سندھ میں مسائل کیوں نہیں حل ہوتے؟
01 مارچ 2019 2019-03-01

پاک بھارت کشیدگی پر سندھی میڈیا میں مضامین، کالم اور اداریے شایع ہوئے ہیں جن کا لب لباب یہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ عوام کے لئے نقصان دہ ہے۔ جنگ اگر کرنی ہے تو برصغیر میں غربت کے خلاف کرنی چاہئے۔ تمام متنازع معاملات کو مذاکرات کی میز پر حل کرنا چاہئے۔ برصغیر کو جنگ نہیں امن چاہئے۔ مودی کے جنگی جنون کی مذمت کی گئی۔پاک فوج سے یکجہتی کے طور پر سندھ کے مختلف شہروں میں ریلیاں نکالی گئیں۔کراچی میں جنگ نہیں امن چاہئے کے نعرے پر پریس کلب کے سامنے مظاہرہ بھی کیا گیا۔ سندھ حکومت نے بعد از خرابی بسیار صوبے میں ڈاکٹروں کی تنخواہیں پنجاب کے برابر کردیں۔ اس سے قبل سندھ میں سرکاری ڈاکٹروں کی تنخواہیں پنجاب کے مقابلے میں کم تھیں۔ ڈاکٹر کئی روز تک ہڑتال پر تھے جس کے دوران بعض سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کی موت بھی واقع ہوئی۔ سندھ حکومت نے عدالتی حکم کے بعد معذورین کوٹا پر عمل درآمد کیلئے اشتہارات کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ بدین میں 33روز سے معذورین احتجاج کر رہے تھے۔ یقین دہانی کے بعد یہ احتجاج ختم کردیا گیا۔ صوبے میں گنے کی قیمت کا مسئلہ تاحال حل نہیں ہوسکا ہے۔ ٹنڈو الہ یار میں مہران شگر ملز کے باہر کاشتکاروں اور مزدوروں کا دھرنا جاری تھا۔ جمعہ کے روز گیٹ کھول دیئے گئے ۔

گنے کی قیمت کا نوٹیفکیشن سندھ کابینہ کی منظوری کے بغیر جاری ہوا ہے۔ رولز آف بزنس کے تحت سیکریٹری کو اختیارہے کہ وہ گنے کی قیمت مقرر کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کرے۔ سندھ ہائی کورٹ نے گزشتہ دسمبر میں فیصلہ دیا تھا کہ گنے کی قیمت 182 روپے فی من مقرر کی جائے۔ اس فیصلے کے خلاف شوگر ملز مالکان نے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر رکھی ہے۔ مطلوبہ مشاورت کرلی گئی تھی۔

سندھ فیسٹیول میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی شرکت کو سراہا گیا۔ یہ پہلا موقعہ ہے کہ صدر پاکستان نے سندھ فیسٹیول میں شرکت کی ہے۔ صوبائی دارلحکومت کراچی میں منعقدہ تین روزہ سندھ لٹریچر فیسٹیول میں متعدد سیشن ہوئے۔

روزنامہ کاوش محکمہ آبپاشی کا سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کے عنوان سے اداریے میں لکھتا ہے کہ ہمارے حکمرانوں کے نزدیک حکمرانی کا مقصد کمیٹیوں کی تشکیل اور ہر بات کا نوٹس لینے تک محدود ہے۔ ان کے پاس ہرمسئلہ کا یہی حل ہے۔ عوام کے مسائل سے لاتعلقی اور حکمرانی کو دل پشوری سمجھنے کے باعث سندھ میں مسائل بڑھ کر کسی بڑے برگد کے پیڑ کی طرح ہو گئے ہیں۔ سندھ کے عوام کو کس طرح کے مسائل کا سامنا ہے اس کا ایک عکس گزشتہ چند روز سے شہری مسائل کے حوالے سے بعض اخبارات کی جانب سے

شائع ہونے والی رپورٹس میں ملتا ہے۔ یہ بس مسائل دیکھ کر لگتا ہے کہ عوام کے مسائل حل کرنا حکومت کی ترجیح نہیں ۔ عوام کو کونسی سہولیات حاصل ہونگی جب انہیں پینے کا صاف پانی بھی میسر نہ ہو۔ صوبے کے متعدد ایسے علاقے ہیں جہاں کی شاخیں اور کینال کئی ماہ سے خشک ہیں۔ زرعی مقاصد دور کی بات وہاں پینے کے لئے پانی بھی دستیاب نہیں۔ ٹھٹھہ ضلع ہو یا بدین اور سجاول یا جوہی کا علاقہ پانی کی قلت اور عدم موجودگی کے خلاف احتجاج جاری ہیں۔ سماعت و بصارت سے محروم انتظامیہ کو بھلے یہ احتجاج نظر نہ آئیں لیکن عوام کے مزاج کے بدلتے موسم کا اندازہ نہ کرنا کسی طور پر بھی انتظامی تدبر نہیں۔

سندھ گزشتہ کئی برسوں سے بدترین حکمرانی سے گزر رہا ہے۔ لیکن اب حالت یہ ہے کہ پینے کے لئے پانی بھی میسر نہیں۔ زراعت تو تباہ ہے ہی، جس پر صوبے کی معیشت کا کلی طورانحصار ہے۔ خوشیاں ریبع اور خریف سے منسلک ہوا کرتی تھیں۔انہی موسموں میں خوشیاں لوگوں کے آنگنوں میں آتی تھیں۔ لوک گیت، خوشیوں کے گیت اور لوک رقص میدانوں میں ہوتے تھے۔ لیکن اب سندھ اور خاص طور پر اس کے ٹیل والے اضلاع پانی کی بوند کے لئے ترس گئے ہیں۔ پانی بنیادی انسانی حق اور اس کے زندہ رہنے کے لئے لازمی اسم ہے۔ لوگوں کو پانی سے محروم کرنا انہیں جینے کے حق سے محروم کرنے کے مترادف ہے۔ پانی کی مصنوعی قلت پیدا کر کے ایک خوشحال تہذیب کو ختم کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی ہوئی ہے۔اب تو لوگ، مویشی اور جنگلی حیات بھی مرنے لگی ہے۔ منتظمین فطرت کے تمام ماحول کو ختم کر کے وہاں زندہ رہنے کی راہیں مسدود کر رہی ہیں۔ ان علاقوں سے بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہو رہی ہے۔ زرعی معیشت کی تباہی کے باعث بڑے پیمانے پر غربت پھیل چکی ہے۔ تسلیم کہ اس پورے قصے میں ماحولیاتی تبدیلی بھی ایک وجہ ہے لیکن تمام قصور نامہربان موسم پر نہیں ڈالا جاسکتا ہے۔ زیادہ تر تباہی منتظمین کی بد انتظامی اور خراب حکمرانی کی وجہ سے آئی ہے۔ اول لوگوں کو پینے کا پانی میسر نہیں اور جہاں مسیر ہے وہ غلیظ اور مضر صحت ہے۔ چند ماہ پہلے واٹر کمیشن کی سرگرمی کے دوران پینے کے پانی کے نمونوں کا معائنہ کرایا گیا تو پتہ چلا کہ شہروں میں بھی پینے کے لئے عوام کو غلاظت کی ملاوٹ والا پانی مہیا کیا جارہا ہے۔ حیدرآباد کے کئی شہری اور بچے ٹائیفائیڈ ایم ڈی میں مبتلا ہیں یہ بھی اطلاعات ہیں کہ حیدرآباد کے پانی میں اس خطرناک بیماری کا وائرس موجود ہے۔ حیدرآباد میں پھر بھی کسی حد تک شہریوں کو فلٹر شدہ پانی مہیا کیا جاتا ہے، جہاں غیر فلٹر شدہ پانی فراہم کیا جارہا ہے وہاں کیا صورتحال ہوگی؟ صرف ایک مثال ہی لے لیں۔ کینجھر جھیل میں کوٹری کے صنعتی علاقے کا بلا ٹریٹمنٹ آلودہ اور زہریلا پانی کے بی فیڈر کے ذریعے چھوڑا جاتا ہے۔ اگرچہ کوٹری سائیٹ ایریا میں ٹریٹمنٹ پلانٹ موجود ہے ۔ یہیں قائم صنعتوں پر لازم ہے وہ صنعتی آلودہ پانی کو ٹریٹ کرنے کے بعد اس فیڈر میں چھوڑیں۔ لیکن اس پر برسوں سے عمل نہیں کیا جارہا ہے۔ کینجھر جھیل میں مسلسل زہریلا پانی چھوڑا جارہا ہے۔کینجھر سے کراچی کے شہریوں کو فلٹر شدہ پانی فراہم کیا جاتا ہے لیکن جھمپیر، اور کینجھر کے گرد نواح میں موجود شہروں اور گاؤں کو آلودہ اور زہریلا پانی مہیا کیا جارہا ہے۔ اس علاقے میں صورتحال یہ کہ سینکڑوں افراد ہیپاٹائٹس، پیٹ کی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ متعدد لوگ گردے کی بیماریوں کی وجہ سے تکلیف کی زندگی گزار رہے ہیں۔

سندھ میں پانی کا بحران دراصل اچھی انتظام کاری کا بحران ہے۔ محکمہ آبپاشی کی نااہلی اور کرپشن نے سندھ کے زیریں اضلاع میں معیشت کو تو تباہ کیا ہے لیکن یہاں پر لوگوں کا جینا بھی مشکل کردیا ہے۔ معیشت تباہ ہے بستیاں ویران ہیں۔ زرخیز زمین تباہ کرنے کی قیمت پر سیاسی مفادات حاصل کئے جارہے ہیں۔ حکمرانوں کے لئے سیاسی وفاداری اہم ہے۔ باقی عوام سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ آخر محکمہ آبپاشی کا سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کب بند ہوگا؟


ای پیپر