چلو دلدار چلو!
01 نومبر 2018 2018-11-01

کچھ وفاقی وصوبائی وزراءکی کارکردگی، ان کی روز بروز بڑھتی ہوئی زبان درازی، اپوزیشن کی ٹامک ٹوئیاں، پنجاب میں سول وپولیس افسران کے تبادلوں کی حالیہ لہر، اور آئی جی اسلام آباد کے تبادلے سمیت کئی موضوعات ذہن میں تھے جن پر لکھنا تھا، مگر صبح صبح معروف ادیبہ عصمت طاہرہ کی مرحوم دلدار پرویز بھٹی کے حوالے سے لکھی گئی ایک زبردست تحریر نے اپنی گرفت میں لے لیا، انہوں نے بہت ہی منفردانداز میں مرحوم کے ساتھ اپنی یادیں تازہ کی ہیں، دلدار پرویز بھٹی کی وفات امریکہ میں ہوئی تھی، جیسا کہ میں نے اپنے گزشتہ کالم میں بھی عرض کیا تھا وہ شوکت خانم ہسپتال کے لیے چندہ اکٹھا کرنے عمران خان کے ساتھ امریکہ گیا تھا، ایک نیک مقصد کے لیے عمران خان کے ساتھ دنیا بھر کا سفر اس نے کیا، یہ اس کی زندگی کا مگر آخری سفر تھا، اللہ جانے کیا اس کے دل ودماغ میں تھا اس بار وہ نہیں جانا چاہتا تھا، عمران خان کو مگر انکار نہ کرسکا ،.... پہلے ذرا عصمت طاہرہ کی سن لیں، ”دلدار پرویز بھٹی اپنی زندگی کے آخری دنوں میں چلڈرن لائبریری کمپلیکس میں پروجیکٹ ڈائریکٹر تھا، میں اس کے دفتر میں بیٹھ کر ”وقت کی آواز“ پروگرام لکھتی اور پھر وہاں سے ہم اکٹھے عرفان کھوسٹ کے سٹوڈیو میں چلے جاتے، سکرپٹ لکھتے ہوئے کاغذ ختم ہوا تو میں نے اس سے کہا ”کاغذ پھڑا“ ....وہ بولا ” اسی کدے اپنی منگ نئیں چھڈی توں کاغذ منگدی ایں“ ،....میں نے کہا ”اچھا بک بک نہ کر کاغذدے“ ،....اتنے میں ہائی کورٹ کے جج عبدالسلام خاور تشریف لائے وہ دلدار کو لنچ پر لے جاناچاہتے تھے، دلدار نے کہا ”عصمت آئی ہوئی ہے میں نے نہیں جانا “ ۔.... جج صاحب نے فرمایا ”ہم عصمت کو بھی ساتھ لے جاتے ہیں“ ....مگر وہ نہیں مانا ، جج صاحب چلے گئے تو دلدار نے میرے اور اپنے لیے کھانا لانے کے لیے چپڑاسی سے کہا، کھانا کھاتے ہوئے میں نے اس سے پوچھا ” جج صاحب نے اتنا اصرار کیا، ہم ان کے ساتھ کیوں نہیں جاسکتے تھے ؟“۔....دلدار بولا ”تم نہ ہوتی تو میں چلے جاتا، میں دیکھنے والوں کو یہ موقع نہیں دینا چاہتا تھاوہ تمہارے بارے میں کوئی سکینڈل بنائیں “ ....تھوڑی دیر بعد میری بیٹی اثنا شاہ اندر آگئی، بچی نے سرخ فراک پہن رکھا تھا، دلدار نے بچی کو گود میں لیتے ہوئے کہا ”آہا دلہن آگئی “ ،....وہ بچی کو بار بار چوم رہا تھا، میں نے پوچھا ”تمہیں بچے اچھے لگتے ہیں ؟“،.... وہ بولا ”ہاں بہت زیادہ اچھے لگتے ہیں “۔ (دلدار کے بچے نہیں تھے)کہنے لگا ” ایک بار میری بیگم عقیدہ نے مجھ سے کہا ”آپ دوسری شادی کرلیں، میں چاہتی ہوں کوئی آپ کا نام لینے والا ہو“،....میں نے عقیدہ سے کہا ”پاگلے جے کوئی گونگا جم پیا تے فیر کی کراں گے ؟“ ....اتنا حاضر جواب،برمحل فقرہ چست کرنے والا ، بذلہ سنج گفتگو میں باکمال، قصہ گو، ایسا ذہین آدمی، اس کا کوئی ثانی نہیں تھا، پروگرام کی ریکارڈنگ کے بعد میں دلدار کی موٹر بائیک پر بیٹھ کر کوئین میری کالج سے اپنی بیٹی ارسہ کو لیا کرتی تھی، چھٹی کے وقت کالج کی لڑکیاں دلدار کو دیکھ کر گانا شروع کردیتیں ”چلو دلدار چلو چاند کے پار چلو“۔....ایک ہیرا تھا جو مٹی میں مل گیا، وہ صرف آرٹسٹ ہی کمال کا نہیں تھا آدمی بھی باکمال تھا، موت کے سفر پر امریکہ جانے سے پہلے اس نے آخری پروگرام میرے ساتھ عرفان کھوسٹ کے سٹوڈیو میں ریکارڈ کروایا، پھر اگلی صبح وہ موت کی فلائٹ پر چل پڑا “ ۔

عصمت طاہرہ نے دلدار بھٹی کے موت کے سفر پر روانہ ہونے سے پہلے اس کے آخری دن کی یادیں تازہ کی ہیں، اسی شام اولڈراوین ایسوسی ایشن کا ڈنر تھا۔ دلدار بھٹی نے مجھ سے کہا ”تم مجھے گھر سے پک کرلینا“ ، میں جب اس کے گھر پہنچا وہ بولا ”صبح میری فلائٹ ہے، میرا جی چاہتا ہے اولڈراوپنز کے ڈنر پر جانے کے بجائے اپنی بیگم کے ساتھ ڈنر کروں“، میں نے کہا ”اچھا ٹھیک ہے، مجھے پھر اجازت دیں “، وہ بولا ”تمہیں کیسے اجازت دوں، تمہیں تو میں نے ساتھ لے کر جانا ہے، میں نے عرض کیا ”بھائی جان اچھا نہیں لگتا، بھابی ساتھ ہیں، آپ جائیں“،....کہنے لگا ”بھئی میں نے گاڑی بیچ دی ہے اور تم نے ہمیں ساتھ لے کر جانا ہے “،....میں نے پوچھا ”گاڑی کیوں بیچ دی ؟“۔وہ

بولا ”صبح امریکہ جارہا ہوں اگر واپس آگیا دوبارہ خرید لوں گا“ ۔....اگر ”پر اس کا بڑا زور تھا، میں نے پوچھا ”اگر سے آپ کی کیا مراد ہے ؟“۔وہ مسکرادیا، شاید اسے پتہ تھا وہ زندہ واپس نہیں آئے گا، پھر بھابی کو ساتھ لے کر ہم گلبرگ کے ایک مشہور چائنیز ریسٹورنٹ میں چلے گئے، ریسٹورنٹ کے گیٹ پر پہنچ کر میں نے اس سے کہا ”اچھا بھائی جان میں چلتا ہوں، آپ جب کھانا کھا کر فارغ ہوں مجھے فون کرکے بلا لیجئے گا“۔ ....اس نے مجھے زبردستی روک لیا، ہم کھانے کی میز پر بیٹھے تھے، ویٹر کھانا لینے چلے گیا وہ عقیدہ بھابی سے کہنے لگا ”تم بہت صبر شکر والی عورت ہو، مجھے فخر ہے تم میری بیوی ہو، تم نے کبھی مجھ سے کوئی فرمائش نہیں کی، ہاں چند ماہ پہلے تم نے مجھ سے کہا تھا ”باجی فریدہ کے سونے کے کڑے بہت خوبصورت ہیں “،....میں نے اسی روز کمیٹی ڈال دی تھی، میں نے سوچا تھا یہ کمیٹی نکلے گی تمہیں ایسے ہی کڑے بنوا کر دوں گا “ ۔....جس روز کمیٹی نکلی ایک غریب گلوکار آگیا وہ مجھ سے کہنے لگا ” بچی کو صبح روزانہ ویگن پر سکول چھوڑنے جاتا ہوں روزانہ اسے دیر ہوجاتی ہے روزانہ ٹیچر سے اسے ڈانٹ پڑتی ہے“۔ ....میں نے کمیٹی کے پیسوں سے اسے موٹرسائیکل لے دی۔ اب اے نیر کے پاس پھر کمیٹی ڈال دی ہے، اس نے وعدہ کیا ہے اگلے مہینے وہ کمیٹی مجھے دے گا۔ اب اگر امریکہ سے واپس آگیا تو تمہیں ضرور کڑے بنا کردوں گا“،.... ”اگر “کا لفظ اس نے دوسری بار استعمال کیا تھا، مجھے اس پر بڑی حیرت ہورہی تھی، میں نے پھر اس سے پوچھا بلکہ عقیدہ بھابی نے بھی پوچھا ”اگر“ سے آپ کی کیا مراد ہے؟ ، وہ پھر مسکرا دیا ، عقیدہ بھابی مگر مطمئن نہ ہوئیں، ان کے چہرے پر ایک اداسی تھی، میں نے عرض کیا، ”بھابی مجھے لگتا ہے اس بار بھائی جان نے امریکہ جاکر سیٹ ہو جانا ہے، اب ہم انہیں سی این این پر دیکھا کریں گے، ہوسکتا ہے وہاں کسی گوری سے وہ شادی بھی کرلیں“ ۔....اس پر دلدار بھٹی نے ایک قہقہہ لگایا اور بھابی کی طرف دیکھ کر کہنے لگا ”بیگم صاحبہ آپ سے زیادہ کسے پتہ ہوسکتا ہے میں دوسری شادی کے قابل ہوں بھی یا نہیں ؟“ ۔....اس پر بھابی بھی مسکرا دیں، کھانے سے فارغ ہونے کے بعد میں انہیں ان کے گھر ڈراپ کرنے لگا، میں نے پوچھا ”بھائی جان صبح آپ کی فلائٹ ہے، میں آجاﺅں آپ کوایئرپورٹ ڈراپ کرنے ؟۔ وہ بولا ” نہیں، شوکت خانم ہسپتال کا ڈرائیور مجھے لے جائے گا“،....یہاں سے ڈرائیور اسے لے گیا اور امریکہ سے موت کا فرشتہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اسے لے گیا، اس کی یادوں کو آج تک مگر کوئی نہیں لے جاسکا!


ای پیپر