مراد راس بمقابلہ پرویز الٰہی
01 May 2020 2020-05-01

میںیہاں یہ نہیں کہہ رہا کہ تحریک انصاف کی حکومت میں اورنج لائن جیسا نواز لیگ کا کوئی میگا پراجیکٹ تباہ کیا جا رہا ہے بلکہ پنجاب کا محکمہ سکول ایجوکیشن یہ کام اپنے اتحادی سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزا لٰہی کے ڈبل ون ڈبل ٹو جیسے ہی ایک شاندار منصوبے کے ساتھ کرنے جار ہا ہے، جی ہاں، میں پنجاب ایجوکیشن فاﺅنڈیشن کی بات کر رہا ہوں جس کی بنیاد چودھری پرویزا لٰہی کی وزارت اعلیٰ میں رکھی گئی۔ یہ منصوبہ جہاں بچوں کو بہترین تعلیم دینے کے لئے تھا وہاں سرکاری اخراجات میں بھی اسی فیصد تک کمی لا رہا تھا۔ کہتے ہیں کہ شہباز شریف کے سامنے اس کی تفصیلات رکھی گئیں تو وہ اپنے سیاسی مخالف کے دور میں شروع ہونے والے اس منصوبے سے اتنے متاثر ہوئے کہ اپنے دور میں اسے دس گنا تک بڑھا گئے بالکل ایسے ہی جیسے ایمرجنسی ایمبولینس سروسز اورٹریفک کنٹرول کے لئے وارڈن سسٹم۔ جب چودھری پرویز الٰہی کا بطور وزیراعلیٰ اقتدار مکمل ہوا پیف کے سکولوں میں ساڑھے تین لاکھ بچے تھے اور شہباز شریف کے دور کے اختتام یہ تعداد 31 لاکھ تک پہنچ گئی ۔

پیف یعنی پنجاب ایجوکیشن فاونڈیشن پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ ہے ، یہ مشہورزمانہ پنجاب ایجوکیشن انڈوومنٹ فنڈ سے مختلف ہے کہ انڈوومنٹ فنڈ میں پرافٹ کی رقم سے باصلاحیت مگر مستحق طالب علموں کی اعلیٰ تعلیم کے اخراجات سرکاری طور پر اٹھائے جاتے ہیں۔ پیف میں پرائیویٹ پارٹی ایک سکول قائم کرتی ہے یا پہلے سے قائم پرائیویٹ سکول اس سسٹم میں لاتی ہے تو وہاں پڑھنے والے بچوں کی فیسیں صوبائی حکومت ادا کرتی ہے مگر اس پرائیویٹ سکول کو تعلیم و تدریس کے اعلیٰ ترین معیار کو برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ ابھی حال ہی میں ان سکولوں کے میٹرک کے نتائج اتنے شاندار رہے کہ ٹوئیٹر پر مبارکباد کا ٹاپ ٹرینڈ بن گیا، ان سکولوں کی بچیوں مہک منیر، سہلا وقاص، عالیہ الطاف اور عروبہ نثار وغیرہ نے مختلف بورڈ میں ٹاپ پوزیشنز لیں، یہاں ششماہی امتحانوں میں مارکس کی ایوریج 83 فیصد رہی کہ کوالٹی ایشورینس ٹیسٹ 75 فیصد نمبروں کے ساتھ پاس کرنا ضروری ہے۔ جہاں یہ سکول ایجوکیشن کا دنیا کا سب سے بڑا پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ وینچر بنا تھرڈپارٹی ایگزامننگ سسٹم کے ساتھ اپنے بہترین نتائج سے دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے۔

پیف سکولوں میں داخلے کیوں نہیں ہو رہے اور مراد راس، چودھری پرویز الٰہی کا منصوبہ کیوں اور کیسے تباہ کر رہے ہیں، اس پر بات کرنے سے پہلے ہم سرکاری سکولوں اور پیف سکولوں کا ایک موازنہ کر لیتے ہیں کہ سرکاری سکولوں میں طالب علموں کی تعداد ایک کروڑ17 لاکھ 22ہزار جبکہ پیف سکولز میں 28لاکھ ہے مگرسرکاری سکولوں کا بجٹ تین سو تراسی ارب جبکہ پیف سکولوں کا صرف بیس ارب ہے یعنی حکومت اپنے سکولوں میں ہر برس ایک بچے 32ہزار 673روپے خرچ کر رہی ہے جبکہ پیف سکولوں میں یہی سالانہ خرچ 7 ہزار 142 ہے جو ماہانہ دو ہزار سات سو بائیس روپوں کے مقابلے میں پانچ سو پچانوے روپے بنتا ہے۔ گذشتہ برس جب سرکاری اور پیف سکولوں کی مانیٹرک کے نتائج سامنے آئے تو پیف سکولوں میں حاضر طلبا و طالبات نوے فیصد تھے جبکہ سرکاری سکولوں میں 59 فیصد یعنی ایک طرف صرف 10 فیصد غیر حاضر تھے تو دوسری طرف 41 فیصد۔ سالانہ نتائج پر آجائیں تو سرکاری سکولوں کے نتائج بیس سے پچاس فیصد کے درمیان ہیں جبکہ پیف سکولوں کے 75 سے سو فیصدتک۔ پیف کے 75 فیصد سکول دیہات اورقصبوں میں قائم ہوئے اور ہر تین میں سے ایک بچہ معاشرے کے سب سے کم کمائی والے والدین کا ہے۔

جب ایک چوتھائی سے بھی کم خرچ پر دوگنے بہتر نتائج مل رہے ہیں تو مسئلہ کہاں ہے۔ مسئلہ اس کنٹینر اپروچ میں ہے جس میں آپ نے ہر شے میں لازمی طور پر کرپشن ثابت کرنی ہے۔ گذشتہ برس پیف نے ایک انٹرنل آڈٹ کروایا جس میں سامنے آیا کہ اٹھائیس لاکھ میں سے دو لاکھ 89ہزار کے قریب طالب علم یا تو موجود نہیں یا ان کے ریکارڈ میں غلطیاں ہیں جیسے اکثر شناختی کارڈ نمبر غلط ہوجاتا ہے یا والد کا نام، کہیں ایک کی تصویر دوسرے پر چسپاں ہوجاتی ہے۔نئی حکومت نے اس پر کرپشن، کرپشن کا شور مچا دیااور فنڈز کا اجرا روک دیا گیا حالانکہ پرائیویٹ پارٹنرز کے ساتھ یہ طے تھا کہ اسی فیصد تک حاضری پر فنڈز میںروک یا کٹوتی نہیں ہو گی ۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ مانیٹرنک رپورٹ بھی یک طرفہ طور پر تیار کی گئی یعنی اس میں سکولوں کی انتطامیہ کا موقف تک شامل نہ کیا گیاحالانکہ یہ کامن سینس کی بات ہے کہ تمام سکولوں میں تمام بچے سوفیصد حاضر نہیں ہوسکتے۔ چلیں مان لیتے ہیں کہ ان دس میں سے دو ،چار فیصد بچوں کی انٹریز ویری فائی ایبل نہ ہوں مگر دوسری طرف پیف اس وقت سکولوں میں موجود اصل فزیکلی ویری فائیڈ تعداد کے مقابلے میں پہلے ہی تین لاکھ 30ہزار بچوں کے فنڈز کم دے رہا ہے کہ پیسے نہیں آ رہے لہذا جو اعترا ض ہوا اس سے زیادہ کٹوتی پہلے ہو رہی ہے۔

سکول ایجوکیشن ڈپیارٹمنٹ نے پیف کے سکولوں میں داخلوں پر پابندی عائد کر دی ہے جس کی وجہ سے اکتیس لاکھ کی تعداد پہلے کم ہو کر اٹھائیس اور اب دوسرے برس چوبیس لاکھ تک آ رہی ہے۔ جب ہم یہ بات کرتے ہیں کہ پنجاب کے کروڑوں بچے سکولوں سے اب بھی باہر ہیں تو انہیں پیف جیسے منصوبوں کے ذریعے ہی سکولوں میں لایا جا سکتا ہے۔ ان سکولوں کے بچوں کی بڑی تعدادمیڈیکل کالجوں اور دیگر اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ سکول ایجوکیشن ڈپیارٹمنٹ، پیف کے ساتھ یہ سلوک کیوں کر رہا ہے تو اس کی پہلی وجہ تو کرپشن کا شور مچانا ہے جسے مبینہ طور پر چیف منسٹر انسپکشن ٹیم کے سامنے بھی ثابت نہیں کیا جا سکا اور دوسرے ڈپیارٹمنٹ ان فنڈز کو کسی دوسرے سیاسی پراجیکٹ میں استعمال کرنا چاہتا ہے جیسے کہ پنجاب میں کرائے کی عمارتیں لے کر ایک ہزار سکول قائم کئے جا رہے ہیں جن کی فزیبیلیٹی اور ورکنگ بارے شدید ترین تحفظات اور خدشات موجود ہیں جبکہ اس کے مقابلے میںپندرہ برسوں سے چلنے والے اس شاندار پراجیکٹ نے اپنی افادیت ثابت کر دی ہے۔

میں نہیں جانتا کہ میں کس کو مخاطب کر رہاہوں شائد وزیراعظم کوچیف جسٹس یا آرمی چیف کو ،چودھری پرویز الٰہی کے ساتھ پیف سکولز والوں کی تنظیم اور وزیر تعلیم مراد راس کے ایک سے زائد مرتبہ مذاکرات ہو چکے جن کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آ رہا ۔ سکول ایجوکیشن ڈپیارٹمنٹ کے پاس کوئی دلیل نہیں کہ وہ اس منصوبے کو کیوں تباہ کر رہا ہے مگر وہ صرف تباہ کر رہا ہے۔ محکمہ جس مانیٹرنگ رپورٹ کی بات کرتا ہے وہ یک طرفہ بھی ہے اورپیف سکولوں کی کارکردگی بارے کسی قسم کے سوالات بھی نہیں اٹھاتی۔ یہاں ایک اور تکنیکی نکتہ یہ ہے کہ پیف خود مختار اور بااختیار ہے مگر سکول ایجوکیشن ڈپیارٹمنٹ کے محترم وزیر اس کے فنڈز ہڑپ کرنے کے لئے اس کے معاملات میں غیر آئینی اور غیر قانونی مداخلت کر رہے ہیں۔ وہ سکول جن کی انرولمنٹ میں پی ٹی آئی کی حکومت آنے سے پہلے کے سات آٹھ برسوں میں133فیصد اضافہ ہو ا اب اس انرولمنٹ کو ہی ریورس گئیر نہیں لگا بلکہ فنڈز کا اجرا ءنہ ہونے سے لاکھوں اساتذہ کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں۔ پیف کے پارٹنرز کی بڑی تعداد مڈل کلا س سے تعلق رکھتی ہے جو نہ بڑی سرمایہ کاری کر سکتی ہے اور نہ ہی بڑا نقصان برداشت کر سکتی ہے۔عمران خان کہا کرتے تھے کہ وہ اقتدار میں آکر سڑکوں، پلوں ، انڈر پاسوں کی بجائے تعلیم اور صحت کے شعبوں میں انسانوں پر سرمایہ کاری کریں گے مگر دعووں کے برعکس نااہل وزرا کے ذریعے صحت کے ساتھ ساتھ سکول ایجوکیشن کا شعبہ بھی تباہی کے دہانے پر پہنچا جا رہا ہے۔


ای پیپر