Ch Farrukh Shahzad, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
01 May 2021 (11:29) 2021-05-01

شوبز اور سیاست میں قدر مشترک یہ ہے کہ اس میدان کے کھلاڑی جتنا زیادہ میڈیا کی چکا چوند روشنیوں میں رہیں گے ان کی عوامی ریٹنگ اوپر جائے گی لیکن فرق صرف یہ ہے کہ شوبز میں اچھی اور بری ہر خبر ریٹنگ بڑھاتی ہے جبکہ سیاست میں سکینڈل آپ کو ڈبو دیتے ہیں یہ سکینڈل پورے کیریئر میں آپ کا پیچھا نہیں چھوڑتے بلکہ ان کی گونج ’’ادھر تم ادھر ہم‘‘ کی طرح مرنے کے بعد بھی سنائی دیتی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی موجودہ حکومت کے چھوٹے بڑے سارے کردار ایسا لگتا ہے جیسے شوبز سے سیاست میں آئے ہیں جنہیں معاملات کی نزاکت کا اندازہ نہیں ہو رہا۔ 

اس وقت سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کا ایک انٹرویو جنگل کی آگ بنا ہوا ہے جس نے حکمرانی پارٹی کے سب سے مضبوط قلعے کو ہٹ کیا ہے ہر طرف دھواں اٹھ رہا ہے مگر حکومت ایسا تاثر دے رہی ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ حکومت ہر تھوڑے عرصے بعد خود چاہتی ہے کہ کوئی نیا سکینڈل کھڑا ہو تا کہ عوام کو اصل معاملات پر سوچنے کا موقع نہ ملے۔ یاد رہے کہ بشیر میمن کی طرف سے ملک کے سب سے بڑے سرکاری آفس یعنی وزیراعظم ہاؤس کو اپنے ذاتی مخالفت کا حساب چکانے کے لیے استعمال کرنے کی سازش کا الزام ایک بہت ہی سنگین اور رسوا کن بات ہے جس سے وزیراعظم ہاؤس کے تقدس کو نا قابل تلافی نقصان پہنچنے کے احتمال کے علاوہ ریاستی اداروں کے آپس میں ٹکرانے سے ریاست کو اندر سے کھوکھلا کرنے اور پاکستان کے خلاف سازش کرنے جیسے الزامات کا تاثر ابھرتا ہے۔ 

آج جب وزیراعظم روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کی تقریب میں شرکت کے لیے آئے تو امید یہ تھی کہ وہ بشیر میمن اور اپوزیشن کے پرزے اڑا دیں گے کیونکہ وہ اپنے مخالفین پر جھپٹنے کے لیے اس طرح کی سرکاری تقریبات کی ہمیشہ تاک میںرہتے ہیں مگر اس تقریب میں آپ کا چہرہ اترا ہوا تھا۔ ساری تقریر میں آپ کی وہ برانڈڈ مسکراہٹ کہیں دور دور تک کوئی آثار نہیں تھے شاید پہلی بار وزیراعظم نے اپنی تقریر کو 

صرف متعلقہ موضوع تک ہی محدود رکھا اس سے صاف دکھائی دے رہا تھا کہ بشیر میمن کا زہر اندر ہی اندر اپنا کام کر چکا ہے۔ 

بشیر میمن گریڈ 22 کا ایک پولیس افسر تھا۔ یہ 2019ء کی بات ہے۔ 22 گریڈ کے افسر کو پتہ ہوتا ہے کہ اس سے اوپر کوئی گریڈ یا پروموشن نہیں ہے ویسے بھی وہ ریٹائرمنٹ کے قریب ہوتا ہے اسے یہ بھی پتہ ہوتا ہے کہ اس مرحلے پر اگر اس نے اپنے آپ کو سیاسی قیادت کے ہاتھوں استعمال ہونے دیا تو اسے ریٹائرمنٹ کے بعد قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس پس منظر کو ذہن میں رکھتے ہوئے سوچیں کہ اگر بشیر میمن نے غیر قانونی احکام ماننے سے انکار کیا ہے تو اس کی حقیقت کیا ہے۔ میری ذاتی رائے یہ ہے کہ وہ جتنے وثوق ، اعتماد اور جامعیت کے ساتھ بات کر رہا ہے اس میں اگر 50 فیصد حقیقت بھی ہو تو وزیراعظم کے لیے یہ رسوا کن بھی ہے اور قابل قانونی چارہ جوئی بھی جس سے وزیراعظم کا عہدہ برقرار رکھنا خاصا مشکل ہو جائے گا۔ 

کچھ لوگوں کاخیال ہے کہ بشیر میمن نے دو سال بعد یہ الزامات کیوں لگائے ہیں وہ اس وقت کیوں نہیں بولے جب انہیں غیر قانونی کام کے لیے مجبور کیا گیا۔ بات یہ ہے کہ بشیر میمن کو اپنے عہدے کی مدت ختم ہونے سے تین ماہ پہلے قبل از وقت نوکری چھوڑنا پڑی حکومت کہتی ہے کہ ہم نے اسے نکال دیا تھا مگر کہتے ہیں کہ انہوں نے خود استعفیٰ دیا تھا کیونکہ انہیں غیر آئینی کاموں کے لیے مجبور کیاجا رہا تھا اور انہوں نے غلط کام کرنے کی بجائے گھر جانے کو ترجیح دی۔ بشیر میمن کی کہانی میں شہزاد اکبر اور اعظم خان دو ایسے کیریکٹر ہیں جو اس سے پہلے ہر سکینڈل میں کسی نہ کسی طرح حصہ ڈالتے ہیں۔ ان دونوں کو وزیراعظم کی آنکھوں اور کانوں کا درجہ حاصل ہے حتیٰ کہ پارٹی کے اندر بھی بہت سے منحرفین ان دو بندوں کے عتاب کا شکار ہو چکے ہیں۔ 

ایک انگریزی اخبار نے گزشتہ سال نومبر میں بشیر میمن کے ایک بیان پر بہت لمبی چوڑی سٹوری شائع کی تھی جو اب بھی انٹرنیٹ پر اخبار کی ویب سائٹ پر موجود ہے جس میں بشیر میمن نے کہا تھا کہ ملک کے Highest office یعنی (وزیراعظم آفس) کی طرف سے انہیں بلا کر مجبور کیا گیا تھا کہ وہ مریم نواز پر دہشت گردی کا مقدمہ بنائیں ۔ بشیر میمن کے بقول انہوں نے کہا کہ مجھے اس پر مواد مہیا کیا جائے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں مگر سوشل میڈیا کی تصویر پر ان پر مقدمہ نہیں بنتا۔ میں کس قانون کے تحت مقدمہ بناؤں جس پر وزیراعظم اور ان کے ساتھی خاموش ہو گئے۔ ان کے حالیہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب انہوں نے فائز عیسیٰ پر کیس بنانے سے انکار کیا تو پھر اس کے بعد جج صاحب کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کا راستہ اختیار کیا گیا۔ اس سلسلے میں ان کی باتیں غیر متعلقہ نہیں ہیں اسی اثنا میں نیب نے کس کس طرح اپوزیشن پر مقدمے بنائے ہیں یہ بھی وسیع تناظر میں بشیر میمن کی تائید کرتے ہیں۔ 

یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ بشیر میمن نے حالیہ وقت کا انتخاب کیوں کیا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ انہوں نے گزشتہ سال بھی دوران ملازمت دباؤ کے بارے میں انکشافات کیے مگر اس وقت سوائے انگریزی اخبار کے کسی نے انہیں گھاس نہیں ڈالی جیسے ہی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ الزامات سے کلیئر ہوئے بشیر میمن کا مؤقف اہمیت اختیار کر گیا جسے تمام چینلز نے اب گود لے لیا ہے کیونکہ بظاہر یہ convincing یعنی قائل کرنے والی بات لگتی ہے ۔میڈیا اس لیے اہمیت دے رہا ہے کیونکہ اس وقت فائز عیسیٰ کیس کا فیصلہ لکھا جا رہا ہے اور تازہ حقائق کی روشنی میں یہ باتیں فیصلے میں درج ہو سکتی ہیں۔ اس بارے میں اعلیٰ عدالت کوئی حکم جاری کر سکتی ہے کہ اسے کسی سطح پر probeکیاجائے۔ 

حکمران جماعت جو چاہتی ہے کہ اسے کارپٹ کے نیچے دھکیل کر چھپا دیا جائے یہ اب ممکن نہیں رہا۔ اگر حکومت کا مؤقف درست ہے تو پھر تو انہیں فوری طور پر اس پر جوڈیشل کمیشن بنانا چاہیے تھا ۔ یاد رکھیں کیس کے اندر اتنا کرنٹ موجود ہے کہ تحریک انصاف کے لیے ایسے حالات پیدا کر دے جو پانامہ سکینڈل نے ن لیگ کے لیے کیے تھے۔


ای پیپر