columns,urdu columns,epaper,urdu news papers,daily urdu column,naibaat.pk,urdu news,breaking news,urdunews,neonetwork.pk,neo tv,neo news
01 مارچ 2021 (11:24) 2021-03-01

اگر کو ئی سوا ل پو چھے کہ ہماری دنیا کا سب سے بڑا اور معصو م تر ین حسن کیا ہے تو ہر ذی شعو ر انسان کا جواب ہو گا’ہما رے بچوں کا بچپن’۔بے شک پھولوں اور ان کی خو شبو کا شما ر خدا پا ک کی خو بصو رت تخلیقا ت میں ہو تا ہے لیکن کیا بچو ں کی معصو م مسکر ا ہٹ کا کو ئی مقا بلہ ہے؟ پھر بغیر کسی لگی لپٹی کے کہ ہما ری دنیا کا سب سے کر یہہ فعل ان بچو ں پہ ظلم تو ڑنا ہے۔ لیکن ہم قصور کی رہا ئشی سا ت سا لہ زینب کو کیسے بھو ل سکتے ہیں جِسے دل دہلا دینے وا لے ظلم کے نتیجے میں خا ک کی چادر اوڑھ کر ابدی نیند کی نذ ر ہو نا پڑ گیا۔ گھر یلو ملا زم کمسن بچیو ں پہ جس قسم کے ظلم ہما رے معا شرے میں تو ڑے جا تے ہیں، انہیں جا ن کر رو ح کا نپ اٹھتی ہے۔ پھر لا ہو ر رنگ رو ڈ پر ایک ما ں پر جس طو ر اس کے بچو ں  کے سا منے اس پر جو ظلم تو ڑا گیا، وہ اک ماں پہ ظلم کی بد تر ین مثا ل ہے سو ہے، مگر وہ بچو ں پہ ظلم کی کو ئی کم تر مثا ل بھی تو نہیں۔ پھر چائلڈ  پورن  ویڈیوز۔۔۔۔  غر ض کیا کیا لکھوں۔

 تا ہم اب ایک اچھی خبر یہ ہے کہ ہما ری  قومی اسمبلی میں بچوں پر جسمانی تشدد کی ممانعت کا بل متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔ بل کے تحت کام کرنے کی جگہ، سرکاری و غیرسرکاری تعلیمی اداروں، مدارس، ٹیوشن سنٹرز میں بچوںپر جسمانی تشدد کی ممانعت ہوگی۔ بچوں پر تشدد کے مرتکب افراد کو نوکری سے فارغ کرنے کی انتہائی سزا کے علاوہ جبری ریٹائرمنٹ، تنزلی، تنخواہ میں کٹوتی کی سزا بھی دی جاسکے گی۔ جسمانی تشدد کے خلاف شکایات کے لیے وفاقی حکومت طریقہ کار وضع کرے گی جبکہ براہ راست ڈپٹی کمشنر کو بھی شکایت کا اندراج کرایا جاسکے گا۔ بنیادی طور پر بچوں پر جسمانی تشدد ایک عالمگیر مسئلہ ہے، لیکن اس پر قابو پانے کے لیے ترقی یافتہ ملکوں نے موثر قانون سازی کے ساتھ ساتھ سماج میں شعور بھی اجاگر کیا ہے جس کی وجہ سے بچوں پر جسمانی تشدد کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ 

پاکستان میں بچوں پر جسمانی تشدد کے خاتمے کے حوالے سے بلاشبہ اس قانون کا پاس ہونا، اچھی اور مثبت پیش رفت قرار دی جاسکتی ہے لیکن اس کے جو مندرجات سامنے آئے ہیں ان میں زیادہ فوکس تعلیمی اداروں کو کیا گیا ہے جس میں کسی بھی سزا یا تشدد کی صورت میں اساتذہ قصور وار ٹھہرائے جائیں گے۔ حقیقت پسندانہ تجزیہ کیا جائے تو معمولی سی ’’سرزنش‘‘ بچے کے مستقبل کے بجائے استاد کے مستقبل پر اثرانداز ہوگی کیونکہ سخت قوانین کی موجودگی مکمل طور پر 

بے بس ہوجاتے ہیں جیسا کہ مغرب کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں والدین اور اساتذہ بڑی سے بڑی غلطی پر بھی بچے کو سزا نہیں دے سکتے اور اسی وجہ سے یورپ میں والدین اور اساتذہ کی بچوں کے ہاتھوں تذلیل ہونے کی خبریں آئے روز آتی رہتی ہیں۔ ہمیں توازن کی راہ اپنانی ہے، بچوں کی اصلاح کی غرض سے اساتذہ سے سرزنش کا حق نہیں چھینا جانا چاہیے، تشدد قابل مذمت فعل ہے۔ بعض اِکا دکا واقعات تعلیمی اداروں کے بھی سامنے آتے ہیں لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ صرف سرکاری اداروں کے اساتذہ کو معتوب ٹھہرایا جائے، اشرافیہ کے تعلیمی اداروں میں تو اساتذہ کسی بچے کو گھور کر بھی نہیں دیکھ سکتے تو پھر صرف سرکاری اساتذہ کو کیوں مورد الزام ٹھہرایا جارہا ہے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو صورت حال یہ ہے کہ پاکستان میں ہر چھوٹی بڑی آبادی میں گلی محلوں کی بنیاد پر اوباش لوگوں نے اپنے اپنے ’’کریمنل گروپ‘‘ بنائے ہوتے ہیں۔ یہ لوگ جب بچوں کو اغوا کرتے ہیں یا ان پر جنسی تشدد کرتے ہیں تو ان کو کسی کا ڈر خوف نہیں ہوتا۔ تھانے میں ملزمان کو ’’پروٹوکول‘‘ ملتا ہے اور مدعی کی تذلیل کی جاتی ہے، ایسی کتنی ہی مثالیں ماضی میں مل چکی ہیں۔ بعض جگہ تو دونوں پارٹیوں کو سامنے بٹھا کر باقاعدہ مدعی سے معافی منگوائی جاتی ہے۔ اس وجہ سے بہت سے لوگ بچوں پر جنسی تشدد کی رپورٹ درج کروانے سے گریز کرتے ہیں۔ بالکل اسی طرح پاکستان کی جیلوں میں قیدی بچوں پربڑھتے ہوئے جنسی تشدد کے حوالے سے عوامی سطح پر آگاہی نہ ہونے کے برابر ہے۔ ان قیدی بچوں پر جنسی تشدد کے حوالے سے کبھی کبھار اخبارات میں کوئی خبر شائع ہوجاتی ہے۔ کیاان مظلوم قیدی بچوں کا بھی کوئی پُرسان حال بن سکتاہے۔ پاکستان میں اس وقت جنگل کا قانون نافذ ہے۔ ہر سال قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اخراجات کی مد میں لاکھوں روپے کا بجٹ صرف کیا جاتا ہے جبکہ ان کی کارکردگی صفر ہے۔ ایسے حالات میں سب سے زیادہ اثر کم سن اور ناتواں بچوں پر پڑ رہا ہے۔ ہر طرف جنسی ہوس رکھنے والے بھیڑیے بچوں کا جنسی استحصال کرنے کے لیے بے چین ہیں۔ بلاشبہ قانون سازی بچوں پر جسمانی تشدد میں کمی باعث بنتی ہے جیسے رومانیہ میں ہاتھ پر مارنے کی شرح 2001ء میں 84% سے 2012ء میں 62% ہوئی اور کسی چیز سے مارنے کی شرح 29% سے 18% ہوگئی۔ ایسا مارنے سے جس سے نشان رہ جائیں وہ بھی 10 فیصد سے گر کر 5 فیصد رہ گیا۔ اس طرح کی دیگر مثالوں سے ہم دیکھ سکتے ہیں کہ قانون سازی سے کتنا فرق پڑتا ہے۔ 

ہمیں قانون سازی کے عمل میں سے اگر،مگر وغیرہ نکال کر بچوں پر ہر قسم کے تشدد کو غیرقانونی بنانے کی ضرورت ہے۔ اس میں ہر عمر کے بچے شامل ہوں او ریہ قانون گھر، سکول او رہر جگہ لاگو ہو۔ اس قانون کو توڑنے کی سزا کڑی ہو۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اگر کہیں پو لیس کے نما ئندے کسی مجر م کی پشت پنا ہی میں ملو ث پا ئے جا ئیں تو انہیں ڈ بل سزا دی جا ئے۔اس طر یقہ ِکا ر کو مو ثر بنا نے کے لئے مقامی کارکن اور سیاسی رہنما اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ان کی مد د لینے سے ہر گز نہ ہچکچا یا جا ئے۔ علا وہ از یں ہمیں اپنے بچو ں کو گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ میں فر ق سمجھا نے کی ضر ورت ہے۔ ٹی وی، ریڈیو اور انٹرنیٹ کے ذریعے عوام میں شعور اور آگاہی بڑھانے کی مہم چلائی جائے تو بچوں پر جسمانی تشدد پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔یا د رکھیئے کہ اگر ہم اپنے بچو ں کا ا حسا سِ تحفظ نہ دے سکے تو ہم اپنی آئند ہ آ نے وا لی نسلو ں کے مجر م ہو ں گے۔


ای پیپر