ویلے
01 May 2019 2019-05-01

لندن میں دریائے تھیمز کے کنارے موجود ہوں۔ لاہور سے ساتھ آئے سینئر صحافی اور صحافتی اساتذہ میں شامل اعظم چودھری کے ساتھ جوبلی پارک میں نشست لگائے بیٹھا ہوں۔ سر کے اوپر" لندن آئی " ہے ،وہ آسمانی جھولا، جس میں بیٹھ کر پورا شہر دکھتا ہے۔ سامنے دریائے تھیمز میں سیاحوں سے بھرے جہاز لہروں پر مٹر گشت کر رہے ہیں۔ جوبلی پارک کی پتھریلی گزرگاہ سے ہر رنگ اور نسل کے مردوزن اور بچے تیزی سے آ جا رہے ہیں۔ پاکستان پریس کلب یوکے، کی نومنتخب باڈی کی حلف برداری تقریب کلق ہی ختم ہوئی اور آج ہم(میں اور اعظم چودھری) مشرقی لندن سے ٹرین، ٹرام اور بس کالطف اٹھاتے دریا کنارے آبیٹھے۔ اب پاکستان پریس کلب یوکے، کے صدرمبین چودھری اور عابد چودھری کے آنے تک ہم بالکل ویلے ہیں۔

آتے جاتے لوگوں کو تکتے ہوئے جملے بازی ہو رہی ہے۔ کون کس نسل کا ہے ٹیوے لگا رہے ہیں۔لندن کے تین ڈبلیوز مشہور ہیں۔ ویدر، ورک اینڈ ویمن۔ تینوں کب بدل جائیں یا ساتھ چھوڑ دیں۔ پتہ نہیں چلتا۔ یہ مردانہ کہاوت جب سنی ،پہلا خیال یہی آیا کہ یہاں کی خواتین بے وفا ہیں تو لندن کے مردوں کی وفاداری کی گونج کون سا زمانے میں مشہور ہے۔ بہرحال یہ جھگڑا فیمینسٹ نمٹائیں۔ ہمارے سامنے تو موسم گرگٹ کی طرح رنگ بدل ایک ڈبلیو کے سچے ہونے کی گواہی دے رہا ہے۔ کبھی ٹھنڈی ہوا چلتی ہے، کبھی دھوپ چمک اٹھتی ہے البتہ دوتین روز سے وقفے وقفے سے ہونے والی بونداباندی، جیسے یہاں شاورنگ کہا جاتا ہے، اس کا دور دور تک امکان نہیں۔

اس فارغ البالی میں برطانوی صحافی کرسٹینا لیمب کی یاد آئی۔ جو اب پاکستان میں متنازعہ سمجھی جاتی ہیں لیکن بے نظیر بھٹو کے پہلے دور میں وہ پاکستان آئیں تو ان کی پاکستانی سیاست اور سماجی رویوں سے متعلق کتاب "اللہ کا انتظار " نے خوب شہرت پائی۔ ایک جگہ لکھتی ہیں۔ میں گاڑی پر جارہی تھی۔ راستے میں ریلوے پھاٹک بند ہونے کی وجہ سے ٹریفک رک گئی۔ اتنے میں دیکھا ایک شخص سائیکل ہاتھوں میں اٹھا کر پٹری کراس کر رہا ہے۔سامنے سے وسل بجاتی ٹرین آرہی تھی لیکن وہ شخص اپنی جان خطرے میں ڈال کر دوسری طرف چلا گیا۔ میں نے سوچا کوئی انتہائی ضروری کام ہو گا جو یہ شخص جان پر کھیل کر گیا یے۔ ٹرین گزرنے کے بعد ٹریفک چل پڑی۔ میری گاڑی پھاٹک کے پار پہنچی تو دیکھا وہی شخص سائیکل کھڑی کرکے دوسرے لوگوں کے ساتھ دائرے میں بیٹھا ہے اور مداری کا تماشا دیکھ رہا یے۔ کرسٹینا لیمب کا آنکھوں دیکھا واقعہ پڑھے لکھے پاکستانی حلقوں میں ویلے پن کا طنزیہ استعارہ بن چکا ہے۔ بظاہر مصروف، کرنا کرانا کچھ نہیں۔ انہی خیالوں میں گم تھا کہ آنکھوں کے سامنے ایک نیا منظر ابھرنے لگا اور میرے چہرے پر شرارتی مسکراہٹ مچلنے لگی۔جہاں ہم بیٹھے ہیں وہاں قریب ہی ایک شخص نے تماشا شروع کردیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے تیز تیز چلتے کئی قدم رک گئے۔ اس شخص کے گرد لوگوں نے ایک بڑا دائرہ بنا لیا اور لندن کے ویلے سارے کام بھول بھال کر تماشا دیکھنے لگے۔

تماشا دکھانے والے انگریز کو مداری لکھا تو کئی غلام ذہن برا مان جائیں گے۔ لہذا ہمارے مداری لیکن لندن کے عوامی فنکار نے خوب رنگ جمایا۔ جملے بازی کرکے مجمع کو ہنسایا اور کبھی زور زور سے تالیاں بجانے پر مجبور کیا۔ سب سے اہم کرتب ،معذرت، کرتب نہیں، یہ تو مداری دکھاتا ہے۔ برطانوی فنکار نے کمال یہ دکھایا کہ باریک لمبا غبارہ آہستہ آہستہ حلق سے نیچے سالم اتارلیا۔ اس فنکاری پر ساتھ بیٹھے اعظم چودھری نے بے ساختہ لاہوری زبان میں پوچھا۔ اب یہ "تر" باہر کہاں سے نکالے گا؟ میرے سمیت باقی مجمعے کی دلچسپی بھی یہی تھی۔ حلق سے نگلا گیا غبارہ اب کہاں سے اگلا جائے گا۔ عوامی فنکار انسانی تجسس کی مجبوریاں جانتا ہے۔ وہ کئی منٹ تک جسم کے مختلف سوراخوں کی طرف اشارے کرکے مجمع کو محظوظ کرتا رہا۔ میں نے اعظم چودھری سے ہنستے ہوئے کہا۔ آپ دیکھنا اب یہ سانڈے کا تیل بھی لوگوں کا بیچے گا۔ لیکن میں غلط نکلا وہ تو برطانیہ کا فنکار تھا، دیسی مداری نہیں۔ جو اصلی دکھا کر کم ازکم نقلی شے دے کر پیسے بٹورتا۔ برطانوی فنکار نے صرف باتوں کے لچھے بنائے اور شو ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ لوگ خوشی خوشی اس کے ہاتھ میں ہیٹ میں پیسے ڈال کر اپنی اپنی راہ پر چلنے لگے۔ کسی نے نہ پوچھا وہ غبارہ جو سب سے سامنے نگلا تھا، کب اگلے گا؟ شاید گھر جاکر۔۔۔

یم تو سیاح ہیں سو ویلے ہی ہوئے لیکن لندن کے ویلے دیکھ کر جی خوش ہو گیا۔ ادھر تماشا ختم ہوا ادھر ہمارے میزبان اور یار غارمبین چودھری بھی آگئے۔ مسکراتے ہوئے انہیں دونوں طرف کے ویلوں کا بتایا۔ ان کی کام کام کام کی روش پر جملہ کسا۔ دیکھ لیں، برطانیہ ہو یا پاکستان، ویلے ہی موجیں کرتے ہیں۔ بولے۔ البتہ ایک فرق ہے۔ ہمارے ویلے صبح شام موجیں کرتے ہیں اور یہ برطانوی ویلے دن بھر کام کرکیآفس ٹائم کے بعد گھر لوٹتے ہوئے۔ گہری بات تھی ہم نے اثبات میں سر ہلایا اور کھانا کھانے سرے محل والی سرے کاؤنٹی کو چل پڑے۔


ای پیپر