Latif Khosa,ppp,supreme court,election commission,senate elections
01 مارچ 2021 (12:12) 2021-03-01

اسلام آباد : پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما لطیف کھوسہ نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے قرار دیدیا ہے کہ سینٹ کے انتخابات خفیہ رائے  دہی کے ذریعے ہوں گے۔اس لئے آئین میں آرٹیکل 218 اور دیگر شقیں الیکشن کمیشن آف پاکستان کو یہ اختیار دیتے ہیں کہ وہ اس ملک میں شفاف اور غیر جانبدار انتخابات کروائے ۔ الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ہونے کے ناطے اسی کا اختیار ہے اور سپریم کورٹ نے اس کے اس اختیار کو تسلیم کرتے ہوئے اسی کی رائے کو مثبت سمجھا ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے لطیف کھوسہ نے کہا کہ حکومت کو سرے یہ ریفرنس دائر کرنا ہی نہیں چاہیے تھے۔ حکومت کے پاس ماشا اللہ ایک وزیر قانون بھی ہیں جو ہر بار استعفیٰ دیکر حکومت کا مقدمہ لڑنے بھی آجاتے ہیں اور وہ مقدمہ لڑنے کے بعد پھر دوبارہ منصب وزارت پر فائز ہو  جاتے ہیں۔یہ بھی شاید دنیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہو گا جو وزیر قانون اس طرح کی دوہری خدمات سرانجام دیتے ہیں۔حکومت کے پاس اٹارنی جنرل پاکستان بھی ہیں جو ماشا اللہ ایک پائے کے قانون دان ہیں تو حکومت کے قانونی مشیران کی موجودگی میں سپریم کورٹ میں یہ ریفرنس لانا ہی حکومت کی طرف سے آرٹیکل 186 کے تحت نہیں ہونا چاہیے تھا۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کئی بار کہا ہے کہ الیکشن کو شفاف رکھنا الیکشن کمیشن کی ذمہ  داری ہے۔ہم خود چاہتے ہیں جدید ٹیکنالوجی کو بھی انتخابی عمل میں شامل کیا جائے۔سپریم کورٹ جب ایک فیصلہ دیتی ہے تو اس سے ایک سمت متعین ہوتی ہے۔ پاکستان میں شفاف انتخابات ہونا ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے کیونکہ ہر انتخابات میں دھاندلی کی آوازیں بلند ہوتی ہیں۔


ای پیپر