’پی ٹی ایم‘ اور ملک کی سلامتی کا مسئلہ
01 مئی 2019 2019-05-01

گزشتہ سوموار کو پاکستانی فوج کے ترجمان ، ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے اہم پریس کانفرنس کی اور ملک کو در پیش نازک سکیورٹی معاملات میں سے چند ایک پر باقاعدہ پالیسی بیان جاری کیا… جنرل صاحب نے گزشتہ چار پانچ سال کے اندر ہمارے قبائلی علاقوں سے اٹھنے والی نوجوانوں کی تیز و تند تحریک ’پختون تحفظ موومنٹ‘ ( پی ٹی ایم ) کے مطالبات اور اس کے نعروں میں پائی جانے والی شدت کے حوالے سے نہ صرف افواج پاکستان کا نقطۂ نظر بیان کیا بلکہ اس تحریک سے نمٹنے کی خاطر مسلح افواج کی قیادت کا لائحہ عمل بھی واضح کر دیا جو پالیسی اعلان کے مترادف ہے…برملا کہا پی ٹی ایم کو دی جانے والی مہلت ختم ہو گئی ہے، اب ریاست اس کے ساتھ سیدھے ہاتھوں نبرد آزما ہو گی… جنرل آصف غفور نے واضح کیا کہ اگرچہ پی ٹی ایم والے اپنے مطالبات میں ردو بدل کرتے رہتے ہیں لیکن ان میں سے تین باقاعدہ تسلیم کر لیے گئے ہیں اور اس کے ساتھ پاک فوج کے ترجمان کی جانب سے یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ پختونوں کے جذبات کو بھڑکانے والی اس تنظیم نے کب اور کونسے موقع پر بھارت کی خفیہ ایجنسی را ، افغانستان کی سیکرٹ سروس ’این ڈی ایس‘ اور دوسرے غیر ملکی اداروں سے مالی مدد حاصل کی … ہم سے ان کی کوئی سرگرمی چھپی ہوئی نہیں۔ جنرل صاحب کا کہنا تھا پی ٹی ایم والوں کو کسی غلط فہمی میں مبتلا نہیں رہنا چاہیے ، ریاست پاکستان اپنی بات منوانا اور اس پر عمل کروانا خوب جانتی ہے… ہمیں چونکہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ہدایت کر رکھی تھی کہ ان کے نقطۂ نظر کو توجہ اور انہماک کے ساتھ سناجائے، سختی سے کام نہیں لینا ورنہ شروع دن سے ہی انہیں بے اثر بنا کر رکھ دیا جا سکتا تھا… مزید انتظار نہیں کیا جا سکتا … صوبہ خیبر پختونخوا سے ملحق قبائلی علاقوں کے حالات پر نگاہ ڈالیں تو تازہ ترین صورت حال کے تناظر میں پاکستانی فوج کے ترجمان کا یہ بیان غیر معمولی حیثیت رکھتا ہے… اسے ملک کے اہم ترین اور مؤثر ترین ریاستی ادارے کی جانب سے باقاعدہ پالیسی بیان کا درجہ حاصل ہے… یعنی اس پر عمل ہو گا اور پی ٹی ایم کے نوجوانوں کو مزید کسی قسم کی رعایت نہ دی جائے گی… افواج پاکستان وطن عزیز کے دفاعی نظام کا طاقتور ترین حصہ ہیں… ہمارے رقبے کے ایک ایک انچ کی حفاظت ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داری ہے… اور اس میں شک نہیں کہ وہ اس فریضے کی انجام دہی میں کوئی کسر باقی نہیں رہنے دیتے، جس کی وجہ سے پوری قوم کو اس ادارے پر فخر ہے… اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا ہمارا یہ عظیم ادارہ آئین پاکستان اور نظم مملکت کے تحت وزارت دفاع کا حصہ ہے… کیا بہتر نہ ہوتا کہ اتنا اہم درجے کا پالیسی بیان افواج پاکستان اور منتخب حکومت دونوں کی نمائندگی کرتے ہوئے وزیر دفاع جاری کرتے اور اسے عام درجے کی پریس کانفرنس کی بجائے پارلیمنٹ کے ایوان میں کھڑے ہو کر قوم کے تمام منتخب نمائندوں کے سامنے پیش کرتے… جس کے نتیجے میں نہ صرف قوم کے اندر یہ اعتماد پیدا ہوتا کہ اس کے منتخب نمائندوں کو ساتھ لے کر داخلی دفاع کے حوالے سے ایک بہت بڑی پالیسی کا اعلان کیا جا رہا ہے بلکہ یہ احساس بھی پروان چڑھتا کہ ہماری قابل فخر مسلح افواج جو اقدام بھی کرنے جا رہی ہیں ، اُس میں وہ پوری قوم کو اپنے ساتھ لے کر چلے گی… اس سے دنیا کو بھی یہ پیغام ملتا کہ پاکستان کے ادارے آئین اور پارلیمنٹ کے ساتھ پوری طرح ہم آہنگ ہیں… اپنے طور پر کوئی قدم نہیں اُٹھاتے بلکہ اُنہیں ملک کے منتخب اداروں کا مکمل اعتماد حاصل ہے… یہ اعتماد اب بھی یقینا بدرجہ اتم پایا جاتا ہے لیکن اگر اس کا اظہار جمہوری حدود و قیود اور نزاکتوں کی پابندی کرتے ہوئے ہوتا تو کہیں بہتر ہوتا… اس سے یہ تاثر بھی پختہ ہوتا دفاعی پالیسی پارلیمنٹ تیار کرتی ہے… عمل فوج اور دوسرے حکومتی محکمے کرتے ہیں… یعنی جنگ فوج لڑتی ہے… اس کا فیصلہ منتخب ادارے کرتے ہیں… پچھلی حکومت کے دوران اتنے اہم بیان کے اجراء کے موقع پر وزیر دفاع یا وزیر اطلاعات فوج کے ترجمان کے ساتھ بیٹھتے تھے… اس مرتبہ اتنا تکلف بھی روا نہیں رکھا گیا…

اس بنیادی اور اصولی بات سے قطع نظر فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے اپنی پریس کانفرنس میں جس طریقے سے پی ٹی ایم کے نوجوانوں اور ان کے ساتھ ہمدردی رکھنے والوں کو متنبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ جس طرح دشمن اداروں سے مدد حاصل کرتے ہیں پاک فوج کو ان کی ساری کارروائیوں کا علم ہے تو راقم کے خیال میں زیادہ مناسب ہوتا جن جن افراد (individuals) نے یہ رقوم یا مالی مدد حاصل کی ہے، ان کو فوراً گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لے آیا جاتا… تمام ثبوت پارلیمنٹ یا عوام کے سامنے پیش کر دیے جاتے اور پی ٹی ایم کو خبردار کر دیا جاتا کہ آئندہ ان کا جو بھی فرد یا عہدیدار ایسی کسی سرگرمی میں ملوث پایا گیا تو سکیورٹی اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظروں سے بچ نہیں سکے گا… مجھے یقین ہے کہ اگر ایسی کارروائی کی جاتی اور تمام شواہد سامنے آ جاتے تو پی ٹی ایم کی جتنی اور جیسی کچھ حمایت پختون عوام میں پائی جاتی ہے، وہ آدھی سے زیادہ ختم ہو کر رہ جاتی ہے… افواج پاکستان کے خلاف جس طرح کے نعرے وہ بلند کر رہے ہیں، جو نازیبا باتیں ان کے منہ سے نکل رہی ہیں، لوگ ان شواہد کو ان کے منہ پر مار کر برسر عام کہتے کہ تم دشمن کے ایجنٹ بن کر ہماری مسلح افواج کو گالی دے رہے ہو… لیکن حیرت کی بات ہے کہ آج جبکہ جمعرات کے روز قارئین کی نظر سے یہ سطور گزر رہی ہوں گی، جنرل آصف غفور کے بیان کو کہ پی ٹی ایم کی مہلت ختم ہو گئی ہے، چار روز گزر گئے ہیں کوئی بڑا اقدام ہوتا نظر نہیں آ رہا بلکہ خدشہ ہے کہ پی ٹی ایم کے وہ افراد یا عہدیدار جنہوں نے اپنے ہاتھوں سے یہ رقوم وصول کی ہیں بھاگ کر خفیہ ٹھکانوں میں پناہ نہ لے لیں، جہاں ردعمل کا شکار ہو کر مزید منتقمانہ کارروائیوں کا موقع مل جائے… اس بات سے تو ملکی سیاست پر نگاہ رکھنے والا ہر بالغ نظر شخص واقف ہے اور جنرل غفور نے بھی پختونوں کے نام اپنے پیغام میں یہ تاثر دیا ہے کہ چند افراد کی گمراہی کا ذمہ دار وہاں کے عوام کے کسی حصے کو قرار نہیں دیا جا سکتا جبکہ یہ حقیقت بھی ہمارے سامنے ہے کہ جنرل آصف غفور کی پریس کانفرنس سے دو تین روز قبل وزیراعظم پاکستان عمران خان نے اورکزئی جیسے قبائلی علاقے میں جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پی ٹی ایم والوں کے مطالبات جائز ہیں مگر فوج کے خلاف ان کا لہجہ سخت قابل اعتراض ہے… سوال یہ ہے کہ اگر مطالبات جائز ہیں تو انہیں فوراً اعلانیہ تسلیم کر کے فوج کے خلاف اُن کے نعروں کے غبارے سے ہوا کیوں نہیں نکال دی جاتی؟ اپوزیشن کے ایک بڑے سیاستدان آصف زرداری نے بھی ان کے مطالبات کو جائز قرار دیا ہے… جب یہ صورت حال ہے تو پھر آپ انہیں اپنے مطالبات بڑھ چڑھ کر اور فوج کے خلاف نعرہ بازی کے غلاف میں لپیٹ کر پیش کرنے کی مہلت کیوں دے رہے ہیں؟ انہیں کھلے دل سے تسلیم کر لیجیے جبکہ آپ کے مطابق کچھ پر عمل بھی ہو رہا ہے… تو تمام مطالبات کو مان لینے میں کونسا امر مانع ہے؟ ان کے بڑے مطالبات میں سے ایک نقیب اللہ محسود کے قتل کی کارروائی کا حکم دینے والے کراچی کے پولیس افسر راؤ انوار کو قرار واقعی سزا دینا ہے…اسی واقعے نے اس تحریک کو زبردست اٹھان دی … جنرل آصف غفور نے اپنی پریس کانفرنس میں زرداری صاحب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ راؤ انوار تو اُن کا بچہ ہے… اگر اسے درست بھی مان لیا جائے تو کیا اس بنا پر راؤ انوار کے تمام گناہ معاف کیے جا سکتے ہیں اور پی ٹی ایم کی تحریک کو مزید بڑھاوا دیا جا سکتا ہے… کیا ہم زرداری صاحب کے بچہ کو کچھ نہیں کہنا چاہتے؟

صورت واقعہ کا ایک اور پہلو بھی بہت زیادہ قابل توجہ ہے افغان انتظامیہ اور بھارتی سرکار نے یقینا پی ٹی ایم میں اپنے آدمی گھسیڑرکھے ہوں گے جو انہیں پاکستان کی سلامتی کے خلاف کارروائیان کرنے پر اکساتے بھی ہوں گے… یہ امر گرتی، لڑکھڑاتی کابل انتظامیہ کی ضرورت ہے… طالبان ان کی حیثیت تسلیم کرنے کو تیار نہیں… امریکہ کی تمام تر کوششوں کے باوجود وہ ان کے ساتھ مذاکرات کرنے پر آمادہ نہیں… لہٰذا یہ امر چنداں باعث تعجب نہیں ہے کہ انہوں نے ہمارے قبائلی علاقوں کے اندر اُٹھنے والی ایک عوامی تحریک کے اندر اپنا اثر و رسوخ پیدا کیا تاکہ وقت ضرورت کام آئے… اس لیے اگر ہمارے ریاستی ادارے پی ٹی ایم کے چند شرارتی عناصر اور دشمن سے پیسے وصول کرنے والے افراد کا باقاعدہ تعین کر کے اور اس تحریک کے تمام جائز مطالبات کو تسلیم کر کے صرف اور صرف رنگے ہاتھوں پکڑے جانے والے افراد کے خلاف کارروائی کریں گے تو افغان انتظامیہ اور اُن کے سرپرست بھارت دونوں کو ہمارے قبائلی علاقوں کے لوگوں کے اندر گڑ بڑ پیدا کرنے کے مواقع نہیں ملیں گے… ورنہ وہ اس کے انتظار میں بیٹھے ہیں کہ پاکستان کی جانب سے کوئی کارروائی ہو، قبائلی عوام کا کوئی حصہ اس سے متاثر ہو اور وہ ان کے جذبات کو بھڑکا کر اپنا الو سیدھا کریں اور عین اس وقت جبکہ افغان مسئلہ حل ہونے کے قریب پہنچنے والا ہے ملحقہ قبائلی علاقوں کے اندر نئی آگ بھڑکانے کی کوشش کی جائے… بدھ یکم مئی کو سہ پہر جبکہ یہ سطور قلمبند کی جا رہی ہیں پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے میں مصروف ہماری سکیورٹی فورسز پر حملہ کر دیا گیا ہے… تین اہلکار شہید ہوئے ہیں… اشرف غنی اینڈ کمپنی کی خواہش ہے کہ اس آگ کی چنگاریاں قبائلی عوام کے اندر بھی بھڑک اٹھیں… لہٰذا مناسب حکمت عملی یہی ہو گی کہ پی ٹی ایم یا اس کے عوامی گروہوں کے اندر چند شرارتی افراد کا باقاعدہ تعین کر کے اور ٹھوس ثبوتوں کے ساتھ ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور معاملے کو کسی قسم کی عوامی جذباتیت کی نذر نہ ہونے دیاجائے… یہ بات اس لیے بھی قابل توجہ ہے کہ امریکہ سے آئی ہوئی نائب وزیر خارجہ ایلس ویلز نے ابھی پرسوں ہی اپنے دو روزہ دورۂ پاکستان کے اختتام پر پریس کانفرنس کے دوران ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان کے سامنے کوئی ایسا ثبوت نہیں ہے جس میں را یا این ڈی ایس پی ٹی ایم کے لوگوں کو مالی مدد فراہم کر رہی ہے… ہمیں یہ سارے ثبوت علاقے میں دلچسپی رکھنے والی تمام عالمی طاقتوں کے نمائندوں کے سامنے پیش کر دینے چاہئیں اور اس کام میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے کیونکہ تازہ ترین خبروں کے مطابق چین نے بھی فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ مولانا مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دینے کی سلامتی کونسل کی قرار داد کی مزید مخالفت نہیں کرے گا… اس لحاظ سے دیکھا جائے تو پاکستان کی خارجہ اور دفاعی پالیسی کو انتہائی نازک صورت حال کا سامنا ہے ، اس سے نبرد آزما ہونے کے لیے جہاں بہتر اور کہیں زیادہ مؤثر سفارتی حکمت عملی کی ضرورت ہے، وہیں یہ بات لازم ہو گئی ہے کہ پارلیمنٹ کو کسی طور نظر انداز نہ کیا جائے… تمام فیصلے کسی ایک ادارے کی بجائے عوام کے منتخب نمائندوں پر مشتمل ایوان کے اندر جو اس ملک کا اصل حاکم ہے، کی مرضی اور آشیر باد کے ساتھ کیا جائے۔


ای پیپر