امریکی کمیشن کی بھارت پر سخت سفارتی پابندیوں کے اطلاق کی سفارش
01 May 2020 (09:42) 2020-05-01

امریکی کمیشن نے بھارت کو اقلیتوں کیلئے خطرناک ملک قرار دیتے ہوئے بلیک لسٹ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اپنی سفارشات میں کمیشن نے امریکی حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ بھارتی حکومت، اداروں اور حکام پر سفارتی پابندیاں عائد کی جائیں۔

امریکا کے کمیشن برائے مذہبی آزادی کا اپنی رپورٹ میں کہنا تھا کہ بھارت نے بین الاقوامی مذہبی آزادی قوانین کی خلاف ورزیاں کیں اور مذہبی آزادی کیخلاف منظم پُرتشدد کارروائیوں کی اجازت دی۔ کمیشن نے امریکی حکومت سے سفارش کی ہے کہ بھارتی حکومت، اداروں اور حکام پر سفارتی اور انتظامی پابندیاں عائد کی جائیں، جبکہ مذہبی آزادی سلب کرنے میں ملوث افراد کے اثاثے منجمد کرنے کے علاوہ امریکا میں داخلے پر بھی پابندی عائد کی جائے۔

امریکی کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں بھارتی وزیراعظم ، وزیر داخلہ، اور وزیر دفاع پر پابندیوں کے اطلاق کا امکان ہے۔ جبکہ بی جے پی، آر ایس ایس اور پولیس سمیت سرکاری حکام پر بھی پابندیاں لگ سکتی ہیں۔

واضح رہے کہ نریندرمودی پر 2005 میں بطور وزیراعلیٰ گجرات بھی سفارتی پابندیاں لگ چکی ہیں۔ مودی پر گجرات میں مسلم کش فسادات میں کردار پر پابندیاں لگائی تھیں۔ اس کے علاوہ وائٹ ہاؤس ٹویٹر پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی، بھارتی صدر اور واشنگٹن میں بھارتی سفارتخانے کو اَن فالو کرچکا ہے۔


ای پیپر