آئینی راستہ
01 مئی 2019 2019-05-01

مسلح افواج کے ترجمان کی پریس کانفرنس میں موضوع تو کئی تھے۔ سب کہ سب اہم ، حساس اور نازک معاملات۔ لیکن پی ٹی ایم کا معاملہ کچھ زیادہ ہائی لائٹ ہوگیا۔ اور باقی دو ایشوز دب کر رہ گئے۔حالانکہ میرے نزدیک پاک بھارت تعلقات ، داخلی سیکورٹی ، دینی مدارس کو قومی دھارے میں لانے کا منصوبہ اس بات کے متقاضی تھے کہ ان پر سیر حاصل گفتگو کی جائے۔لیکن حالات حاضرہ کے پروگرام ہو یا بریکنگ نیوز ، پی ٹی ایم سے متعلقہ خبریں ہی اجاگر ہوئیں۔ بھارت کے ساتھ تعلقات خوشگوار تو کبھی بھی نہیں رہے۔ البتہ ان میں اتار چڑھاؤ ضرور رہتا ہے۔ آخری دفعہ پرویز مشرف کے دور میں عوامی رابطوں کے نام پر تعلقات کو بہتر کرنے کی کوشش کی گئی۔ پرویز مشرف کی شدید خواہش تھی کہ مسئلہ کشمیر حل کر کے اپنا نام تاریخ میں لکھوا لیں۔ اس حوالے سے چناب فارمولہ کے نام سے تجاویز کا پیکج ہوا۔ پس پردہ مذاکرات بھی ہوئے۔ لیکن یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی۔ پرویز مشرف کا نام تاریخ میں تو رہے گا لیکن ان کے منفی کردار کے حوالے سے۔ پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے کشیدگی کا نیا دور پلوامہ واقعہ کے بعد شروع ہوا۔ یہ ایسا واقعہ ہے جس کی ٹائمنگ کے متعلق پیش گوئی کرد ی گئی تھی۔ کئی تجزیہ نگار اس خدشہ کا اظہار کرچکے تھے کہ عام انتخابات سے پہلے دہشت گردی کا کوئی سانحہ ہوسکتا ہے۔ جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مودی پاکستان پر چڑھ دوڑے گا۔ یہ پیش گوئی درست ثابت ہوئی مودی جی پلوامہ سانحہ ہوتے ہی پاکستان پر چڑھ دوڑے۔ لیکن جتنی رفتار سے آئے تھے ستائیس فروری کو اپنے دو جہاز اور پائلٹ گنوا کر دگنی رفتار سے الٹے قدموں راہ فرار اختیار کر گئے۔ الیکشن میں اپنے آپ کو فاتح کے طور پر پیش کرنے کا منصوبہ ناکام ہوا۔ حالت یہ ہے کہ بھارتی سینا پتی ستائیس فروری کو اوڑی کے بریگیڈ ہیڈ کوارٹر میں موجود تھے۔ عین اس وقت جب وہ کسی خوشخبری کے انتظار میں تھے ان کو پاکستانی شاہینوں نے سیفٹی ڈسٹنس سے کچھ میزائلوں کا سندیسہ بھیجا گیا۔ ان کو جان بوجھ کر ٹارگٹ نہیں کیا گیا۔ مقصد صرف پیغام دینا تھا۔ اس سوال کا جواب ڈی جی آئی ایس پی آر نے دانستہ نہیں دیا۔بہر حال ستائیس فروری کے دندان شکن جواب کو دو مہینے گز ر گئے بھارتی قیادت ابھی تک حواس باختہ اور تلملائی ہوئی ہے۔ترجمان افواج پاکستان نے بھارت کو ایک مرتبہ پھر پیغام دیا ہے فیصلہ اس کے ہاتھ میں ہے کہ ستائیس فروری کی کیفیت میں رہنا ہے یا آگے بڑھنا ہے۔ پیغام بالکل واضح کہ جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیں۔ پاکستان انیس سو اکہتر کا ملک نہیں۔ خیال غالب ہے کہ بھارت کو سمجھ آگئی ہوگی کہ اپنے ہمسایوں کے ساتھ کیسے زندہ رہنا ہے۔ اور پر امن بقائے باہمی کیا ہوتی ہے۔داخلی سیکورٹی کے معاملے پر جو تازہ ترین اعدادوشمار شمار دیئے گیے وہ اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ پاکستان نے دہشت گردوں کا تو خاتمہ کردیا لیکن ابھی دہشت گردی باقی ہے۔ ابھی وہ وجوہات باقی ہیں۔ جہاں سے انتہا پسندی جنم لیتی ہے۔ اور پھر وہ سوچ گمراہ عناصر کو غیر آئینی راہیں چن لینے پر اکساتی ہے۔ بندوق اٹھانے کی راہ دکھاتی ہیں۔ افواج پاکستان نیشنل ایکشن پلان کے متفقہ قومی فیصلہ کے تحت اس مشکل اور پیچیدہ جنگ میں مصروف ہیں۔ اکیاسی ہزار اہل پاکستان اب تک اس جنگ میں جاں بحق ہوئے۔ چھ ہزار افسران اور جوانوں نے جام شہادت نوش کیا۔ ڈیڑھ سو بلین ڈالر کا معاشی خسارہ برداشت کیا۔ لیکن اس جنگ کو منطقی انجام کو پہنچایا۔ اس بات میں کوئی شک نہیں اور اس کا اعتراف ترجمان افواج پاکستان نے بھی کیا کہ ماضی میں غلطیاں ہوئیں۔ لیکن ان غلطیوں کو دہرانا کہاں کی دانشمندی ہے ؟ اگر کل کسی ریاستی پالیسی کے سبب انتہاپسندی کو فروغ ملا تو کیا اس کو کنٹرول نہیں کرنا۔ ماضی میں انتہا پسندی کا ذمہ دار جہادی سوچ کو پروان چڑھانے والے دینی مدارس کو قرار دیا گیا۔لہٰذا اب یہ حتمی فیصلہ کرلیا گیا ہے کہ دینی مدارس کو قومی دھارے میں لانا ہے۔ ان کے نصاب کو اس طرح تبدیل کرنا ہے کہ ان مدارس سے ایسی افراد نکلیں جو قومی زندگی میں ٹھوس کردار ادا کرسکیں۔ اس مقصد کیلئے دینی مدارس کو وزارت تعلیم کے ماتحت کردیا گیا ہے۔ اور اس حوالے سے پونے تین ارب روپے بھی مختص کر دیئے گئے ہیں۔ تاکہ مطلوبہ فنڈز فراہم کیے جاسکیں۔ اس عمل کی مخالفت کرنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ نیشنل ایکشن پلان میں دینی مدارس میں اصلاحات کی بات کی گئی تھی۔ ترجمان افواج پاکستان کا یہ کہنا بالکل درست ہے اب وقت آگیا کے کہ قوم اپنی حکومت اور اپنی افواج پر اعتماد کرے۔ یہ بات درست ہے۔ اگر کسی کے کوئی مطالبات ہیں تو ایک جمہوری معاشرے میں ان کو تسلیم کرانے کے آئینی راستے موجود ہیں۔ اگر پی ٹی ایم کے کوئی مطالبے ہیں تو اسکے دو ارکان قومی اسمبلی میں موجود ہیں۔ قبائلی علاقہ جات میں پہلی مرتبہ ضم ہونے کے بعد صوبائی اسمبلی کے انتخابات ہورہے ہیں۔ پی ٹی ایم اپنے امیدوار الیکشن میں کھڑے کر سکتی ہے۔ اور اپنے مطالبات کے لئے پارلیمانی جدو جہد کر سکتی ہے۔ لیکن پاک فوج کے متعلق نعرہ بازی کون سا مثبت طرز عمل ہے۔ افواج پاکستان کے ترجمان نے چند ماہ قبل ا یک پریس کانفرنس میں وارننگ دے دی تھی۔ اور یہ واضح کر دیا تھا کہ ان کے مطالبات پر بات ہوسکتی ہے۔ اطلاعات ہیں کہ سینٹ کی خصوصی کمیٹی سے براہ راست بات چیت بھی ہوئی لیکن معاملہ حل نہ ہوا۔ اور آخر کار اب کچھ سوالات ہیں جو براہ راست پوچھے گئے ہیں۔ پی ٹی ایم کی لیڈر شپ کو ان سوالوں کا جواب دینا ہوگا۔ مثبت بات یہ ہے کہ ترجما ن افواج پاکستان نے جو بھی اشارہ دیا ہے۔ اس کا لب لباب یہ ہے کہ جواب نہ دینے کی صورت میں جو کارروائی ہوگی وہ قانون کے دائرہ میں رہ کر ہوگی۔

پالیسی سازوں کیلئے مشورہ ہے کہ جب بھی مین سٹریم پارٹیاں منظر عام سے ہٹی ہیں ان کا خلا ایسے عناصر نے پر کیا ہے۔ جو ریاست کیلئے درد سر ہی بنی ہیں۔ جس کی ایک مثال کراچی ہے۔ لہٰذا ملک کا جو بھی علاقہ ہو سیاسی عمل کو فروغ دیا جائے تاکہ ان عناصر کو سر اٹھانے کا موقع نہ ملے جن کے رابطے اغیار۔ سے ہوں۔


ای پیپر