جامعہ پنجاب میں کشمیر اور ابلاغیات پر ایک نشست 
01 مارچ 2021 2021-03-01

 ہر سال 5 فروری کو ہم یوم یکجہتی کشمیر مناتے ہیں۔ اس دن مسئلہ کشمیر کے تناظر میں مختلف تقریبات منعقد ہوتی ہیں۔بھارتی افواج کے مظالم اور بربریت کا تذکرہ ہوتا ہے۔مظلو م کشمیریوں کے حق میں تقاریر ہوتی ہیں۔ بیا نات اور پیغامات جاری کئے جاتے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں مذاکرے اور مباحثے ہوتے ہیں۔ٹیلی ویژن چینلوں پر خصوصی ٹاک شوز کا اہتمام ہوتا ہے۔ اخبارات میں اداریے اور کالم لکھے جاتے ہیں۔ 5 فروری کا دن گزرنے کے بعد، ہم مسئلہ کشمیر کو یاد تو رکھتے ہیں، مگر وہ گرم جوش سرگرمیاں دیکھنے کو نہیں ملتیں جو یوم کشمیر کیساتھ مخصوص ہیں۔ یہ صورتحال دیکھ کراکثرخیال آتا ہے کہ کیا ہی اچھا ہو کہ مسئلہ کشمیر کے ضمن میں ہونے والی سرگرمیاں سارا سال جاری رہیں تاکہ یہ معاملہ ہم پاکستانیوں، خاص طور پرنوجوان نسل کے ذہنوں میں تازہ رہے۔ 

چند روز قبل جامعہ پنجاب کے ادارہ علوم ابلاغیات کے زیر اہتمام مسئلہ کشمیر پر ایک نشست منعقد ہوئی۔( ادارہ علوم ابلاغیات کو اپ۔گریڈ کر کے اسکول کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ انفارمیشن اینڈ میڈیا اسٹڈیز کے نام سے باقاعدہ ایک فیکلٹی کی منظوری دی گئی ہے۔ اس کا تفصیلی ذکر پھر سہی)۔ اس ادارے میں استاد محترم پروفیسر مغیث الدین شیخ مرحوم باقاعدگی سے سقوط ڈھاکہ اور یوم یکجہتی کشمیر پر تقریبات کا اہتمام کیا کرتے تھے۔ ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد رفتہ رفتہ یہ روایت معدوم ہوتی چلی گئی۔ اس مرتبہ یہ دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی کہ جامعہ پنجاب نے مسئلہ کشمیر کا تذکرہ فقط 5 فروری تک محدود نہیں رکھا۔بلکہ فروری کے پورے مہینے میںکشمیر کے حوالے سے مختلف سرگرمیاں ہوتی رہیں۔ جامعہ پنجاب نے الحمراءآرٹس کونسل کے تعاون سے باقاعدہ تین دن مسئلہ کشمیر کے لئے مخصوص کئے۔تصویری نمائش، تقاریر اورمذاکروںکے ذریعے بھارتی مظالم اور نہتے کشمیریوں کی بے بسی کو اجاگر کیا۔ جامعہ میں قائم ہیومن رائٹس چیئر کے زیر اہتمام ایک عمدہ ویب سیمینار کا انتظام کیا گیا، جس میں نہایت پر مغز گفتگو ہوئی۔ کشمیر پر دستاویزی فلم اور ڈرامے بنائے گئے۔ جامعہ کے ایک پروفیسر سے میں نے عرض کیا کہ پنجاب یونیورسٹی میں تواتر سے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے سرگرمیاں دیکھ کر بہت اچھا لگ رہا ہے۔کہنے لگے کہ مسئلہ کشمیر وائس چانسلر ڈاکٹر نیاز اختر کے دل کے بہت قریب ہے۔ وہ ان سرگرمیوں کے انعقاد میں ذاتی دلچسپی رکھتے ہیں۔ کشمیر پر ہونے والا یہ سیمینار بھی اس سلسلے کی ایک کڑی تھا۔ 

آزاد جموں و کشمیر کے صدر، سردارمسعود خان اس تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ سردار صاحب نہایت منجھے ہوئے سفارت کار ہیں۔آپ بہت اچھے سپیکر ہیں۔ انگریزی اور اردو زبان میں نہایت روانی اور عمدگی سے گفتگو کرتے ہیں۔ مجھے کئی بار بطور صدر ان کا ٹی۔وی انٹرویو کرنے کا موقع ملا۔اندازہ ہوا کہ مسئلہ کشمیر سے وہ نہ صرف بخوبی آگاہ ہیں ،بلکہ ا س مسئلے کو اجاگر کرنے کیلئے عملی طور پر متحرک بھی رہتے ہیں۔ آزاد کشمیر کا صدر بننے کے بعد انہوں نے دنیا کے اہم ممالک کے دورے کئے۔ ان ممالک کی با اثر سرکاری وغیر سرکاری تنظیموں اور شخصیات کیساتھ مباحثے کئے۔ان کے سامنے نہتے کشمیریوں کا مقدمہ پیش کیا۔ کرونا کے ہنگام میں بھی صدر صاحب نے آن۔ لائن ملاقاتوںاور مباحثوں کا سلسلہ جاری رکھا۔

  جامعہ پنجاب میں ہونے والے کشمیر سیمینار کیلئے وہ آزاد کشمیر سے خصوصی طور پر تشریف لائے تھے۔ حاضرین میڈیا اور ابلاغیات کے طالب علموں پر مشتمل تھے۔سردار صاحب نے مسئلہ کشمیر اور میڈیا کے حوالے سے خصوصی گفتگو کی۔ نوجوانوں کو مسئلہ کشمیر کی اہمیت سے آگاہ کیا۔ بتایا کہ کس مشقت سے قائداعظم نے پاکستان حاصل کیا تھا ۔ بصورت دیگر آج ہم بھی بھارتی مظالم کا نشانہ بن رہے ہوتے۔ انہوں نے تہاڑ جیل میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والی کشمیری رہنما آسیہ اندرابی کا ذکر کیا۔ اس ساٹھ سالہ خاتون کا جرم فقط یہ کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر پاکستان کا حصہ ہے۔ اس نعرے پر اسے غدار قرار دے دیا گیا۔ بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی کا تذکرہ کیا۔ جو بلٹ اور پیلٹ کے سامنے سینہ تان کر پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگاتے ہیں۔کشمیری رہنما شبیر شاہ کا ذکر کیا جنہوں نے تحریک آزادی کشمیر کیلئے تقریباً تیس برس جیل کاٹی۔ صدر صاحب نے نوجوانوں کو نصیحت کی کہ انہیں مظلوم کشمیریوں پر بیتنے والے ان مظالم کا ادراک ہونا چاہیے۔ کہا کہ پاکستان کی ترقی اور مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے خاص طور پر پڑھے لکھے نوجوانوں کو اپنا حصہ ڈالنا چاہیے ۔

جامعہ پنجاب کے وائس چانسلر ڈاکٹر نیاز اختر نے اپنی گفتگو میں یہ پیغام دیا کہ نئی نسل سے ہم سب کو بہت امیدیں ہیں۔ طالب علموں کو نصیحت کی کہ آج کا دور میڈیا اور خاص طور پر ڈیجیٹل میڈیا کا ہے۔کہنے لگے کہ میڈیا اور ابلاغیات کے طالبعلموں کو خصوصی کردار اپنانا چاہیے۔ میڈیا کے توسط سے کشمیریوں کی آواز دنیا تک پہنچانا آپ نوجوانوں کا فرض ہے۔ فرمایا کہ یہ جو ہم پاکستان میں بیٹھ کر مسئلہ کشمیر کا معاملہ زیر بحث لاتے ہیں۔ یہ آواز دنیا تک پہنچتی ہے۔ کشمیری ہماری اس کاوش سے خوش ہوتے ہیں۔ مسئلہ کشمیر کے حق میں آواز اٹھانا ہمارا قومی، اخلاقی اورسفارتی فریضہ ہونے کیساتھ ساتھ ہمارا دینی فریضہ بھی ہے۔ ڈاکٹر صاحب کہنے لگے کہ کشمیر میں فقط انسانی حقوق کی پامالی نہیں ہو رہی، بلکہ باقاعدہ ریاستی دہشت گردی کا ارتکاب ہو رہا ہے۔اعلان کیا کہ آئندہ جامعہ پنجاب میں ہونے والی ہر تقریب میں ہم کشمیری عوام پر ہونے والے مظالم کوبھار ت کی "ریاستی دہشت گردی" کے عنوان سے زیر بحث لائیں گے۔

  جامعہ پنجاب کے پرو وائس چانسلر ڈاکٹر سلیم مظہر نے اپنی تقریر میں بھارتی مظالم اور اقوام عالم کی بے حسی کا ذکر کیا۔ کہا کہ یوں تو آج کی دنیا حقوق کے معاملے میں بہت حساس ہے۔ جنگی قیدیوں تک کو حقوق حاصل ہیں۔ جانوروں کے حقوق کیلئے بھی تحریکیں چلتی ہیں۔ مگر کشمیریوں کے حقوق کی پامالی پر دنیا نے جان بوجھ کر آنکھیں موند رکھی ہیں۔ طالب علموں کو نصیحت کی کہ آپ میڈیا سے وابستہ ہیں۔ اپنی زبان اور قلم سے اس ظلم کے خلاف احتجاج کریں۔ پروفیسر ڈاکٹر امبر ین نے اپنی گفتگو میںکشمیریوں کی پاکستان سے محبت کا ایک واقعہ بیان کیا۔ بتایا کہ وہ بھارت میں ایک کانفرنس میں تھیں۔ وہاں زیر تعلیم کشمیری نوجوان بطور خاص انہیں آکر ملے۔ پاکستان سے اظہار محبت کرتے رہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب پاکستان بھارت کرکٹ میچ ہوتا ہے۔ ہمارے علاقوں میںبھارتی افواج کو تعینات کر دیا جاتا ہے۔ جب پاکستانی کرکٹر ز چھکا چوکا لگاتے ہیں تو ہر گھر سے پاکستان زندہ باد کے نعرے بلند ہوتے ہیں۔

سینئیر صحافی مجیب الرحمن شامی نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے سیاستدانوں کے مثبت کردار کی اہمیت پر زور دیا۔ فرمایا کہ کشمیر کے معاملے پر ملک میں سیاسی یکجہتی کی فضا ہونی چاہیے۔ حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں پر لازم ہے کہ جب کشمیر کا معاملہ ہو، اپنے اپنے جماعتی اور سیاسی اختلافات بالائے طاق رکھ کر اکٹھے ہو جائیں۔معروف کالم نگار اور استاد ڈاکٹر مجاہد منصوری نے زور دیا کہ روائتی سفارت کاری اور روائتی ابلاغ کے بجائے غیر روائتی طریق کار اختیار کرناہو نگے۔ کہنے لگے کہ یہ ڈیجیٹل میڈیا کا زمانہ ہے۔ہمیں اسکا استعمال کرنا ہو گا۔ انفو لیب اور ہیومن رائٹس واچ نے حال ہی میں جو رپورٹیں شائع کی ہیں، وہ بھارت کے منہ پر کالک ملنے کو کافی ہیں۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ایسا تمام مواداکٹھا کریںاور دنیا کے سامنے رکھیں۔ کشمیر کمیشن پاکستان کے چیئر مین رائے نواز کھرل نے مختصر لیکن جامع تقریر کی۔ انتہائی جذباتی انداز میں بھارت کو للکارا۔ کہنے لگے کہ بھارت مذاکرات کی زبان سمجھنے سے قاصر ہے۔ اسے طاقت کی زبان سمجھ آتی ہے۔سینئر صحافی ظفر سندھو نے پاکستان کیلئے کشمیریوں کی محبت کا تذکرہ کیا۔ 

 ان انتہائی فکر انگیز تقاریر کے ساتھ یہ سیمینار اختتام پذیر ہوا۔ نشست کے دوران طالبعلم " کشمیر بنے گا پاکستان" کے پرجوش نعرے بلند کرتے رہے۔ اس مثبت سرگرمی کے انعقاد پر جامعہ پنجاب، اسکول آف کمیونیکیشن اسٹڈیز، ادارے کی ڈائریکٹر اور سٹاف مبارکباد کا مستحق ہے۔لازم ہے کہ تعلیمی اداروں میں وقتاً فوقتاً ایسی سرگرمیاں ہوتی رہیں، تاکہ ہر پڑھے لکھے نوجوان کے دل اور ذہن میں کشمیر کا مسئلہ سارا سال زندہ رہے۔ اس طرح ہم نوجوانوں کو روائتی اورجدید میڈیا کے ذریعے مظلوم کشمیریوں کی آواز دنیا بھر میں پہنچانے کیلئے اپنا کردار ادا کر نے کی طرف راغب کر سکتے ہیں۔


ای پیپر