جتنا مرضی شور مچے، این آر او نہیں دیں گے، وزیر اعظم
01 May 2019 (21:01) 2019-05-01

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے ایک مرتبہ پھر اپوزیشن پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن جمہوریت بچانے کا شور مچا کر اپنی چوری بچانا چاہتے ہیں، اسمبلی میں شور مچانے کا مقصد این آر او کا حصول ہے،میں کسی صورت این آر او نہیں دے سکتا.

تحریک انصاف مسلسل جدوجہد کے بعد اس مقام پر پہنچی ،ہمیں کسی جنرل جیلانی یا مبینہ خط نے اقتدار میں نہیں پہنچایا،پی ٹی آئی ہی پاکستان کو موجودہ بحران سے نکالے گی، سیاست میں آنے سے پہلے ہی اللہ نے مجھے اتنی ترقی دید ی تھی کہ آسانی سے زندگی گزار سکوں،میں سیاست میں اس لیے آیا کیونکہ مجھ میں تبدیلی آئی،جہاں ایمان دار وزیراعظم آیا اس نے ملک کے لیے کام کیا،میں یہ چاہتا ہوں کے ہمارے نوجوان نبی کی زندگی کو سمجھیں، جب الیکشن میں سیٹیں نہیں ملتی تھیں تو بہت سے لوگ چھوڑ کر چلے گئے لیکن کچھ نے ساتھ دیا.

2008 میں الیکشن کا بائیکاٹ کیا تو لوگوں نے کہا کہ تحریک انصاف ختم ہوگئی،15 برس تک لوگ ہمارا مذاق اڑاتے تھے ہمیں تانگہ پارٹی کہتے تھے ، ہماری پارٹی میں ان 23 سالوں میں کئی لوگ آئے اور کئی لوگ گئے، سندھ سے بلاول بھٹو بول رہے ہوتے ہیں اور دوسری طرف مولانا فضل الرحمان کی باتیں بھی ہیں، سابق صدر پرویز مشرف کے دو این آر اوز کی وجہ سے ملک پر قرضہ چڑھا۔ میں صرف اللہ تعالیٰ کو جواب دہ ہوں ،درست ہے کہ لوگ مشکل میں ہیں، ہمیں 19 ارب ڈالرز کا خسارہ ملا جبکہ ن لیگ کو ڈھائی ارب ڈالرز کا خسارہ ملا تھا، پیپلز پارٹی کے پہلے آٹھ ماہ میں مہنگائی کی شرح21.7 فی صد تھی اور ن لیگ کی آٹھ فیصد تھی جبکہ پی ٹی آئی کے پہلے چھ ماہ میں مہنگائی 6.8 فیصد رہی ، تحریک انصاف مسلسل جدوجہد کے بعد اس مقام پر پہنچی ہمیں کسی جنرل جیلانی یا مبینہ خط نے اقتدار میں نہیں پہنچایا،جب حکومت سنبھالی تو پاکستان کا قرضہ 30 ہزار ارب تھا جسے سابق حکمران 10 سالوں میں 6 ہزار ارب تھا، اپوزیشن نے پہلے دن سے شور مچا دیا کہ حکومت کے پاس تجربہ نہیں ہے ،ہم تیل کی قیمتیں نہ بڑھائیں تو قرضوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

بدھ جناح کنونشن اسلام آباد میں وزیر اعظم عمران خان نے تحریک انصاف کے 23ویں تاسیس کے لیے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کہا کہ تحریک انصاف کی جدوجہد کوسمجھنے کی ضرورت ہے، جب آپ کسی مشن پر ہوتے ہیں تو وقت کوئی معنی نہیں رکھتا، جدوجہد آپ کو مضبوط بناتی ہے اور مسلسل چلتی ہے۔پارٹی کے 23ویں یوم تاسیس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں تھی۔ میں سیاست میں اس لیے آیا کیونکہ مجھ میں تبدیلی آئی۔ پی ٹی آئی اپنی جدوجہد سے آگے آئی۔ یہی پارٹی پاکستان کو موجودہ بحران سے نکالے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ جہاں ایمان دار وزیراعظم آیا اس نے ملک کے لیے کام کیا،میں یہ چاہتا ہوں کے ہمارے نوجوان نبی کی زندگی کو سمجھیں، مدینہ کی ریاست ایک جدید ریاست تھی جو اصولوں پر کھڑی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا نظریہ پاکستان تھا، ہمیں اپنی ریاست کو انہیں اصولوں پر لانا ہے، جب الیکشن میں سیٹیں نہیں ملتی تھیں تو بہت سے لوگ چھوڑ کر چلے گئے لیکن کچھ نے ساتھ دیا، 2008 میں الیکشن کا بائیکاٹ کیا تو لوگوں نے کہا کہ تحریک انصاف ختم ہوگئی،15 برس تک لوگ ہمارا مذاق اڑاتے تھے۔ کہتے تھے یہ تانگہ پارٹی ہے، ہماری پارٹی میں ان 23 سالوں میں کئی لوگ آئے اور کئی لوگ گئے، سندھ سے بلاول بھٹو بول رہے ہوتے ہیں اور دوسری طرف مولانا فضل الرحمان کی باتیں بھی ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ لوگ مشکل میں ہیں، ہمیں 19 ارب ڈالرز کا خسارہ ملا جبکہ ن لیگ کو ڈھائی ارب ڈالرز کا خسارہ ملا تھا، پیپلز پارٹی کے پہلے آٹھ ماہ میں مہنگائی کی شرح21.7 فی صد تھی اور ن لیگ کی آٹھ فیصد تھی جبکہ پی ٹی آئی کے پہلے چھ ماہ میں مہنگائی 6.8 فیصد رہی انہوں نے کہا کہ ہم کسی صورت این آر او نہیں دیں گے،انہوں نے کہا کہ کسی صورت این آر او نہیں دیں گے.

گزشتہ این آر او سے ملک کو بہت نقصان ہوا،وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ تحریک اںصاف مسلسل جدوجہد کے بعد اس مقام پر پہنچی ہمیں کسی جنرل جیلانی یا مبینہ خط نے اقتدار میں نہیں پہنچایا،جب حکومت سنبھالی تو پاکستان کا قرضہ 30 ہزار ارب تھا جسے سابق حکمران 10 سالوں میں 6 ہزار ارب سے یہاں تک لے آئے تھے۔ لیکن اپوزیشن نے پہلے دن سے شور مچا دیا کہ حکومت کے پاس تجربہ نہیں ہے ،ہم تیل کی قیمتیں نہ بڑھائیں تو قرضوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ حکومت سنبھالی تو بجلی کا خسارہ 1200 ارب جبکہ گیس کا 150 ارب روپے تھا۔ سابق صدر پرویز مشرف کے دو این آر اوز کی وجہ سے ملک پر قرضہ چڑھا۔ میں صرف اللہ تعالیٰ کو جواب دہ ہوں، میں کسی صورت این آر او نہیں دے سکتا۔ان کے اور پاکستان کے مفادات مخالف ہیں۔

آہستہ آہستہ سب کی کرپشن ہمارے سامنے آ رہی ہے۔ اپوزیشن کو سمجھ آ گئی کہ ہر روز ان کی کرپشن کی چیزیں مل رہی ہیں۔ دیگر ممالک بھی ہمیں ان کی کرپشن کی چیزیں بھیج رہے ہیں۔ ان سب کو پتا ہے کہ ان سب نے پکڑے جانا ہے۔بڑی قومیں اس لیے تباہ ہوئیں کیونکہ وہاں طاقتور اور غریب کے لئے الگ قانون تھا۔،نواز شریف کے علاج سے متعلق انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ایسا شخص علاج کے لیے باہر جانے کا بولے جو ایک عام شخص ہو تو سوچا جاسکتا ہے لیکن جو اس ملک میں 24 برس پاور میں رہے ہوں اور اپنے لیے ایک اسپتال نہ بنا سکیں ہوں،ہم سب کے لیے ایک قانون لے کر آرہے ہیں،پاکستان جلد سیاحت کا حب بن جائے گا۔ ہم اسے فروغ دیں گے۔ بلدیاتی نظام ایک زبردست نظام ہے۔

زرعی اصلاحات کے لیے مکمل پروگرام بنایا ہے،چین ہماری بھر پور مدد کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ چین سے مصنوعی ذہانت کے ہروگرام کے لیے مدد لے رہے ہیں، اگلے دو ہفتے بہت اہم ہیں کیونکہ آف شور کی جو کھدائی ہورہی ہے جس کے بعد معلوم ہوگا کے کتنا ذخیر ہ نکلتا ہے اگر امید کے مطابق ذخیرہ نکل آیا تو پاکستان کے اگلے 50 سال تک گیس کے مسائل حل ہوجایئں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم اس مشکل وقت سے جلد نکلیں گے۔ تقریب سے وفاقی وزراءسمیت سیاسی رہنماﺅں اور پارٹی ورکروں نے شرکت کی، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ نواز شریف کہہ رہے ہیں کہ علاج کے لئے باہر جانے دیں۔ اسحاق ڈار کا علاج باہر ، شہباز شریف باہر اور حمزہ شہباز کی فیملی باہر، یہ اپنے دور اقتدار میں ایک ہسپتال نہیں بنا سکے کہ ان کا علاج پاکستان میں ہو سکے،تمام اپوزیشن جماعتوں کو اپنی کرپشن عیاں ہونے پر پریشانی ہے اور اسی بنیاد پر موجودہ حکومت کے خلاف اسلام آباد میں مارچ کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں‘۔

عمران خان نے کہا ہے کہ ’اللہ نے مجھے سیاست میں آنےسے قبل تمام نعمتوں سے نوازا اور میں لوگوں کی خدمت کرنے کے لیے سیاست میں آیا‘۔انہوں نے کہا کہ ’جمہوریت بچانے کا شور مچا کر اپنی چوری بچانا چاہتے ہیں، اسمبلی میں شور مچانے کا مقصد این آر او کا حصول ہے‘۔عمران خان نے واضح کیا کہ سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف اور آصف علی زرداری کو این آر او دیا جس کی وجہ سے ملک کا 6 ہزار ارب روپے کا قرضہ 30 ہزار ارب روپے تک پہنچ گیا لیکن میں ہرگز کسی کو این آر او نہیں دوں گا کیونکہ میں اللہ کو جواب دہ ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ 22 برس حکمرانی کرنے والے ایک ہسپتال تعمیر نہیں کر سکے جہاں ان کا علاج ممکن ہوسکے۔تحریک انصاف کے چیئرمین نے کہا کہ کہ’جب ایک حکمران چوری کرتا ہے تو سارا نظام برباد ہوجاتاہے‘۔

وزیراعظم نے کہا کہ ریاست مدینہ کے سنہری اصولوں سے دوری ہمارے تنزل کی بڑی وجہ بنی۔ان کا کہنا تھا کہ مخلص قائدین ملک وقوم کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں اور اس کی مثال مہاتر محمد ہیں جن کی بدولت ملائیشیا نے ترقی حاصل کی۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے 23 برس جدوجہد کی مثال ہے، جدوجہد میں اچھے اور برے وقت آتے ہیں اور بعض لوگ دل برداشتہ ہوجاتے ہیں جبکہ کچھ رک جاتے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ واحد پارٹی ہے جو مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں وجود میں آئی، کسی شارٹ کٹ کی صورت میں موجود میں نہیں آئی اور یہ ہی پارٹی پاکستان کو معاشی اور اقتصادی بحران سے نکالے گی۔


ای پیپر