Sumeera Malik columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
01 مارچ 2021 (11:14) 2021-03-01

دنیا کو دوسری جنگ عظیم کے بعد اس وقت سب سے بڑے امتحان کورونا وائرس کا سامنا ہے۔ کورونا وائرس کی یہ وبا دنیا میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل چکی ہے۔ دنیا بھر میں اب تک لاکھوں لوگ اس موذی وبا کا شکار ہو کر لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ احتیاطی تدابیر اور کرونا ویکسین لگوانے سے بچاؤ ممکن ہے، پہلے فیز میں طبی عملہ اور بڑی عمر کے لوگ کرونا ویکسین لگوا رہے ہیں۔ دوسرے فیز میں پاکستان کا ہر شہری ویکسین لگوا سکے گا۔ ہم پاکستان میں عوام کے تعاون سے احتیاطی حکمت عملی اپنا کر کورونا وائرس پر قابو پا سکتے ہیں۔ پاکستان میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذ ہو چکی ہے۔ جس میں حکومت، افواج، پولیس و دیگر سکیورٹی ادارے، محکمہ صحت، ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل سٹاف، ریسکیو 1122، انتظامیہ افسران اور عملہ کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر ہیں۔ اس جنگ میں کامیابی کے لئے عوام بھی اپنی حکومت، فوج اور اداروں کے شانہ بشانہ ہیں۔

بدقسمتی سے ماضی میں حکمرانوں نے شعبہ صحت کو یکسر نظر انداز کر دیا تھا۔ سابقہ حکومتوں نے نئے ہسپتال بنائے نہ ہی وینٹی لیٹرز کی تعداد میں کوئی اضافہ کیا گیا۔ پورے پنجاب میں صرف 1200 وینٹی لینٹرز موجود تھے۔ اب بزدار حکومت نے مزید 1000 وینٹی لیٹرز کا اضافہ کیا ہے۔ بزدار حکومت نے جنگی بنیادوں پر کورونا وائر س کی وبا سے لڑنے کے لئے تیز ترین اقدامات کیے ہیں۔ اس وبا سے تمٹنے کے لئے پنجاب کے 36 اضلاع میں 41 آئیسولیشن سنٹرز، ہائی ڈیپنڈنسی یونٹس(HIGH DEPENDENCY UNITS) بنائے گئے ہیں۔ کورونا کے حوالے سے جدید طرز کے ہسپتالوں کو مختص کیا گیا ہے۔ 300 بیڈز کا PKKI ہسپتال راولپنڈی، 400 بیڈز کا میو ہسپتال لاہور بھی اسی مقصد کے لئے مختص تھے۔ اسی طرح لاہور میں سروسز ہسپتال، جناح ہسپتال، سرگنگا رام ہسپتال اور جنرل ہسپتال کے ڈینگی وارڈز کو قرنطینہ کا درجہ دے کر مریضوں کو منتقل کیا گیا۔ دوسری جانب 200بیڈز کا طیب اردوان ہسپتال مظفر گڑھ اور بہاول پور 450 بیڈز کا سول ہسپتال بھی کورونا کے مریضوں کے لئے استعمال کیا گیا۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے کورونا وائرس کے مہلک مرض سے صوبہ کے عوام کو بچانے کے لئے محض 9 دن کے اندر ایکسپو سنٹر میں 1000 بیڈز کا قرنطینہ سنٹرز قائم کیا، جو ایک ریکارڈ ہے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ جب چین میں کوویڈ کی وبا پھیلی تھی۔ چین نے 1000بیڈز پر مشتمل ایک عارضی ہسپتال 10 دن میںبنایا تو پوری دنیا حکومت چین کی تعریف کر رہی تھی۔ بالکل اسی طرح بزدار حکومت کے اس بے مثال قدم کو ضرور سراہنا چاہئے۔ جو کورونا وائرس سے ڈٹ کر جنگ لڑ رہی ہے اور عوام کی صحت و زندگی کا تحفظ یقینی بنا رہی ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ 

سردار عثمان بزدار کے دل میں عوام کا درد ہے۔ وہ اپنے صوبے کے عوام کی جان اس وبا سے چھڑانے کے لئے تن من دھن کی بازی لگانا جانتے ہیں اور عملاً ایسا کر بھی رہے ہیں۔ اس سلسلے میں بزدار حکومت کی جانب سے ہسپتالوں میں 1900 ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل عملے کی خدمات وقف کرنا نا صرف مثالی ہے بلکہ وزیر اعلیٰ کے انسان دوست ہونے اور ان کے دل میں عوام کی زندگیوں کی قدر کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

بزدار حکومت نے کوویڈ کو شکست دینے کے لئے پنجاب کے 9 ڈویژنوں میں فیلڈ ہسپتال بنائے۔ آج حکومت پنجاب نے بروقت اقدامات کئے ہیں تو حالات کنٹرول میں ہیں۔ ورنہ وائرس کے پھیلاؤ کا حال خدانخواستہ امریکا جیسا ہو سکتا تھا۔ جہاں گاڑیوں کی پارکنگ کی جگہ پر بھی ہسپتال قائم ہو چکے ہیں۔ وہاں ہسپتالوں میں کام کے لئے طبی عملے کی شدید کمی پیدا ہو گئی ہے۔ ہمیں اپنی پنجاب حکومت کو داد دینا ہو گی جس نے بروقت اقدامات کئے۔

پنجاب میں مختلف قرنطینہ سنٹرز جن میں ڈیرہ غازی خان، لیبر کالونی ملتان، اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور اور 1200بیڈز پر مشتمل کالا شاہ کاکو وغیرہ بنائے گئے۔ اس کے علاوہ 500 بیڈز کا گوجرانوالہ ڈویژن اور 120بیڈز کا کیڈٹ کالج جہلم میں قرنطینہ سنٹرز بنایا گیا تھا۔ اس وقت پنجاب میں 19000 افراد کو قرنطینہ کرنے کا بندوبست مکمل کیا جا چکا تھا۔ جبکہ کسی ایمرجنسی کی صورت میں پنجاب کی مختلف یونیورسٹیوں، کالجز اور ہوسٹلز کو بطور سنٹرز استعمال کر کے مزید 46000 افراد کو قرنطینہ کرنے کی سہولت فراہم کی گئی۔

چیف سیکرٹری پنجاب کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ہسپتالوں میں ڈاکٹرز، نرسز، پیرا میڈیکل سٹاف کے لئے حفاظتی کٹس کا سامان بجھوا دیا گیا تھا جس میں 38500 سرجیکل ماسک، 9لاکھ 55ہزار 750ماسک، 14600گاؤن جبکہ 36500دستانے شامل تھے۔ میڈیا کے ذریعے ہیلتھ پروفیشنلز مسلسل کٹس نہ ملنے کی شکایت کر رہے ہوتے ہیں۔ اس سلسلے میں چیف سیکرٹری اعظم سلیمان نے سرکاری ہسپتالوں میں کورونا کے حوالے سے حفاظتی کٹس نہ ملنے پر کمیٹیاں تشکیل دی ہیں۔ یہ کمیٹیاں سرگودھا، ملتان، گوجرانوالہ، ڈیرہ غازی خان، راولپنڈی، بہاول پور، ساہیوال، فیصل آباد، گجرات، سیالکوٹ، رحیم یار خان اور لاہور میں کام کر رہی ہیں۔ کمیٹی پاک فوج کے افسر، ڈپٹی کمشنر کے نمائندے، متعلقہ ہسپتال کے ایم ایس، ڈسٹرکٹ اتھارٹی کے سی ای او پر مشتمل ہے۔ جو روزانہ کی بنیاد پر کٹس کی ضرورت، فراہمی، دستیابی اور استعمال کے عمل کی مسلسل مانیٹر نگ کر رہی تھی۔

وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کابینہ کے اجلاس میں (PUNJAB INFECTION & DISEASE PREVENTIVE CONTROL ORDINANCE 2020) کی منظوری دی۔ اس آرڈیننس سے پنجاب میں نقل و حمل کو روکا گیا۔ ملک میں دفعہ 144کا نفاذ کیا گیا۔ صوبہ پنجاب کے ہر ڈویژن میں بی ایس ایل لیول تھری لیبارٹری قائم کی گئی۔ جبکہ 5 ڈویژن کے لئے بزدار حکومت کی جانب سے 62کروڑ روپے جاری کئے گئے۔ یہ پراجیکٹ فیصل آباد، بہاول پور، گوجرانوالہ، راولپنڈی اور ملتان میں تیزی سے تکمیل کے مراحل میں ہے۔ ان علاقوں میں بی ایس ایل لیول تھری لیبارٹریوں کے قیام سے کورونا ٹیسٹ میں مزید تیزی آئے گی۔ اس سہولت سے پنجاب میں روزانہ کی بنیاد پر کورونا کے 12000ٹیسٹ کیے گئے۔ متاثرہ مریضوں کے علاج و معالجے کے لئے صوبے میں 10ہزار ڈاکٹرز کی تعیناتیاں عمل میں لائی گئیں۔ پیرا میڈیکل سٹاف کی بھی بھرتیاں کی گئی۔

وزیراعلیٰ پنجاب کورونا وبا کے تناظر اور لاک ڈاؤن کی صورت حال کے باوجود معیشت کا پہیہ چلتا رکھنے میں پُرعزم ہیں۔ جس کے تحت 10ارب روپے کا ایک بڑا اکنامک پیکیج دیا گیا۔ تاکہ اس وقت جو دیہاڑی دار طبقہ اور مزدور بے روزگار ہو گئے تھے، ان کی معاشی مشکلات کا خاتمہ کیا جا سکے۔ اکنامک پیکیج کے ذریعے 25 لاکھ خاندانوں کو 4000 ہزار روپے ماہوار دیئے گئے۔ اس سلسلے میں سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ صرف چند گھنٹوں میں سردار عثمان بزدار نے 150کروڑ روپے ایک لاکھ 70ہزار مستحق افراد میں تقسیم بھی کیے گئے۔ اس برق رفتار عوامی فلاحی اقدام کی ماضی کی کسی حکومت میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ پنجاب حکومت نے کورونا جنگ میں سینٹری ورکرز کی خدمات کو سراہتے ہوئے 5 ہزار روپے فی کس اضافی مراعات کے طور پر ادا کئے۔

موجودہ حالات میں فیلڈ میں کام کرنے والے ملازمین ہمارے ہیرو ہیں۔ کورونا کے خلاف جنگ، پنجاب حکومت تنہا نہیں لڑ سکتی۔ آزمائش کی اس گھڑی میں مشترکہ قومی جذبے اور احساس ذمہ داری کی اشد ضرورت ہے۔ ہمیں چاہئے کہ حکومت کی جاری کردہ احتیاطی تدابیر پر سو فی صد عمل درآمد یقینی بنائیں۔ اپنے گھر والوں کو بھی اس کی تلقین کریں۔ اپنے ہاتھوں کو 20سیکنڈ تک صابن سے دھوئیں۔ لوگ سماجی فاصلہ برقرار رکھیں۔ 

پنجاب حکومت جہاں جہاں ضرورت محسوس کرتی تھی وہاں فوری حفاظتی اقدامات کئے گئے۔ سبزی و فروٹ منڈیوں، مارکیٹ کمیٹی میں جراثیم کش ٹنل لگایا گیا۔ تاکہ جو شخص منڈی میں جائے جراثیم سے پاک ہو کر اس میں داخل ہو سکے۔ اس کے علاوہ چین کی جانب سے بھیجے گئے 100تھرمل سکینر کو استعمال کیا گیا۔ اسی طرح ایمرجنسی کی صورت میں 1033 اور 1166 کے علاوہ ٹیلی میڈیسن کے نمبروں پر کال کی جا سکتی ہے۔ پنجاب حکومت کا ہر قدم کورونا وائرس کے سدباب کے لئے اٹھ رہا ہے اور وزیر اعلیٰ بزدار کا ایک ایک لمحہ عوام کی زندگیوں کو محفوظ بنانے کے لئے وقف ہے۔ آئیے کورونا فری صوبہ بنانے میں ہم سب مل کر بزدار حکومت کا ساتھ دیں۔ تاکہ اس چیلنج سے کامیابی کے ساتھ نمٹا جا سکے۔


ای پیپر