مزدور طبقہ اور اس کے مسائل
01 مئی 2019 2019-05-01

یومِ مئی مزدوروں کا وہ عالمی دن ہے ، جس سے مزدور اور محنت کش طبقے پر ہونے والے مظالم اور ان مظالم کے خلاف محنت کشوں کی جدو جہد کے تاریخ میں درج واقعات ذہنوں میں تازہ ہو جاتے ہیں ۔ یکم مئی ۱۸۸۶ء دنیا بھر کے محنت کشوں کی سرمایہ داریوں کی غلامی سے انکار کی مزاحمتی داستان ہے ، یہ سرمایہ دارانہ اور سامراجی استحصال ، ظلم و جبر اور محنت پر دولت کی بالادستی کے خلاف جدوجہد کا وہ عہد ساز اور لازوال دن ہے ، جسے عصرِ حاضر کے مزدور آج بھی روایتی جوش اور جذبے سے مناتے ہیں۔

مزدور اپنی ہمت و محنت سے جو خدمت انجام دیتا ہے اس کا معاوضہ بہت معمولی رقم کی صورت میں اسے ملتا ہے۔ اس معاوضے کو طے کرتے وقت ہمارے یہاں نہایت خِصت کا مظاہرہ کیا جاتا ہے حالانکہ محنت کا جائز معاوضہ نہ دینا، استحصال ، حق مارنا ، پورا حق ادا نہ کرنا اور ظلم کرنا یہ وہ اعمال ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میںان بڑی برائیوں میں شمار کیا ہے جن کا اس کے ہاں غیر معمولی مواخذہ ہوگا۔ پاکستان کے چاروں صوبوں اور مرکز میں مینیم ویج بورڈ (Minimum Wages Board) موجود ہیں۔ جن کے قیام کا مقصد غیر ہنر مند کی مزدور کی کم از کم اجرت کا تعین کیا جائے اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری، غربت اور معاشی بدحالی کے باعث مزدوروں کو بہت ہی کم اور من مانے معاوضہ پر کام پر نہ لگایا جائے۔ لیکن افسوس کے دوسرے اداروں کی طرح یہ ادارہ بھی اپنا مئوثر کردار ادا کرنے سے قاصر ہے۔ پاکستان ورکرز کنفیڈریشن نے جی ایس پی پلس اور پاکستان میں معیاراتِ محنت پر عمل درآمد کے چیلنجز برائے ۲۰۱۶؁ء کے حوالے سے ایک جامع رپورٹ مرتب کی ہے جس میں ایک کنبہ کے کم از کم ماہانہ اخراجات چالیس ہزار پانچ سو روپے ہیں۔ لیکن آج بھی ملک کے چھوٹے شہر تو ایک طرف وفاقی دارلحکومت میں ایسے ادارے بھی موجود ہیں جہاں کام کے اوقات بارہ بارہ گھنٹے ہیں اور اجرت پندرہ سے سترہ ہزار ہے ۔ یورپ کم از کم اجرت کے معیار سے نکل کر معقول اجرت (Living Wages) کے معیار تک پہنچ چکا ہے اور ہم اب تک کم از کم اجرت اور اوقات کار ہی طے نہیں کرپائے ہیں۔

پاکستان کے تقریباََ ہر شہر کے صنعتی علاقوں میںبے شمار چھوٹے غیر رجسٹرڈ یونٹس کام کررہے ہیں۔ جن کے مالکان اپنے اداروں کو رجسٹرڈ کروانے سے اجتناب کرتے ہیں، ان یونٹس میں کام کرنے والے مزدوروں کی تعداد ۵ سے لے کر ۵۰ تک ہوتی ہے۔ جن سے ملازمت کی شرائط، اجرت اور اوقات کار زبانی بنیادوں پر طے کیے جاتے ہیں۔ ایسے اداروں کے مزدور سوشل سیکورٹی، ای او بی آئی، حادثے کی صورت میں موت، معذوری یا زخمی ہونے کی صورت میں علاج معالجے کی سہولیات سے محروم ہیں۔

مستقل نوعیت کی پیداوار کرنے اور منافع کمانے والے اداروں میں عارضی اور کنٹریٹ لیبر کا دور دورہ ہے۔ یہ نظام سرکاری، نیم سرکاری اداروں، کارپوریشنز حتیٰ کہ کالج یونیورسٹیوں میں بھی رائج ہے۔ روزانہ اجرت اور ٹھیکداری نظام جو 1986کے بعد سے بتدریج فروغ پاتا آرہا ہے۔ اس نظام میں جن اداروں کو کام کے لیے مزدروں کی ضرورت ہوتی ہے، وہ اس مقصد کے لیے قائم کردہ اداروں کو آگاہ کر تے ہیں، جو ایک طے شدہ کمیشن پر مزدور فراہم کردیتے ہیں۔ ان سے کام لینے والا ادارہ ان کی ذمہ داری قبول نہیں کرتا بلکہ ان کے تمام معاملات کا ذمہ دار انھیں فراہم کرنے والا ادارہ ہوتا ہے۔ ایسے ملازمین کو نہ تو تقرر نامہ دیا جاتا ہے اور نہ ہیں ای او بی آئی یا سوشل سیکورٹی کی سہولت حاصل ہوتی ہے ۔

پاکستان میں ایک غیر روایتی ذریعہ روزگار بھی ہے، ان میں گلی گلی آواز لگا کر سبزی فروخت کرنے والے، غبارے بیچنے والے، چوڑیاں فروخت کرنے والے، اچار فروخت کرنے والے، چادریںاور کھیس فروخت کرنے والے، قلفیاں فروخت کرنے والے، گھروں میں رنگ و روغن اور فرنیچر ٹھیک کرنے والے، سیمنٹ ، شکر اور گندم کی بوریاں اٹھانے والے اور ایسے بے شمار شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد ہیں جو ملک کی معیشت میں اور روزگار کے مسائل حل کرنے میں تو کردار ادا کرتے ہیں لیکن جو روایتی شعبہ جات میں کام کرنے والوں کو حاصل ہوتی ہیں۔ یہ ہمارے ملک کا وہ طبقہ ہے جس کا سارا دارومدار اس کی اپنی ہمت اور محنت پر ہے۔ اگر اسے کسی بیماری یا حادثے اور ضعیفی کا سامنا ہو تو اس کے پاس کو ئی راستہ نہیں ہے ۔

213-14 کے لیبر سروے کے مطابق پاکستان میں محنت کش افراد کی تعداد تقریباََ 60.1 ملین ہے جو کل آبادی کا 33 فیصد ہے۔ آبادی کے اس ایک بڑے حصے کو جن مسائل کا سامنا ہے ہماری سیاسی و مذہبی جماعتیں اس موضوع پر بات کرنے کے لیے بھی تیا ر نہیں ہیں۔

یومِ مئی اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ حکومت سب سے پہلے خوراک و غذا اور توانائی کی مربوط اور اصلاحی پالیسی مرتب کرے اور یہ تمام معیار سابقہ حکومت کے معیار سے بلند ہونے چاہیں۔ مزدوروں کے جلسے جلوسوں میں سیاسی قائدین کی تقاریر اپنی جگہ، لیکن عوام کو یقین اس صورت میں ہو گا جب ملک کے مزدوروں اور محنت کشوں کے دن پھریں گے ملک میں موجود بدترین طبقاتی کشمکش ختم ہو گی ، پاکستان کے ہر کونے میں اہلِ وطن کو زندگی کی بنیادی سہولیات میسر ہو۔ اور غریب الوطن پاکستانیوں کو محنت کا معقول معاوضہ ملے ۔ تجارتی و صنعتی اداروں میں ٹریڈ یونین کی آزادی ہو، صحت اور تعلیم کے شعبوں کا بجٹ مناسب ہو ، امن و امان کی صورتحال کنٹرول میں ہو ، بے گھر لوگوں ، کسانوں ، ہاریوں کو زمینیں دی جائیں ، زرعی اصلاحات کی جائیں ۔ دیہی اور شہری آبادی کی تفریق ختم ہو۔ یہی یومِ مئی کا حقیقی پیغام ہے۔


ای پیپر