفعہ ہوا کہ وزارت داخلہ کا قلمدان وزیراعظم کے پاس ہے۔ موجودہ ملکی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہم سب حکومت کے ساتھ تعاون کرنے کیلئے تیار ہیں۔ وزیراعظم کو چاہیے کہ موجودہ معاملے کو خود حل کریں۔ جنگ مائنڈ سیٹ کیخلاف لڑی جاتی ہے۔ ایوان میں تقریر سابق صدر کی حیثیت سے کی تھی۔ ہم نے چین کو گوادر کے ذریعے گرم پانیوں تک رسائی دی۔ ہم نے سندھ میں نہروں کی لائنگ کرواکر 30فیصد تک پانی محفوظ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 8سال کی قید کے دوران کوئی مفاہمت نہیں کی تو اب یہ جعلی اکاﺅنٹس کیس میںکوئی مفاہمت نہیں کروں گا اگر گرفتارکرنا ہے تو بسم اللہ کرلیں۔ گرفتار ہو کر دوبارہ مشہور ہونا چاہتا ہوں۔ پورے پنجاب اور سندھ میں مشکوک اکاﺅنٹس کوئی نئی بات نہیں ہے۔ فالودہ کھائے ہوئے بھی 40، 50سال ہوچکے ہیں۔

انور مجید کی عمر 77سال ہے اور ظاہری سی بات اتنی عمر میں کوئی آدمی سب کچھ تو نہیں چلاتا ہوگا۔ اگر گرفتار کرنا ہے تو پہلے ثابت کرنا ہوگا کہ میں نے لوگوں کے اکاﺅنٹس میں پیسے ٹرانسفر کیے ہیں۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان جس سے وفا کررہے تھے ان سے پوچھیں کہ اب لوگ انہیں کیوں تعنے مار رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کے بہت اسرار پر اے پی سی میں شرکت کیلئے حامی بھری تھی۔ شہباز شریف سے مصافحہ کرنا محض ایک اتفاق تھا۔ اگر عوام کو حکومت کی جانب سے ریلیف نہ ملا تو عوام سڑکوں پرآجائے گی۔ حکومتوں کو 6مہینے تک کام کرنے دیا جاتا ہے۔ کسی نے انکو سپورٹ کرکے سعودی عرب سے پیسے دلوائے ہیں اور وہی انکو چین اور ابو ظہبی سے بھی پیسے دلوائے گا۔

موجودہ حکومت کے سعودی حکومت سے اتنے مراسم نہیں کہ اتنے پیسے ملتے ۔ سابق صدر نے کہا ہے کہ اے پی سی فیصلہ کرے گی کہ کیا ایجنڈا ہوگا۔ جس پر سب اتفاق کریں گے۔ موجودہ حکومت پر 6ماہ سے پہلے ہی برا وقت آجائے گا۔ عالمی معاشی بحران آرہا ہے۔ کئی ملکوں میں ہر جگہ 40فیصد شرح سود لگادی گئی ہے۔ عوام اگر حکومت کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی تو پھر ہمیں کچھ تو کرنا پڑے گا۔ خارجہ پالیسی میں سب سے بڑا چیلنج افغانستان ہے نہ تو امریکہ افغانستان جائے گا اور نہ افغانستان لڑنا چھوڑے گا۔ ابھی تک افغانستان میں امریکہ کے 3بیس موجود ہیں۔ ہم کب تک ایک دوسرے کو برا کہتے رہیں گے کبھی تو ملک کیلئے ایک ہونا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کو عزت دینی ہوگی تب ہی ملک میں امن آئے گا۔ ہمارے دور میں اتنی مہنگائی نہیں تھی۔ عمران خان کو زیادہ بولنے کی عادت ہے۔ ہر ادارے کو اپنے دائرے میں رہنا چاہیے بے شک وہ سیاسی ہو یا کوئی اور ہو۔ نیب کا قانون ہم نے نہیں بلکہ میاں صاحب نے بنایا تھا۔ نیب بغیر الزامات ثابت کیے ہوئے آدمی کو سب کے سامنے قصور وار ٹھہرا دیتے ہیں۔ پہلے کسی جج کے سامنے طے ہونا چاہیے کہ نیب کا کیس بنتا بھی ہے یا نہیں تاکہ نیب کے ذریعے کسی کی عزت نہ خراب ہو۔


ای پیپر