نیا بلدیاتی نظام۔ تضادات کا مجموعہ
01 مئی 2019 2019-05-01

آخر کار تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے مقامی حکومتوں کا نیا بل پنجاب اسمبلی میں جمع کروا دیا ہے اور ممکن ہے جب تک یہ سطور قارئین تک پہنچیں تو اسے اسمبلی سے منظور بھی کروا لیا جائے۔ پنجاب کی تبدیلی حکومت نے پرانے بلدیاتی اداروں کو پہلے ہی معطل کر دیا ہے۔ جیسے ہی نیا قانون منظور ہو گا تو موجودہ مقامی حکومتیں رخصت ہو جائیں گی اور پھر نئے قانون کے تحت ایک سال کے لیے ایڈمنسٹریٹر متعین کر دیے جائیں گے۔ جو ان اداروں کو چلائیں گے۔ تحریک انصاف کی حکومت کے پاس ایک سال ہو گا کہ وہ نئے مقامی حکومتوں کے انتخابات کی بھر پور تیاری کرے اور پنجاب کے بلدیاتی اداروں پر اپنی حکمرانی قائم کر سکے۔

اگلے ایک سال تک پنجاب سیاسی پانی پت کا میدان بنا رہے گا۔ تحریک انصاف کو مضبوط امیدواروں کی ضرورت ہو گی اور وہ جوڑ توڑ کا سہارا لے کر اپنی جیت کو یقینی بنانے کی کوشش کرے گی۔ جبکہ مسلم لیگ (ن) پنجاب پر اپنی سیاسی حکمرانی اور غلبہ قائم رکھنے کے لیی سردھڑ کی بازی لگائے گی۔

نئے بل اور نظام کے خدو خال پر بات کرنے سے پہلے یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ تحریک انصاف نے پہلے سے موجود مقامی حکومتوں کو ختم کرنے کا فیصلہ اپنے قانونی اختیارات استعمال کرتے ہوئے کیا ہے اور یہ قانونی شق مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے ہی متعارف کروائی تھی۔ مگر اس اقدام سے نہ تو جمہوریت کی خدمت ہو گی اور نہ ہی مقامی سطح پر جمہوریت مضبوط ہو گی۔ 60 ہزار(60000 ) بلدیاتی نمائندوں کو یک جنبش قلم ختم کر دینا قانونی تو ہے مگر جمہوری ہرگز نہیں۔ بہتر تو یہ تھا کہ نئے قانون میں پہلے سے موجود اداروں کی مدت کم کر دی جاتی اور ایڈمنسٹریٹر تعینات کرنے کی بجائے اگلے مقامی حکومتوں کے انتخابات تک موجودہ اداروں کو کام کرنے دیا جاتا۔ ہم پتا نہیں کیوں جمہوری اور سیاسی روایات کو مضبوط کرنے اور انہیں پروان چڑھانے سے اتنے خوفزدہ کیوں ہیں۔ ہمارے اندر سے آمروں کی غیر جمہوری اور غیر سیاسی روح نکلنے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ موجودہ مقامی حکومتوں نے یکم جنوری 2017 ء سے کام شروع کیا تھا ۔ ان کی مدت 2021 ء میں پوری ہونی تھی مگر ان کا بوریا بستر ایک جمہوری اور سیاسی حکومت نے لپیٹ دیا ہے۔ جس غیر جمہوری اور مخاصمانہ طرز عمل کا مظاہرہ مسلم لیگ (ن) نے کیا تھا اسی قسم کا طرز عمل اب تحریک انصاف نے اپنایا ہے۔

میں نہ تو آئینی اور قانونی ماہر ہوں اور نہ ہی مقامی حکومتوں کا ماہر ہوں مگر میری جتنے بھی ماہرین سے بات ہوئی انہوں نے نئے نظام کے حوالے سے کوئی خاص مثبت رد عمل کا اظہار نہیں کیا۔ اور میرا ذاتی طور پر بھی نئے قانون کے حوالے سے نقطٔہ نظر مثبت نہیں ہے۔ تحریک انصاف کی قیادت مسلم لیگ (ن) ور پیپلز پارٹی کی حکومتوں کی فیصلہ سازی کے طریقہ کار پر تنقید کرتی تھی اور اسے مغلیہ انداز حکومت کا طعنہ دیتی تھی مگر موجودہ بل کو جس جلد بازی اور تیزی سے اسمبلی میں متعارف کروایا گیا وہ کوئی جمہوری طریقہ کار نہیں ہے۔ ہم فوجی آمروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں کیونکہ وہ غیر آئینی اور غیر جمہوری طریقے سے بر سر اقتدار آتے ہیں اور طاقت کے ذریعے حکمرانی کرتے ہیں۔ مگر جب جنرل (ر) مشرف نے 2001 ء میں مقامی حکومتوں کا نیا نظام متعارف کر وایا تھا تو کئی مہینے تک اس قانون کے مسودے پر عوام میں بحث ہوئی تھی۔ سول سوسائیٹی تنظیموں نے عوامی اسمبلیاں منعقد کی تھیں اور بھر پور بحث و مباحثے کے بعد قانون کو حتمی شکل دی گئی تھی۔

مگر یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ ایک ایسی حکومت جو تبدیلی اور نیا پاکستان بنانے کے دعوے کر کے اقتدار میں آئی تھی اسے نیا قانون منظور کروانے کی آخر کیا جلدی تھی۔ اگر حکومت اسمبلی ممبران اور سول سوسائیٹی کے علاوہ موجودہ مقامی نمائندوں کو اس بل اور نظام پر بحث و مباحثے کے لیے مناسب وقت دے دیتی تو اس سے اس کی نیک نامی ہوتی مگر بد قسمتی سے ایسا نہیں ہوا۔

اس کی ایک وجہ تو یہ سمجھ آتی ہے کہ یہ بل اور نظام افسر شاہی نے تیار کیا اور وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس پر زیادہ بحث و مباحثہ ہو اور اس نظام کی قباحتیں اور خامیاں زیر بحث آئیں اس لیے جلد بازی میں اسے منظور کروانے کی جلدی کی گئی۔

نئے نظام میں دو بنیادی تضادات ہیں جن پر خاص توجہ نہیں دی گئی۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ در اصل دو الگ الگ بل ہیں۔ جو کہ مقامی حکومتوں سے متعلق ہیں مگر ان دونوں کا آپس میں کوئی قانونی یا انتظامی تعلق نہیں۔

پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019 ء ایک الگ قانون ہے جبکہ پنجاب پنچایت اینڈ نیبر ہڈ کونسل ایکٹ 2019 ء یہ دونوں بل ایک دوسرے سے مکمل مطابقت نہیں رکھتے بلکہ ان دونوں کے کئی آرٹیکل باہم متضاد ہیں۔ اس کالم میں اس موضوع کا مکمل احاطہ کرنا ممکن نہیں ہے اس لیے تفصیلات اگلے کالم میں گوش گزار کرنے کی کوشش کروں گا۔

نئے نظام کو بناتے وقت آئین کے آرٹیکل ( 140-A ) اور (32 ) کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا اور نہ ہی نظام ان آرٹیکلز کی روح اور منشاء کا عکاس ہے۔ آرٹیکل 140-A صوبوں کو پابند کرتا ہے کہ وہ ایسی مقامی حکومتیں قائم کریں جن کو مکمل سیاسی ، مالیاتی اور انتظامی اختیارات حاصل ہوں۔ مگر نئے نظام میں مقامی حکومتوں کو عملاً افسر شاہی کے ما تحت بنا دیا گیا ہے۔ افسر شاہی کی مداخلت بڑھا دی گئی ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت کی طرف سے پیش کردہ نیا نظام جنرل ضیاء الحق کے آمرانہ بلدیاتی اداروں کے نظام سے بھی کم جمہوری اور کم اختیارات کا حامل ہے۔مانیٹرنگ کے نام پر افسر شاہی کا عمل دخل بڑھا دیا گیا ہے۔

دوسری طرف نئے نظام میں ضلعی حکومتوں کو ختم کر دیا گی ہے ۔ نئے نظام میں یونین کونسل اور ضلع کونسل ختم کر دی گئی ہیں۔ ماضی کے نظام کی طرح میٹرو پولیٹن کارپوریشن، میونسپل کارپوریشن، میونسپل کمیٹیاں، ٹائون کمیٹیاں، تحصیل کونسلیں نئے نظام میں بھی موجود ہیں۔ ضلعی کونسلیں خیبر پختونخوا میں تو موجود ہیں مگر پنجاب میں ان کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ اس کا واضح مطلب تو یہ ہے کہ اب یہ اختیارات بھی افسر شاہی استعمال کرے گی۔ سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ تحصیل اور میونسپل کونسلیں پنچایت اور نیبر ہڈ کے نظام سے منسلک نہیں ہیں۔ بلکہ یہ دو الگ الگ نظام ہیں۔ نئے نظام کو پہلے سے زیادہ پیچیدہ اور مشکل بنا دیا گیا ہے۔ دونوں بل حکومتی اور ریاستی اداروں کے اختیارات کی بالا دستی کو قائم کرتے ہیں۔ یہ نظام مکمل طور پر سیاسی، انتظامی اور مالیاتی اختیارات لیے ہوئے نہیں ہے۔ نئے نظام میں صوبائی حکومت کی مداخلت کو بہت زیادہ بڑھا دیا گیا ہے جو کہ آئین کے آرٹیکل 140-A کی روح کے منافی ہے۔ یہ نظام پنجاب کی انتظامی اور سیاسی حقیقتوں کو سامنے رکھ کر نہیں بنایا گیا بلکہ چند افراد کی ذاتی خوہشات، خیالات اور سوچ کا اظہار ہے۔ یہ عملی سے زیادہ تصوراتی اور رومانوی ہے جسے جلد بازی میں حتمی شکل دی گئی ہے۔

نئے نظام کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس میں پنچایت اور نیبر ہڈ کے انتخابات کو غیر جماعتی بنیادوں پر کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ہم آج تک جنرل ضیاء الحق کے غیر جماعتی انتخابات کے نتائج سے باہر نہیں آ سکے اور تحریک انصاف نے غیر جماعتی انتخابات کا ایک اور تجربہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔


ای پیپر