جنگی محاذ پر عددی اکثریت کافی نہیں
01 مارچ 2019 2019-03-01

انڈیا گزشتہ 2 ہفتے سے جس تیزی سے تصادم کی راہ پر چل رہا تھا اس کی وجہ محض خام خیالی تھی ۔ مودی جی سمجھتے تھے کہ جیسے ہی وہ پاکستان کو دھمکائیں گے ہندوستانی اپنا ووٹ اور سپورٹ ان کے قدموں میں ڈال دیں گے عملاً اس کے بر عکس ہوا۔ فوجی تصادم یا جنگ کی کیفیت میں انہوں نے اپنی عسکری بالا دستی کی شرمناک شکست دیکھ لی ہے اب وہ الیکشن میں اپنی شکست دیکھیں گے۔ جنگ اور الیکشن میں پٹ جانے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ آنے والے وقت میں کشمیر پر عالمی صورت حال تبدیل ہونے جا رہی ہے۔ جس کا سارا کریڈٹ نریندر مودی کو جائے گا۔ کشمیری تیار بیٹھے ہیں کہ لوہا گرم ہے تو وہ بھی کاری ضرب لگا کر آزاد ہو جائیں۔

مودی نے پاکستان کی فوجی طاقت کا غلط اندازہ لگایا۔ کہتے ہیں کہ شیر کی کھال پہن کر اگر کوئی جانور دوسرو ں پر اپنا جعلی رعب ڈالنا چاہے تو یہ فریب ایک حد تک تو چل جائے گا کے دوسرے اسے شیر سمجھنے لگیں۔ تباہ کن اس وقت ہوتا ہے جب شیر کی کھال پہن کر وہ خود بھی اپنے آپ کو شیر سمجھنے لگ جائے مودی جی کے ساتھ یہی ہوا ہے جب 2016 ء میں انہوں نے جعلی حملے کا ڈرامہ رچایا تو وقتی طور پر تو کافی شور مچا مگر اس دفعہ انہوں نے پاکستان کو سچ مچ میں نیچا دکھانے کی کوشش کی جو ان کے گلے کی ہڈی بن گیا ۔

اب ذرا بھمبر آزاد کشمیر میں انڈین ایئر فورس فائٹر MIG-21 کی بات کرتے ہیں۔ جسے پاکستان فائٹر پائیلٹ حسن صدیقی نے مار گرایا اور اس کا پائیلٹ ٹکڑا گیا۔ اس طیارے کا شمار دنیا کے مہنگے ترین فائٹرز جہازوں میں ہوتا ہے۔ جس کی قیمت25 ملین ڈالر یعنی 350 کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔ دوسرا طیارہ جو انڈیا میں جا گرا وہ بھی یہی تھا گویا انڈیا کو ایک منٹ میں 700 سے 800 کروڑ روپے کی قیمت چکانی پڑی جو بھاری جنگی اخراجات سمجھی جاتی ہے۔

آئی ایس پی آر کے میجر جنرل آصف غفور کئی دن سے کہہ رہے تھے کہ ہم انڈیا کو سر پرائز دیں گے اب تک نہ تو انڈیا سمجھ سکا ہے اور نہ ہی عام قارئین نے غور کیا ہے کہ اس واقعہ میں انڈیا کے ساتھ ہوا کیا ہے۔ جنرل آصف غفور نے اپنے بیان میں ملٹری اصطلاحات استعمال کیں جس سے عام فہم شہریوں کو واضح نہیں ہوا۔ یہ تھا کہ پہلے دن جب انڈین طیارے پاکستانی حدود میں داخل ہو کر صحیح سلامت واپس گئے تو اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ صرف 4 کلو میٹر اندر آئے تھے جس کے لیے 4 سیکنڈ ہی درکار ہوتے ہیں جب انہوں نے مزاحمت دیکھی تو وہ واپس بھاگ گئے۔ اس واقعہ کی انڈیا سے پہلے پاکستان نے نیوز بریک کر دی کہ انڈیا نے در اندازی کی ہے پاکستان کو اندازہ تھا کہ انڈیا نے پراپیگنڈا شروع کرنا ہے کہ ہم نے حملہ کیا ہے۔ حقیقتاً بھی یہی ہوا جب انہوں نے 350 ء دہشت گرد مارنے کا جھوٹا دعویٰ کر دیا۔

فوج کی زبان میں دشمن کو دھوکہ دینے کے لیے چلی جانے والی چال کو Boobey Trap کہا جاتا ہے جسے اردو میں آپ ’’ پھندا برائے احمقان‘‘ تیار کیا وہ

یہ تھا کہ 27 فروری کو دن کی روشنی میں پاکستان کے 6 طیارے مقبوضہ کشمیر میں داخل ہوئے انہیں ٹارگٹ دیا گیا تھا کہ آپ نے وہاں کوئی نقصان نہیں پہنچانا صرف ظاہر کرنا ہے کہ ہم حملہ آور ہو رہے ہیں جیسے ہی یہ طیارے انڈیا میں داخل ہوئے انڈین ایئر فورس حرکت میں آ گئی۔ منصوبے کے مطابق ان میں سے 5 طیارے فرضی ہدف پر ویرانوں میں بم گرا کر واپس آ گئے ایک پیچھے رہ گیا ۔ یہ بھی ایک چال کا حصہ تھا اس آخری طیارے کو مارنے کے لیے انڈیا کے دو Mig-21 اس کے تعاقب کے لیے جیسے ہی اس کے قریب آئے وہ طیارہ اپنی پوری سپیڈ سے لائن آف کنٹرول کراس کر کے پاکستان آ گیا یہ فیصلہ کن لمحہ تھا انڈین طیارے جس برق رفتاری سے اس کا پیچھا کر رہے تھے۔ انہیں قطعی طور پر اندازہ یہی ہو سکا کہ وہ 7 کلو میٹر پاکستان میں ہیں۔ یہی Boobey Trap تھا ہمارے فائٹر انہی کے انتظار میں تھے ان دونوں طیاروں کو ہٹ کیا گیا ایک پاکستان میں گرا جبکہ دوسرا مقبوضہ کشمیر میں۔ انڈین پائیلٹ ابھے آنندن کو پاکستانی کشمیر میں پیرا شوٹ سے اترتے دیکھ لیا گیا تھا کیونکہ دن کا ٹائم تھا ۔ کشمیری نو جوان اس کے زمین پر پہنچنے سے پہلے وہاں پہنچ گئے اس نے گرتے ہی سب سے پہلا سوال یہ پوچھا کہ یہ انڈیا ہے یا پاکستان۔ جب کشمیریوں نے اسے جوتے مارنے شروع کیے تو اسے تب جا کر حقیقت کا پتہ چلا۔ جنرل آصف غفور جس سر پرائز کی کئی دنوں سے بات کر رہے تھے وہ اب انڈیا کو سمجھ آ چکی تھی یعنی انڈین پائیلٹ پھندا برائے احمقان میں خود بخود پھنس چکا تھا ۔ انڈیا بری طرح فلاپ ہو چکا ہے۔ مودی جی کا غصہ کھسیانی بلی کی طرح کھمبہ جوچنے پر مجبور ہے پاکستان نے ثابت کر دیا ہے کہ واقعہ Battle Hardened آرمی ہے جو گزشتہ 30 میں چھاپہ مار جنگ کے بعد کندن بن چکی ہے۔ جنگیں عددی اکثریت سے نہیں جیتی جاتیں یہ کوئی الیکشن نہیں ہے یہ حکمت اور تدبیر سے جیتی جاتی ہیں۔

انڈین میڈیا کا جنگی بخار اتر چکا ہے۔ وہ اب لکھ رہے ہیں کہ ہندوستانی عوام جنگ کے خلاف ہیں پاکستان کو سبق سکھانے والا سکرپٹ بدل دیا گیا ہے۔ اب سارا زور اس بات پر ہے کہ ہمارا پائلٹ واپس کیا جائے اب انٹر نیشنل جنیوا کنونشن کے حوالے دیئے جا رہے ہیں۔ اسے ٹی وی پر دکھانے کو بھی کنونشن کی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ تو انڈیا کی خوش قسمتی ہے کہ وہ پائیلٹ کشمیریوں کے غیض و غضب کا نشانہ بننے سے پہلے پاکستانی آرمی نے وہاں بر وقت پہنچ کر اُسے بچا لیا ورنہ عوام تو چبا جاتے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ پائیلٹ اس انڈین ریاست کا چہرہ ہے جس نے کشمیریوں پر مظالم کی نئی داستانیں رقم کی ہیں اور کشمیری LOC کے اس طرف کا ہو یا اس طرف کا وہ آپس میں اٹوٹ رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔

عمران خان کو سعودی عرب اور امریکہ کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ وہ مودی کو فون کریں اگر یہ دونوں ممالک اس بات کی ضمانت دیتے ہیں کہ عمران خان کے فون کرنے سے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا بند دروازہ کھولا جا سکتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ پاکستان سے مذاکرات کا تازہ مینڈیٹ انڈین الیکشن کے بعد قائم ہو گا اور آثار یہی ہیں کہ انڈیا میں اگلی حکومت کا نگریس بنانے جا رہی ہے۔ مودی کو تو صرف اب جنگ کی اس دلدل سے باہر نکلنے کے لیے ایک طرح کا Safe Passage درکار ہے کہ وہ اپنے عوام کو منہ دکھا سکے۔

پاکستان کو تاریخ کو وہ سبق یاد رکھنا ہو گا جب پاکستان نے کارگل جنگ میں پکڑے جانے والا پائیلٹ Nirrita کو خیر سگالی کے طور پر رہاکر دیا تھا جس نے انڈیا جا کر پاکستان کے خلاف بیانات دیئے اسے ہیرو بنا دیا گیا اور انڈیا کے ہر ٹی وی چینل پر اسے بطور celebrity پیش کیا جانے لگا۔ اس کہانی کا افسوس ناک پہلو یہ تھا کہ انڈیا نے انتقامی طور پر بدین میں پاکستان نیوی کے 130-c طیارے کو مار گرایا جس میں ہمارے 30 افسر اور جوان شہید ہوئے انڈیا نے کہا کہ ہم نے اپنا بدلہ لیا ہے۔ نریندر مودی کی پوزیشن اس وقت ایسے زخمی سانپ کی ہے جو مرنے سے پہلے اپنا پورے کا پورا زہر اپنے دشمن کی رگوں میں اتارنے کے لیے تلملا رہا ہو اور غصے میں اپنے آپ کو ڈنگ مار رہا ہو جیسا کہ اس نے پلوامہ میں اپنے ہی 44 سپایہوں کے خون سے ہاتھ رنگے ہیں۔ ان فوجیوں کی بیوائیں بھی اپنی حکومت سے اپیل کر رہی ہیں کہ سیاسی مسائل کو بات چیت سے حل کیا جائے۔


ای پیپر