Asif Anayat, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
01 May 2021 (11:26) 2021-05-01

کرہ ارض پر ہمارا ہی وطن عزیز ہے جس کے حکمران طبقوں اور عوام کا ایسا یدھ ہے جس میں  ہر سحر کی امید پر جدو جہد کرنے والے جب آنکھ کھلتی ہے تو بقول گلزار صاحب :

رات نے پھر رَن جیت لیا

آج کا دن پھِر ہار گیا

والی صورت حال میں مبتلا پائے جاتے ہیں مگر اب تو رات بھی پہلے جیسی نہیں 

چاند کی کرنوں میں وہ روز سا ریشم بھی نہیں 

 چاند کی چکنی ڈلی ہے کہ گھلی جاتی ہے

 اور سناٹوں کی اِک دھول اڑی جاتی ہے                            

مگر حکمران طبقے اقتدار کے نشے میں ایسے دھت ہیں کہ :

کاش اک بار کبھی نیند سے اٹھ کرتم بھی

ہجر کی راتوں میں یہ دیکھو تو کیا ہوتا ہے!

ڈاکٹر علی شریعتی کہتے ہیں کہ اگر کوئی گہری نیند سو رہا ہو آپ اس کو آواز دیں، بلائیں، جھنجھوڑیں وہ نیند سے نہ جاگے اگر زلزلہ آجائے در و دیوار تہہ و بالا ہو جائیں وہ پھر بھی نہ جاگے تو پھر وہ عام نہیں بلکہ ابدی نیند ہے جبکہ جگانے والا تو خود شب بھر کے سفر سے بھوک ، ننگ، افلاس، نا انصافی سے چکنا چور ہے۔ 

دھوکے پہ دھوکا ، تاریخ پہ تاریخ کے بعد جب احساس محرومی میںمبتلا اپنے آپ کویاد دلاتا ہے 

وقت بھی باسی تھا جب شہر میں آیا

ہر شاخ سے لپٹے ہوئے سناٹے تھے

جبکہ دائرے کے سفر اور جبر مسلسل میں کبھی ہر فرد محسوس کرتاہے کہ

آوازیں حراست میں مجھے لیے کھڑی ہیں 

آوازوں کے اس شہر میں قید پڑا ہوں

ہر طرف چور چور، انتقام، ملکی مفاد ، مذہبی رواداری، سابقہ ا دوار، آئندہ یہ ہو گا، گا گے گی، مذہب، مسلک، حب الوطنی، غداری ، غربت، میرے عزیز ہم وطنوں کی آوازوں کا خوف اور نہ جانے کتنی آوازوں کی حراست میں قوم کا ہر فرد ہے مگر حکمران طبقوں کے لئے سر زمین کا آئین ان کہی اور عوام کی پکار ان سنی ہوئے جاتی ہے جب کسی معاشرت کی بنیاد ان کہی اور ان سنی پر استوار ہو جائے تو پھر قدر ت کے فیصلے کا انتظار کرو ۔ میری اپنے بیٹے امیر حمزہ سے ہی کئی مرتبہ بحث ہو جاتی ہے وہ کہتا ہے بابا جیسے دوسرے کاروبار ہیں اسی طرح حکمران طبقے جو کرتے ہیں ان کا کاروبار ہے۔ 

یہ اپنے کاروبار کی قربانی نہیں دے سکتے اور ظلم یہ ہے کہ یہ اپنے فرائض اور ذمہ داری کو ذاتی حیثیت اور دائمی تعارف سمجھتے ہیں۔ عوام بھی دھوکہ کھانا شاید کاروبار سمجھتے ہیں کہ جانتے بوجھتے ہوئے آستین چڑھا کر ان کے لیے آپس میں الجھے پڑے ہیں جو ان کو جانتے تک نہیں اور ان سے الجھے پڑے ہیں جنہوں نے ایک دوسرے کی خوشی ، غمی میں شامل ہونا ہے جن کے قبرستان تک سانجھے ہیں۔منفی سیاست کرنے والے گروہوں اور جماعتوں کی تشکیل و تحلیل کا کون ذمہ دار ہے ۔   گلشن کے اس مسلسل کاروبار میں بیورو کریسی 24 گھنٹوں میں 48 گھنٹے کرپشن میں مگن ہے۔ جبکہ حکمران اقتدار میں مزید اختیارات کے حصول کے لیے سر دھڑ تو درکنار وطن کی سلامتی کو داؤ پر لگائے ہوئے ہیں۔ جو قیادت عوام کے مسائل سے واقف نہیں جو سنی سنائی کو اپنا منشور بنا ڈالے اس نے کیا کرنا ہے بس! میگا تھیٹر ہے، لازوال نوٹنکی ہے جس کا کامیابی سے چلنے کا یہ عالم ہے کہ نظریاتی سیاست تو جرم رہی مصالحاتی سیاست کے لیے ایڈوانس بکنگ جاری ہے جسٹس فائز عیسیٰ کا فیصلہ، چیف جسٹس آف لاہور ہائی کورٹ کے ڈی ایچ اے لاہور کیس میں ریمارکس کی گونج کو اگر مقتدرہ ان سنی کر دے اور ریمارکس فیصلہ آتے وقت ان کہی ہو جائیں تو پھر اس میگا تھیٹر میں آنے والے کلائیمیکس میں سے ایک شمار ہو گا۔ قومی پروا ز مارشل لاؤںاور عدلیہ کے سیاسی فیصلوں سے ائر پاکٹ میں متعدد بار گر گئی مگر ضروری نہیں کہ ہر ائیر پاکٹ سے پرواز بچ جائے۔ لہٰذا حقیقت اور نزاکت کو مد نظر رکھنا ہو گا اتنے تجربے، اتنے ظلم اور ہر لمحہ سازش کب تک آخر کب تک ہم کیوں روزانہ ہر لمحہ کی بنیاد پر اللہ کے قانون کو للکارتے ہیں ہم نہ جانے بے حِس حکمران طبقات پر کیوں بھروسہ کرتے ہیں اور کیوں یقین کرتے ہیںجبکہ  ان کا عالم تو یہ ہے 

شمار سبحہ مرغوب بت مشکل پسند آیا

تماشائے بہ یک کف بردن صد دل پسند آیا

جبکہ بقول مرزا عبدالقادر بیدل دہلوی 

ہر دو عالم خاک شد تابست نقش آدمی

اے بہارِ نیستی اَز قدرِ خود ہشیار باش

یہ دونوں عالم (عالم امر اور عالم خلق) خاک ہو گئے تب جا کر آدم کا نقش تخلیق ہوا، گویا کہ انسان کووجود میں لانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے دونوں عالموں کو تنزلات کی بیشمار منازل سے اتار کر خاک تک پہنچایا تب جا کر آدمی کی تخلیق ہوئی… اے عالم وجود یعنی نیست کی بہار انسان اپنے مقام و مرتبے کو سمجھو۔ 

قومی اداروں کے فیصلوں ، کردار ، عوام کی حالت زار کے چرچے اب ان کہی نہیں رہے مگر سٹیک ہولڈر ان سنی کر رہے ہیں۔ مجھے اس وقت سخت حیرت ہوتی ہے جب یہ بات سنتا ہوں کہ عمران خان کہیں ہمارے علاوہ کوئی چوائس نہیں ہے۔ اور سول سوسائٹی کے بڑے بڑے بظاہر غیرجانبدار منافق یہ کہیں کہ پھر عمران کے علاوہ کس کو لائیں۔ جب ہم کہتے ہیں جس کو عوام چنیں تو کہتے ہیں کہ میاں صاحبان اور بھٹو والے پھر آجائیں گے گویا اگر عوام فیصلہ کریں تو پھر یہ آجاتے ہیں اور  مقتدرہ کے پاس چوائس کوئی نہیں۔ وزیراعظم اپنی کارکردگی پر فخر کرتے ہوں گے مگر زمینی حقائق یہ ہیں کہ ملک میں مڈل کلاس ناپید ہو گئی جو دنیا کے کسی بھی ملک میں ترقی کی ضمانت ہوا کرتی ہے۔ عوام میں مقبولیت کا یہ عالم ہے حکومت ختم ہونے پر پی ٹی آئی تو واپس اپنے سائز میں چلی جائے گی جبکہ پنجاب میں اگر مریم نواز کوئی اور تو درکنار عام آدمی کو پنجاب میں ٹکٹ دیں اور مقابلے میں لاہور میں شہباز شریف خود یا عمران خان ہوں تو ضمانت ضبط ہو جائے۔ سندھ میں بلاول بھٹوکے دیئے گئے ٹکٹ کے مقابلے میں  ممتاز بھٹو یا عمران خان بھی آجائے تو ضمانت ضبط کرانا ہو گی۔ پتہ نہیںیہ کس خیال میں بس رہے ہیں البتہ Truth Commission کے بغیر اگر فیصلے کہیں اور ہونا ہے مصلحت NRO, Reconciliation ہی ہونا ہے تو پھر جس کا ہونا ہے اسی نے آنا ہے لیکن کسی بھی صورت موجودہ سیٹ اپ کادوبارہ آنا ممکن نہیں۔ بہت سی باتیں شہباز درانی ملاقات میں زیر بحث آچکیں ۔بہرحال  حالیہ عدالتی فیصلے سابقہ ڈی جی ایف آئی کے انٹرویو لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے ریمارکس کی گونج اب ان کہی نہیں رہی اور نہ ہی اس کو ان سنی کیا جا سکتا ہے۔ عوام میں مقبولیت اسی کو حاصل ہو گی جو عوام کی بات کرے گا اور حق حکمرانی کے معاملہ میں اصولی مؤقف پر ڈٹا رہے گا ان کہی ان سنی کے زمانے گئے۔ وطنِ عزیزمیں زندگی، قیام اور انا اکٹھے نہیں چل سکتے ۔

لہٰذا قاعدہ ہے کہ جن لوگوں کا دل مصائب سے لذت گیر اور درد کا مزہ شناس نہیں ہوتا ان پر نہ کسی کے نالہ و فریاد کا اثر ہوتا ہے اور نہ کسی کی درد بھری داستان کو اپنی طرف متوجہ کر سکتی ہے۔


ای پیپر