احساس ِ ندامت!
01 May 2021 2021-05-01

یہ جو ”فیس بک“ ہے بعض اوقات ”فیک بُک“ ا ِس لیے لگتی ہے ا ِس میں اکثر لوگ کردار یا شخصیت کے اعتبار سے جو نظر آتے ہیں، اصل میں اُس سے بالکل مختلف ہوتے ہیں، بعض اوقات شکلیں بھی ویسی نہیں ہوتیں جن کی بنیاد پر لوگ ایک دوسرے کو ”فرینڈ“ بنالیتے ہیں، ایک لڑکے نے فیس بک پر ایک لڑکی کی خوبصورتی کو دیکھتے ہوئے اس سے ملنے کی خواہش کی، جب پہلی بار دونوں ملے اُس کے بعد کبھی نہیں ملے، کیونکہ لڑکی چہرے کے اعتبار سے فیس بک سے بالکل مختلف تھی،....کچھ لڑکیوں کے ساتھ بھی ایسے ہی ہوتا ہے، وہ بھی شکل وصورت کی بنیاد پر لڑکوں کے ساتھ تعلق قائم کرلیتی ہیں۔ جب دونوں ملتے ہیں پھر کبھی نہیں ملتے،.... شکل وصورت تو خالق کائنات کی بنائی ہوتی ہے،.... میں نے ایک جرمن دوست سے پوچھا ” آپ گورے جب دوستی یا شادی کرتے ہیں شکل وصورت کو اہمیت کیوں نہیں دیتے؟ میں اکثر یہ محسوس کرتا ہوں ایک انتہائی خوبصورت گورے کی بیوی کا رنگ بہت کالا ہوتا ہے، جسامت بھی عجیب بھدی سے ہوتی ہے، یا ایک انتہائی خوبصورت گوری کا شوہر اس سے بالکل مختلف صورت کا مالک ہوتا ہے“....اُس نے بڑا خوبصورت جواب دیا، اُس نے کہا سب شکلیں ”گاڈ“ بناتا ہے، ہم شکلیں دیکھ کر شادیاں یا دوستیاں نہیں کرتے، ہم صرف دل دیکھ کر شادیاں اور دوستیاں کرتے ہیں، ہم یہ دیکھتے ہیں کوئی ہمارے ساتھ کتنا کیئرنگ کتنا مخلص ہے، .... مجھے اُس کی یہ بات سن کر بڑی حیرانی ہوئی کیونکہ ہمارے ہاں عموماً دل نہیں دیکھے جاتے صورتیں دیکھی جاتی ہیں، حالانکہ کسی کا دل اچھا ہو صورتوں میں کیا رکھا ہے؟ جو کچھ رکھا ہے ”سورتوں“ میں رکھا ہے جن پر بدقسمتی سے ہم توجہ نہیں دیتے، .... سابق آئی جی ناصردرانی صاحب کی یادیں ابھی ختم نہیں ہوئیں، ایک دوکالمز ا ِس حوالے سے مجھے اور لکھنے ہیں، .... اُن سے پہلے ”فیس بک“ کا ذکر میں ا ِس لیے چھیڑ بیٹھا ہوں اگلے روز ناصردرانی مرحوم کے حوالے سے میرا ایک کالم شائع ہوا جس میں لاہور میں تعینات ایک ایس پی کے حوالے سے میں نے لکھا تھا اُنہوں نے کورونا میں مبتلا ایک ماتحت افسر کے ساتھ اس اعتبار سے اچھا سلُوک نہیں کیاتھا کہ جب اُنہیں یہ پتہ چل گیا تھا وہ ماتحت افسر کینسر کا مریض رہا ہے، اب کورونا میں مبتلا ہوگیا ہے ا ِس اعتبار سے اُس پر فوری اور زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے، کیونکہ کینسر یا ایسے موذی امراض میں مبتلا رہنے والے مریضوں کا ”امیون سسٹم“ اچھا خاصا کمزورہوتا ہے ایسی صورت میں کوئی دوسری بیماری خصوصاً کورونا اُن پر زیادہ شدت سے حملہ آور ہوتی ہے۔ ایس پی صاحب کا مجھے فون آیا، اُنہوں نے بڑے دل کے ساتھ اپنی کوتاہی کا اعتراف ا ِس جواز کے تحت کیا کہ ٹی ایل پی اور کچھ دیگر حساس معلومات میں وہ ا ِس قدر مصروف رہے اُنہیں یاد ہی نہیں رہا کہ کسی نے اُن سے ایک ماتحت کا خیال رکھنے کی گزارش کی تھی، مجھے بہت اچھا لگا اُنہوں نے کوئی روایتی بہانہ نہیں بنایا، کوئی جھوٹ نہیں بولا ۔سچے انسان کی کچھ کوتاہیاں اُس کی سچائی کے سامنے ماند پڑ جاتی ہیں، اُن کا یہ مو¿قف بھی درست تھا پولیس کا کام بے سکونی ا ِس قدر بڑھ گئی ہے، ا ِن حالات میں بعض اوقات انسان کو اپنے خونی رشتوں یا گھروالوں کے ضروری کام یاد نہیں رہتے، حالانکہ فیملی سے بڑھ کر کوئی اہم نہیں ہوتا، .... ایس پی صاحب کی ا ِس کوتاہی پر لکھتے ہوئے میں کچھ زیادہ ہی جذباتی ہوگیا تھا، میں نے کچھ ایسے نامناسب الفاظ استعمال کئے جو یقیناً مجھے نہیں کرنے چاہئیں تھے، میں نے اُن کے ”کالے رنگ“ پر بھی لکھا، ا ِس پر فیس بک پر شاید مرتضیٰ نامی ایک صاحب نے اپنے کمنٹس میں بڑے مہذب انداز میں مجھے احساس دلایا کہ رنگتیں اور صورتیں تو اللہ کی بنائی ہوتی ہیں سو اُنہیں تنقید کا نشانہ بنانا کسی بھی حوالے سے درست عمل نہیں“.... مجھے فوراً اپنی غلطی کا احساس ہوگیا، سب سے پہلے ا ِس ضمن میں اللہ سے میں نے گڑگڑاکر معافی مانگی، پھر ایس پی صاحب سے بھی کہا وہ مجھے معاف فرمادیں، بعض اوقات بولتے یا لکھتے ہوئے ا ِس قدرہم جذباتی یا غصے میں ہوتے ہیں ہمیں پتہ ہی نہیں چلتا ہم کیا کہہ رہے ہیں؟۔تکبریا”بڑے بول“ اللہ کو پسند نہیں، میری ہرممکن یہ کوشش ہوتی ہے ہر معاملے میں عاجزی اختیار کروں، پر کبھی کبھی اندر کا”صحافتی جگا“ میری ان کوششوں پر پانی پھیر دیتا ہے۔ میری حالت اُس ”بدمعاش“ جیسی ہو جاتی ہے جس کا ایک جگری دوست کسی کیس میں گرفتارہوگیا تو اسے کسی نے کہا”داتا صاحب“ جاکر دعا مانگو، تمہارے یار کے لیے آسانیاں پیدا ہو جائیں گی، وہ رہاہوجائے گا“۔،....وہ ”بدمعاش“ داتا صاحب گیا، وہاں خوب گڑگڑاکر، روروکر اپنے یار کی رہائی کی دعائیں مانگتا رہا، کچھ دیر بعد اُسے احساس ہوا میں اتنا بڑا بدمعاش ہوں، یہاں ایسے ہی میں کیوں اتنا رو اور گڑگڑا رہا تھا؟ چنانچہ اُس کے اندر کا بدمعاش جاگااور واپسی پر داتا دربار کی سیڑھیاں اُترتے ہوئے اچانک پلٹ کر اُس نے کہا ....اور جاتے ہوئے سیڑھیوں پر کہہ گیا داتا صاحب ”ساہنوں فیر نہ بلانا“ میں سمجھتا ہوں جس کے پاس عاجزی کی نعمت ہے اللہ کی اُس پر خاص رحمت ہے، میری بدقسمتی کبھی کبھی اپنے کسی ”کالے کرتوت“ کی وجہ سے میں اللہ کی اس نعمت سے محروم ہوجاتا ہوں، ایک ماتحت کی بیماری پر توجہ نہ دینے پر ایک پولیس افسر (ایس پی ) پر تنقید کرنا کسی حدتک جائز تھا، مگر یہ بڑی زیادتی تھی اُس کی صورت یا رنگت پر میں تنقید کروں، یا اُس کے کچھ ذاتی معاملات پر بات کروں، سو فیس بک پر شاید مرتضیٰ صاحب نے ا ِس فعل بلکہ میرے ا ِس ”فیل“ کی نشاندہی کی تو میں نے دل کی گہرائیوں سے اُن کا شکریہ ادا کیا، ایس پی صاحب نے ا ِس حوالے سے کوئی گلہ نہیں کیا ۔آپ جب کسی کے ساتھ کوئی زیادتی کرتے ہیں وہ کسی بھی صورت میں آپ سے اُس کا بدلہ لے لیتا ہے تو ا ِس سے کم ازکم میرے جیسے انسان کو ٹھنڈپڑجاتی ہے کہ اس نے اپنا معاملہ اللہ پرنہیں چھوڑدیا۔ خود اُس کا بدلہ لے لیا ہے۔ اور جب کوئی صابر شاکر انسان اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیتا ہے تو بے شک اللہ کی پکڑ بہت سخت ہے۔ دعا ہے اللہ ہمیں غروراور تکبر سے محفوظ رکھے!! 


ای پیپر