جنگی معیشت
01 مئی 2019 2019-05-01

پاکستان ایک سکیورٹی اسٹیٹ ہے۔ ویلفیئر اسٹیٹ نہیں۔ حالت جنگ میں ہے اور وار اکانومی یعنی جنگی معیشت سے گزر رہا ہے۔ وار اکانومی کا مطلب یہ ہے۔ ریاست کے تمام مالی و معاشی ذرائع و آمدن اس جنگی معیشت کی ضروریات پوری کرنے میں استعمال ہوں گے۔ نواز شریف کا جرم یہ تھا۔ اس نے اپنے تینوں حکومتی ادوار میں ریاستی آمدن اور معاشی ذرائع ریاست کی فلاحی و معاشی ترقی کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی اور عام لوگوں کو ریلیف دی۔ اب یہی دیکھ لیں۔ بجٹ سے 8 کھرب کا ترقیاتی فنڈ تقریباً ختم کر دیا گیا ہے اور سی پیک کے کئی ایسے پروجیکٹ بند کر دیے گئے ہیں جو ملکی ذرائع سے بننا تھے۔ اس طرح جو پیسہ ان ترقیاتی پروجیکٹس کے ذریعے عام لوگوں تک پہنچنا تھا اور انہیں ریلیف ملنا تھی اور نئی نوکریاں کا سامان ہونا تھا۔ نہ صرف اس سے محروم ہو گئے بلکہ پرائیویٹ کمپنیاں بھی ان کے فوائد حاصل کرنے میں ناکام رہیں۔ نتیجتاً نئی نوکریاں نہ مل سکیں بلکہ پرانے ملازمین کو بھی نکالنا پڑا چونکہ ملک میں تجارتی و صنعتی سرگرمیاں تقریباً رک چکی ہیں۔ اس وجہ سے ٹیکس جمع کرنے کا ہدف پورا نہ ہو سکا اور اس مد میں 500 ملین کی کمی دیکھنے میں آئی۔ ایسی ہی کمی تارکین وطن کی جانب سے بھیجے جانے والے ترسیلات زر میں بھی دیکھنے میں آئی جبکہ عمران حکومت کا خیال تھا۔ عمران خان کی بیرون ممالک شہرت کی وجہ سے ترسیلات زر میں بے پناہ اضافہ ہو جائے گا۔ اسٹیٹ بنک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق ملکی و غیرملکی سرمایہ کاری میں ستر فیصد کمی ہو چکی ہے جبکہ روپے میں گراوٹ کی وجہ سے برآمدات میں جس اضافے کی امید تھی۔ وہ حاصل نہ ہو سکا۔ الٹا افراط زر میں سات فیصد اضافے کی وجہ سے اس معمولی اضافے کا بھی کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو سکا اور ہمارا بجٹ خسارہ 16 کھرب سے بڑھ کر 25 کھرب تک جا پہنچا ہے جبکہ ادائیگیوں کے توازن میں فرق 12 ارب ڈالر کی بجائے تقریباً 15 ارب ڈالر ہو چکا ہے۔ جو کہ بڑھ کر 29 ارب ڈالر ہونے کا اندازہ ہے۔ عمران خان نے حکومت میں آنے سے قبل کہا تھا۔ وہ نئے ٹیکس دہندگان کے ذریعے ریاستی آمدن میں آٹھ کھرب کا اضافہ کریں گے لیکن جیسا میں نے کہا۔ ہم ٹیکس جمع کرنے کے اپنے پرانے ہدف سے بھی پیچھے ہیں۔ حکومت ان تمام خساروں کو پورا کرنے اور حکومتی امور چلانے کے لیے دھڑا دھڑ ملکی و غیر ملکی ذرائع سے قرض اٹھا رہی ہے جو ایک اندازے کے مطابق ان نو ماہ میں 21 کھرب ہو چکا ہے۔ اور اب آئی ایم ایف سے بیل آوٹ پیکیج لینے پر گفتگو جاری ہے۔ اور آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کو تسلیم کیا جا رہا ہے۔ ٹیکس ، سرمایہ کاری، ترسیلات زر، برآمدات، قرض ، فیسیں اور جرمانے اور راہداری ریاست کی آمدن کے بنیادی روائتی ذرائع ہیں۔ موجودہ حکومت ٹیکس، سرمایہ کاری، ترسیلات زر، برآمدات میں ناکام رہنے کے بعد قرض کی مہم پر گزارہ کر رہی ہے اور یا پھر ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی لگا رہی ہے۔ سبسڈیز ختم کر رہی ہے۔ سکالر شپس تک ختم کر رہی ہے۔ ہسپتالوں میں غریب مریضوں کی مفت دوائیاں ختم کر رہی ہے۔ فیسیں اور جرمانے بڑھا رہی ہے جبکہ ضروری اشیاء پر نئے ٹیکس اور ڈیوٹیز بڑھا کر تقریباً 3 کھرب اکٹھے کر چکی ہے لیکن حکومتی کام اب بھی نہیں چل رہا۔ حکومت اپنے اسی بیانئے کا پرچار کر رہی ہے۔ کہ پچھلی حکومتوں کی لوٹ مار کی وجہ سے یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے اور یہ کہ پچھلی حکومتوں نے قرض بہت اٹھا لیا تھا۔ جسے موجودہ حکومت کو واپس کرنا پڑ رہا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ حکومت نے اپنے ہی وزیر خزانہ کو تبدیل کرکے نہ صرف اپنی ناکامی اور نااہلی تسلیم کر لی ہے بلکہ اپنے بیانئے کی نفی بھی کر دی ہے جبکہ پیپلزپارٹی کے وزیر خزانہ اور پیپلزپارٹی کی مالیاتی ٹیم کو ساتھ لے کر پچھلی حکومتوں کی کرپشن کے غبارے سے ہوا بھی نکال دی ہے۔ حکومت ابھی تک یہ بتانے میں بھی ناکام رہی ہے۔ کہ اس حکومت نے اب تک کتنا قرض اتارا ہے۔ جب یہ حکومت برسر اقتدار آئی تھی تب کل ملکی قرضے 93 ارب ڈالر تھے۔ کیا حکومت یہ بتانا پسند کرے گی۔ اس عدد میں اضافہ ہوا ہے یا کمی ہوئی ہے۔ اگر اضافہ ہوا ہے تو پھر ریاستی آمدن اور موجودہ حکومت کے لیے گئے تمام قرضے کہاں جا رہے ہیں اور زر مبادلہ کے ذخائر میں کمی کی وجہ کیا ہے اور حکومت ریاستی آمدن بڑھانے کے لیے کیا اقدامات لے رہی ہے۔ یاد رہے فوجی ترجمان نے کہا ہے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ریاست کو خطیر رقم کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ وزیر داخلہ نے کہا ہے۔ ہم ایک سکیورٹی اسٹیٹ ہیں۔ ویلفیئر اسٹیٹ نہیں ہیں جس کا مطلب یہ ہے ایک جنگی معیشت کے دور سے گزر رہے ہیں اور جنگی معیشت میں ریاست کے تمام مالی و معاشی وسائل جنگی معیشت پر خرچ ہوتے ہیں۔ نوازشریف کا جرم یہ تھا۔ اس نے کچھ وسائل عام لوگوں کے مسائل پر خرچ کرنے کی کوشش کی تھی اور سکیورٹی اسٹیٹ کو فلاحی ریاست بنانے کی خواہش کی تھی۔


ای پیپر