”لوگ اسد عمر کو یاد کریں گے“
01 مئی 2019 2019-05-01

میں شاہ عالم بازار میں تاجر رہنماو¿ں کے ساتھ پروگرام ریکارڈ کر رہا تھا جب وہ شخص مجھے نظر آیا ، پکی عمر کے اس شخص کا رنگ بھی کافی پکا تھا جس پر سفید بالوں والی بڑھی ہوئی شیو زیادہ نمایاں ہور ہی تھی، اس نے ایک سائیکل سنبھالی ہوئی تھی، میں سمجھتا ہوں کہ آج کے دور میں سائیکل سوارواقعی اتنہا درجے کا غریب ہے ورنہ عام غریب کے گھر میں بھی موٹرسائیکل کھڑی نظر آتی ہے، پچھلے ادوار میں جب بڑے برانڈز کی موٹرسائیکلیں ستر، اسی ہزار روپوں کی ہوئیں تو چائینہ کی موٹرسائیکلوں نے آدھی قیمت کی ہونے کی وجہ سے مارکیٹ پر غلبہ حاصل کر لیا اورعام آدمی نے بھی پبلک ٹرانسپورٹ کی مناسب سہولتیں نہ ہونے کی وجہ سے یہ موٹرسائیکلیں قسطوں پر خریدنی شروع کر دیں۔ یوں سائیکل آہستہ آسہتہ اتنی ہی مقبول رہ گئی جتنی اس انتخابی نشان کی حامل چودھری برادران کی قاف لیگ ٹانواں ٹانواں نظر آتی ہے۔

بات اس شخص کے بارے تھی جو واقعی غریب نظر آ رہا تھا، میں نے اس سے معاشی حالات کے بارے پوچھا تو اس نے بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور مہنگائی کا شکوہ کیا، یہ روایتی فقرے تھے جو ہم نے ریکارڈ کر لئے اور میں نے اپنا رخ تاجر رہنما مجاہد مقصود بٹ او ران کے ساتھیوں کی طرف دوبارہ کر لیا کہ اچانک میری نظر اس کے چہرے پر پڑی جہاں بہتے ہوئے آنسو چمک رہے تھے، میرا سوال نجانے اسے شاہ عالم مارکیٹ سے کہاں لے گیا تھا، شائد واپس اپنے گھر، جہاں ملک کی تیزی سے ناگفتہ بہ ہوتی ہوئی اقتصادی صورتحال کے پیش نظر فاقے بھی ہوسکتے ہیں، وہاں ادویات کی عدم دستیابی بھی ہوسکتی ہے جو پہلے کی نسبت بہت مہنگی ہوچکیں، عین ممکن ہے کہ اس کے بوڑھے والدین میں سے کوئی ایک یا دونوں زندہ ہوں اور اس کی جیب میں شوگر اور بلڈ پریشر جیسے عمومی امراض کی ادویات کے لیے بھی پیسے نہ ہوں، اسے اپنی بیٹی بھی یاد آ سکتی ہے جس کی شادی کی عمرنکل رہی ہو۔میرا دل پارہ پارہ ہو گیا۔ میری ہمت نہیں پڑی کہ میں اس سے رونے کی وجہ پوچھوں کہ اس نے اپنا چہرہ مجھ سے چھپانا شروع کر دیا۔ ظاہر ہے ایک بھرے مجمعے میں رونا کوئی عزت کی بات نہیں اگر آپ پروفیشنل مانگنے والے نہیں ہیں۔ ایک لمحے کے لئے میں نے سوچا کہ یہ شخص آنسو بہانے کا ڈرامہ کر رہا ہے مگر دوسرے ہی لمحے خود سے سوال کیاکہ اسے میرے سامنے ڈرامہ کرنے کی کیا ضرورت ہے، اس نے مجھ سے کچھ نہیںمانگا ، ہاں، میں نے ایک سوال کا جواب مانگا جس نے اس کے نجانے کون سے دکھ ،درد اور مصائب یاد کروا دئیے۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا کہ میں اس سے کیا بات کروں، یہی مناسب لگا کہ اس کے کندھے اپنے ہاتھوں سے پکڑ لوں اور تسلی دینے کی کوشش کروں، میں نے ایسا ہی کیا ،کہا، میرے بھائی صبر کرو، اللہ بہتر کرے گا۔ میں نے پوری کوشش کی کہ اس کے منمناتے ہوئے الفاظ کو سن اور سمجھ سکوں، مجھے سمجھ نہیں آیا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے، بس اتنا لگا کہ اس کی بات ناشکری والی ہے، کفر کے مترادف ہے۔

مجھے وہ بزرگ بھی یاد آ گئے جو مجھے موبائلز کی سب سے بڑی اور معروف مارکیٹ حفیظ سنٹر کی ایک دکان میںملے تھے جب میں موبائل فون مہنگے ہونے کے حوالے سے وہاں کی یونین کے عہدے داروں اور تاجروں کے ساتھ پروگرام ریکارڈ کر رہا تھا، ان کی لمبی سفید داڑھی تھی اور وہ کام کے حوالے سے بہت پریشان تھے، انہوں نے بھی ایک دو فقرے ہی بولے تھے کہ ان کے آنسو ایسے بہنا شروع ہو گئے تھے جیسے کسی بھری ہوئی ٹینکی سے جڑے نلکے سے پانی نکلتا ہے۔ انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں کا استعمال کیا تھا، ایک سے انہوں نے کیمرہ پرے کر دیا تھا اور دوسرے سے اپنا منہ چھپا لیا تھا۔شاہ عالم مارکیٹ میں ہی خواجہ عامر کی موجودگی میں وہ بوڑھا آدمی بھی چیخ رہا تھا جس کے ہاتھ میں بجلی کے دوبل تھے اور وہ کہہ رہا تھا کہ اس کے پاس پیسے ہی نہیں، وہ ہزاروں روپوں کے یہ بل کیسے اتارے۔ حالات ایسے ہو گئے ہیں کہ مردوں نے بھی رونا شروع کر دیا ہے۔ مجھے وہاں دکھایا گیا کہ ایک مسجد کا بل ساڑھے چھ لاکھ روپے آ گیا ہے۔

میں جب ہال روڈ پر گیا تھا تو جہاں تاجروں سے بات ہو رہی تھی تو وہاں مشہور و معروف لڈو پیٹھیاں والے سے بھی پوچھا کہ کاروبار کیسا چل رہا ہے۔ اس نے عجیب و غریب بات بتائی کہ عمران خان کی حکومت قائم ہونے کے بعد اس کی سیل بہت کم ہو گئی ہے کہ لوگ اب اس سے پیالہ خریدنے سے پہلے پیسے پوچھتے ہیں اور جب انہیں بتایا جاتا ہے کہ چٹنیوں اور سلاد کے دو لڈووں کا پیالہ پچاس روپے کا ہے وہ آرڈر دے بھی چکے ہوں توکہتے ہیں کہ رہنے دو۔خیال یہ ہوتا ہے کہ پچاس روپوں میں لڈو پیٹھیاں کھانے کی عیاشی کرنے کے بجائے ان سے اپنے بچوں کے لئے کچھ لے جائیں جبکہ ایک برس پہلے یہ صورتحال نہیں تھی، لوگ اتنی عیاشی کر لیتے تھے کیونکہ ان کی دیہاڑی لگ جاتی تھی۔ مجھے حاجی حنیف نے بتایا کہ شاہ عالم بازار میں دکانداروںنے کاروبار ختم ہونے کی وجہ سے سیلزمینوں سمیت دیگر لوگوں کو نکالنا شروع کر دیا ہے کہ جہاں سات ملازم تھے وہاں دو سے تین رہ گئے ہیں اور فارغ ہونے والے درخواستیں کررہے ہیں کہ اگر انہیں بیس ہزار ماہانہ مل رہے تھے تو پندرہ ہزار ہی دے دیں، دس ہزار ہی دے دیں وہ اس پر بھی کام کرنے کے لئے تیار ہیں مگر وہ بھی تاجروں کے بجٹ میں نہیںآ رہے۔

میں نے شاہ عالم مارکیٹ میں شوز مارکیٹ والوں سے پوچھا، برتنوں کے مشہور بازار میںگیا، سونے کے زیورات کے مشہور ترین بازار سُوہے بازار والوں سے بھی گپ شپ کی، ہر طرف ماتم برپا ہے کہ کاروبار تباہ ہو گیا ہے۔ بیٹی کی شادی کے لئے برتنوں کا جو سیٹ بیس ہزار میں مل جاتا تھا وہ اب پینتیس ہزار کا ہو گیا ہے، نواز شریف کے دور میںسونا اڑتالیس اور انچاس ہزار روپے تولہ تھا جو اب ستر، بہتر ہزار روپے ہے، ڈالر کے مہنگے ہونے سے کراکری تک مہنگی ہو گئی ہے ۔ اس سے پہلے جب میں نے جیل روڈ پر گاڑیوں کے ڈیلروں سے بات کی تھی تو علم ہوا تھا کہ موجودہ دور میں ساڑھے چھ سو سے تیرہ سو سی سی تک کی عام گاڑی کی قیمت بھی پانچ، سات لاکھ روپوں تک بڑھ چکی ہے۔

میں نے ان سب لوگوں سے یہی کہا کہ وزیراعظم نے اپنے پرانے رفیق کار وزیر خزانہ کو اسی ناقص کارکردگی پر ہٹا دیا اورا س کی جگہ پر حفیظ شیخ کو وزیر خزانہ بنا دیاکیونکہ عمران خان کو ٹوئیٹر سے یہی علم ہوا کہ بہت مہنگائی ہو گئی ہے۔ عام آدمی بھی اگر پی ٹی آئی کا دیوانہ نہیں تو اسے سب نظر آ رہا ہے ،جب پوچھا تو یہی جواب ملاکہ حفیظ شیخ معیشت کا وہی حال کریں گے جو انہوں نے پیپلزپارٹی کے دور میں کیا تھا جب آئی ایم ایف کا پاکستانی تاریخ کا سب سے بڑا قرضہ لیا گیا اور گروتھ ریٹ دو اعشاریہ ایک رہا۔ عام لوگوں میں حفیظ شیخ کے بجٹ کے حوالے سے مایوسی ہی نہیں بلکہ خوف پایا جاتا ہے۔ میں نے اوپر بیان کیا کہ اسد عمر نے کس طرح نو ماہ میں مردوں کو رونے پر مجبور کر دیا مگر اب یہ بھی لکھ لیجئے کہ حفیظ شیخ جو حال کرے گا اس کے بعد یہی عام آدمی چیخیں مارے گا اور اسد عمر کو یاد کرے گا۔


ای پیپر