Mushtaq Sohail columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
01 مارچ 2021 (11:27) 2021-03-01

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں دو ہفتے قیام کے دوران کئی سیاسی مناظر دیکھنے کو ملے یہی مناظر تاریخ کا حصہ بنتے اور اہل فکر و نظر کے لیے پچھتاوے اور خجالت کا باعث بن جاتے ہیں۔ شاہراہ دستور پر سرکاری ملازمین پر اندھا دھند لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے گولے برستے دیکھے۔ ایکسپائری ڈیٹ (پرانے) کے گولے لگنے سے ایک بندہ جان سے گیا۔ لاٹھی ڈنڈے لگنے سے سر منہ کھلے تب کہیں جا کر تنخواہیں بڑھیں تنخواہیں بڑھانی ہی تھیں تو خلق خدا پر تشدد چہ معنی دارد؟ وزیر داخلہ اسی دن سے غائب ہیں تاہم اسی قد کاٹھ اور چہرے مہرے کی آپا فردوس عاشق اعوان ٹی وی اسکرین پر چھائی رہیں۔ کراچی آمد سے دو روز قبل 19 فروری کو قومی اسمبلی کے این اے 75 ڈسکہ سمیت چار حلقوں میں ضمنی الیکشن ہوئے، تین حلقے صوبائی تھے۔ پنجاب کے حلقہ وزیر آباد اورکے پی کے نوشہرہ میں مسلم لیگ (ن) نے میدان مار لیا۔ کرک میں تحریک انصاف کامیاب ہوئی تاہم مولانا فضل الرحمان نے الیکشن کے نتائج مسترد کردیے، ضمنی انتخابات کے دوران دن بھر بلکہ رات ایک بجے تک لمحہ لمحہ رنگ بدلتی صورتحال دیکھنے کو ملی۔ نوشہرہ کی سیٹ نہ ملنے پر پرویز خٹک کے بھائی وزارت سے گئے۔ نزلہ بر عضو ضعیف، این اے 75 ڈسکہ کا انتخاب گلے کی ہڈی ثابت ہوا۔ اگلے بنے نہ نگلے۔ ن لیگ کی سیٹ ن لیگ کو ہی جارہی تھی مگر موجودہ سیاست میں برداشت کا فقدان، ہٹو بچو جانے نہ پائے کا رجحان غالب، رات ایک بجے ٹی وی چینلوں نے ن لیگ کی امیدوار نوشین افتخار کی کامیابی کا اعلان کیا۔ نو دس ہزار ووٹوں کا فرق، کھلے دل سے تسلیم کرلیا جاتا تو بات نہ بڑھتی مگر کیا کریں، تسلیم و رضا کی خو نہیں، ہر جگہ انا غالب آجاتی ہے۔ راتوں رات ایسی دھند چھائی کہ سارے نتائج دھندلا گئے دھند نے دھاندلی کی راہ ہموار کر کے پوری ملکی سیاست کو دھندلا دیا۔ دھند بڑے کام کی چیز، حد نظر صفر، بندہ اچھائی برائی، انصاف نا انصافی میں تمیز کے قابل نہیں رہتا۔ کیا کرے کچھ نظر ہی نہیں آتا۔ جماعتی مفادات کی کائی دل و دماغ پر جم جاتی ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے۔ نہیں ہونا چاہیے۔ جمہوری اقدار کے منافی ہے مگر ہوتا ہے۔ دھند میں ووٹوں کے باکس غائب ان کے ساتھ بیس پریزائڈنگ افسر بھی اڑنچھو، بندے تھے کہ ہالومین رات کے ’’بھولے‘‘ صبح 6 بجے لوٹے ووٹوں سے بھرے باکس بھی ساتھ تھے۔ چہرے فق، ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ سارے ترجمان ڈٹ گئے کہ ان ’’بھولے بادشاہوں‘‘ کو بھولا ہی کہا جائے ریٹرنگ افسر نے الیکشن کمیشن کو رپورٹ دی کہ 20 پریزائیڈنگ افسروں سے رات بھر کوئی رابطہ ہوا نہ خیر خبر، دھندنے موبائل فون بھی بند کردیے کوئی جوابی کال نہ خط پتر، صبح تاخیر سے پہنچنے پر بہانے، خود گئے یا لے جائے گئے۔ تاریخ اس باب میں خاموش، بندے اغوا ہوئے یا مرضی سے گئے، گئے تھے تو باکس چھوڑ جاتے۔ این اے 75 کا نتیجہ روک لیا گیا۔ کیا اعلان کریںکس منہ سے کریں، ایک افسر نے قتل کی دھمکیوں اور دبائو کا بھی ذکر کیا، ایک باکس سمیت پکڑا گیا۔ بقول عطا تارڑ باکس میں 3 سو جعلی 

ووٹ تھے۔ دھندنے جمہوریت کے افق کو تاریک بنا دیا۔ وہی حربے جو 2018ء کے انتخابات میں آزمائے گئے تھے ن لیگ والے کم عقل صرف ڈسکہ کے ڈیڑھ لاکھ سے زائد ووٹروں کے ہمراہ دھرنے پر بیٹھ جاتے تو چالیس پینتالیس ہزار کے 126 دنوں کے دھرنے کی یاد تازہ ہوجاتی مگر کیا کریں ’’کم عقلوں‘‘ نے امپائروں سے رابطے توڑ رکھے ہیں۔ ووٹ کو عزت کیسے ملے گی۔ کیسی جمہوریت ہے جس میں الیکشن کے دوران بھی چھینا جھپٹی بلکہ ’’ڈکیتیاں‘‘ ہوتی ہیں۔ ضمیر مردہ ہوجائیں تو جھوٹ بولتے بالکل شرم نہیں آتی۔ آئے بھی کیسے شرم و حیا کا احساس دلانے والے خواجہ آصف جیل میں بند ہیں۔ المیہ ہے کہ جھوٹ بولتے ہوئے ماتھے پر پسینہ تک نہیں آتا۔ الیکشن کی رات کا سورج طلوع ہوتے ہی سر چڑھ کر بولنے والی آپا فردوس نے پی ٹی آئی کے امیدوار کی جیت کا اعلان کردیا چہ خوب، الیکشن کمیشن چپ مگر بندہ جیت گیا۔ غیر جانبداری کا شاندار مظاہرہ، کسی کی حمایت نہ مخالفت ’’ایک چپ سب کے جواب میں‘‘ خود ہی الیکشن لڑو خود ہی اعلان کرو، تاہم الیکشن کمیشن نے اپنی پریس ریلیز میں 20 پولنگ اسٹیشنز پر دھاندلی کا خدشہ ظاہر کیا۔ ریٹرننگ افسر نے 14 پولنگ اسٹیشنز پر ری پولنگ کی سفارش کی۔ ضمنی الیکشن میں بہت بری مثال قائم ہوئی ہے۔ الیکشن کمیشن نے کمال جرأت کا ثبوت دیتے ہوئے پورے الیکشن کو کالعدم قرار دے دیا اور دوبارہ الیکشن کرانے کا حکم دیا۔ صرف یہی نہیں بلکہ اے سی، ایس ڈی پی او کو معطل کردیا۔ کمشنر اور آر پی او کے خلاف بھی کارروائی کا حکم دیا۔ چیف سیکرٹری پنجاب اور آئی جی سے وضاحت طلب کرلی گئی۔ بری مثالیں قائم ہو رہی ہیں۔ انتخابی سیاست میں دھاندلی بد امنی اور کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ ’’بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے‘‘ خوفناک واقعات جنم لے رہے ہیں سیاسی اختلافات دشمنی میں بدل رہے ہیں بلکہ بدل گئے ہیں۔ بقول شاعر ’’بیٹھے ہوئے ہیں قیمتی صوفوں پہ بھیڑیے، جنگل کے لوگ شہر میں آباد ہوگئے‘‘ ظالم جیتے جاگتے انسانوں کی جان لینے سے بھی نہیں چوکتے۔ الزام تراشیاں اپنی جگہ ڈسکہ کے ضمنی الیکشن میں 2 افرادجان سے گئے۔ ایک کو ن لیگ نے اپنا کارکن قرار دیا۔ دوسرا تحریک انصاف کا شہید ٹھہرا۔ کسی نے نہ کہا کہ دو پاکستانی دو انسان اور اس جان لیوا مہنگائی میں اپنے بچوں کا پیٹ پالنے والے دو غریب سیاسی دشمنیوں کی بھینٹ چڑھ گئے۔ سیاست نفرتوں کی آگ میں جل بجھ رہی ہے۔ جمہوریت کے لیے الیکشن برحق لیکن الیکشن کے موقع پر اندھا دھند فائرنگ آئین کی کون سی شق یا آرٹیکل کے تحت ضرور ٹھہری، ستم بالائے ستم اندھا دھند فائرنگ کرنے والے ’’اندھے‘‘ دھند میں غائب بھی ہوجاتے ہیں ضمنی انتخابات میںحیوانیت، سنگدلی اور غیر انسانی رویے دیکھنے میں آئے، متحارب گروپوں کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا۔ موت بن کر موٹر سائیکلوں پر آنے والے کون تھے۔ ’’سب کو معلوم ہے مگر کسی کو معلوم نہیں ‘‘کیا دوبارہ انتخابات میں امن و امان قائم رہے گا؟ کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ ابھی شروع ہوا ہے۔ سینیٹ کے انتخابات سر پر ہیں ہارس ٹریڈنگ شروع ہوگئی بلکہ ہوچکی کسی نے 75 کروڑ دیے لیاقت جتوئی نے 35 کروڑ کا الزام لگایا۔ لوگوں نے کہنا شروع کردیا کہ دھند ختم نہیں ہوئی۔ سینیٹ الیکشن کے نتائج بھی دھندلا جائیں گے۔ استاد جھرلو پھیرنے کو بے تاب ’’مال حرام بود بجائے حرام رفت‘‘ بے جا بھاگ دوڑ روزانہ اجلاسوں کی بجائے کیوں نہیں سوچتے کہ مہنگائی نے سرکاری پارٹی کا راستہ روک دیا ہے۔ حالیہ ضمنی انتخابات میں جو نتائج آئے وہ حکمران پارٹی اور اس کے اتحادیوں کے لیے چشم کشا ہیں۔ سوچنا ہوگا کہ تین سال بعد ڈائون فال یا الٹی گنتی کی نوبت کیوں آئی ہے۔ سب سے بڑی وجہ جان لیوا مہنگائی، لوگ سڑکوں پر نکل رہے ہیں۔ آنسو گیس کے گولوں کا مقابلہ کرتے ہوئے شاہراہ دستور تک پہنچ گئے ہیں۔ یہی صورتحال رہی تو ملک کی دیگر شاہراہیں بھی پیٹ پر روٹیاں باندھے مظاہرین سے بھر جائیں گی۔ مہنگائی پر قابو نہیں پایا جاسکا۔ آئی ایم ایف نے مزید قرضہ کی منظوری دے دی۔ اربوں کا قرضہ، اربوں کا سود، 20 ارب کا قرضہ بمع سود ادا کیا گیا۔ آئندہ بھی سود خوروں کو ادائیگیاں ہوں گی۔ غریبوں کے حصے میں کیا آئے گا؟ کچھ نہیں آئے گا تو وہ دیگر جماعتوں کی طرف ہی دیکھیں گے۔ لانگ مارچ کیسا ہوگا۔ ضمنی انتخابات کے نتائج سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ سیانوں نے کہنا شروع کردیا ہے کہ آئندہ ہر انتخاب حکمران پارٹی کے لیے خطرے کی گھنٹی ثابت ہوگا۔


ای پیپر