سوبرس پرانی کہانی ’’وار‘‘ اور آج کے نریندر مودی
01 مارچ 2019 2019-03-01

بیسویں صدی کے نوبل انعام یافتہ اطالوی رائٹر ’’لیوجی پیراندلو‘‘ کا ایک افسانہ ’’ وار‘‘ ہے۔ اس شہرۂ آفاق کہانی کا اردو ترجمہ انٹرنیشنل سطح پر پہچانے جانے والے اردو کے پاکستانی مترجم نیر عباس زیدی نے ’’جنگ‘‘ کے نام سے کیا ہے جو اُن کی کتاب ’’نوبل انعام یافتہ ادیبوں کے افسانے‘‘ میں شامل ہے جس کا دوسرا ایڈیشن فکشن ہاؤس پبلیکیشنز لاہور کی طرف سے شائع ہوچکا ہے۔ افسانہ ’’ وار‘‘ کے پس منظر میں بتایا گیا ہے کہ جنگ انسانیت کو کتنا غم زدہ کردیتی ہے۔ کہانی میں ٹرین کے کچھ مسافر ہیں جن میں ایک بوڑھا جوڑا بھی ہے جن کا بیس برس کا اکلوتا بیٹا محاذ جنگ پر چلا گیاہے۔ بیٹے کی سلامتی کے بارے میں بوڑھی ماں اور بوڑھا باپ بہت پریشان ہیں۔ ان کے سامنے ایک بوڑھا شخص بیٹھا ہے جو انہیں سمجھاتا ہے کہ اُس کا بیٹا محاذ جنگ پر ملک کے لئے قربان ہو چکا ہے اور وہ بیٹے کی قربانی پر فخر کرتا ہے۔ وہ بوڑھا اُن دونوں بوڑھے میاں بیوی کو اُن کے بیٹے کے محاذ جنگ پر جانے پر فخر کرنے کی تلقین کرتا ہے لیکن آخر کار اپنے مرے ہوئے بیٹے کی یاد میں غم ناک جذبات کو چھپا نہیں سکتا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگتا ہے۔ نیر عباس زیدی کہانی ’’ وار‘‘ کے آغاز کا اردو ترجمہ اِس طرح کرتے ہیں کہ ’’وہ مسافر جو رات کو ٹرین میں سوار ہوکر روم سے سلمونہ جاتے انہیں صبح ہونے تک فیبریانو کے ایک چھوٹے سے سٹیشن پر رکنا پڑتا تاکہ وہ وہاں سے برانچ لائن پر (چلنے والی ٹرین میں) اپنا سفر جاری رکھتے ہوئے سلمونہ پہنچ سکیں۔ سیکنڈ کلاس کی حبس اور دھوئیں سے بھری بوگی میں پانچ مسافر رات سے ہی سوار تھے۔ صبح سویرے اسی بوگی میں ایک بھاری بھرکم، بنڈل کی طرح بے ڈھنگی خاتون سوار ہوئی۔ وہ خاتون خاصی غم زدہ محسوس ہو رہی تھی۔ اس کے پیچھے پیچھے اس کا شوہر بھی داخل ہوا، وہ چھوٹے قد کا مالک، دبلا و لاغر شخص تھا۔ ٹرین میں سوار ہوتے وقت وہ ہانپ رہا تھا، اس کے چہرے پر موت کی سی سفیدی تھی، اس کی آنکھیں گول اور

چمکیلی تھیں، وہ متذبذب اور پریشان نظر آرہا تھا۔ سیٹ پر بیٹھ جانے کے بعد اس شخص نے بڑی شائستگی سے ان مسافروں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ٹرین میں سوار ہونے میں اس کی بیوی کی مدد کی اور بوگی میں ان کے لئے جگہ بنائی۔ پھر وہ اپنی بیوی کی طرف متوجہ ہوا اور اس کے کوٹ کا کالر نیچے کرنے کی کوشش میں دھیمے انداز میں پوچھا ’’بیگم! کیا آپ ٹھیک سے بیٹھ گئی ہیں؟‘‘ جواب دینے کی بجائے اس کی بیوی نے اپنے کوٹ کا کالر دوبارہ اوپر کرلیا جیسے وہ اپنا چہرہ چھپانا چاہتی ہو۔ ’’گندی دنیا!‘‘ ایک مایوسی کی سی کیفیت میں اس شخص کے منہ سے اچانک یہ الفاظ نکل گئے۔ پھر اس شخص نے یہ ضروری جانا کہ وہ بوگی میں موجود دیگر مسافروں کو بتائے کہ وہ عورت قابل رحم ہے کیونکہ یہ جنگ اس کے اکلوتے بیٹے کو اس سے دور لے جارہی ہے۔ ان کا بیٹا بیس سال کا ہے اور اس کے لئے ان دونوں نے اپنی تمام زندگی وقف کردی ہے۔ ایسی صورت میں اگر سلمونہ محاذ میں اُن کا وہ بیٹا مارا جائے جو اکلوتا ہوتو باپ بھی مرسکتا ہے تاکہ وہ اپنے کرب کو ختم کرسکے۔ اُن بوڑھے میاں بیوی کے سامنے بیٹھے ایک دوسرے بوڑھے نے کہا کہ ان دو حالتوں میں سے کون سی بدترین ہے؟ کیا تم نہیں دیکھتے کہ میرا معاملہ تمہارے معاملے سے شدید تر ہے؟‘‘ مختصر یہ کہ سامنے بیٹھے اُس دوسرے بوڑھے کا بیٹا محاذ جنگ پر ملک کے لئے قربان ہو چکا تھا۔ اُس بوڑھے کے آگے کے دانت غائب تھے نے اپنی آواز کو جوان کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنے بیٹوں سے محبت کے مفاد سے زیادہ ملک کے مفاد کو بہتر سمجھنا چاہئے۔ میری طرف دیکھو میں بیٹے کے جنگ میں کام آنے پر فخر محسوس کرتا ہوں۔ اُس بوڑھے کے حوصلے کو دیکھ کر بوگی کے مسافر بہت متاثر ہوئے۔ اسی دوران وہ غم زدہ جوڑا جن کا اکلوتا بیٹا اِس وقت محاذ جنگ پر تھا کی بیوی نے چونکتے ہوئے اُس حوصلہ مند بوڑھے کی طرف دیکھا۔ اُس کے لئے یہ انوکھی بات تھی کہ ایک بوڑھے باپ کا بیٹا محاذ جنگ پر مارا جائے اور باپ کو کوئی غم نہ ہو۔ اُس عورت کی بظاہر حوصلہ مند بوڑھے کے ساتھ گفتگو اور کہانی کے کلائمکس کو نیر عباس زیدی نے یوں ترجمہ کیا کہ ’’تمام لوگ اُس بہادر باپ کو خراج تحسین پیش کررہے تھے جو اپنے بیٹے کی موت کا قصہ بڑے ضبط اور استقلال سے سنا رہا تھا۔ پھر وہ خاتون اچانک اس بوڑھے شخص کی طرف اس انداز سے بڑھی جیسے اس نے وہ تمام گفتگو بالکل ہی نہ سنی ہو اور وہ کسی خواب سے بیدار ہوئی ہو، اور اس شخص سے پوچھا ’’تو۔۔۔ تو کیا تمہارا بیٹا واقعی مرگیا‘‘۔ ہر شخص اس خاتون کی طرف غور سے دیکھنے لگا۔ وہ بوڑھا شخص بھی اسے دیکھنے کے لئے متوجہ ہوا اور اپنی بڑی، قرمزی، مرطوب اور خاکستری آنکھیں اس خاتون کے چہرے پر جما دیں۔ کچھ دیر اس نے جواب دینے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا اور مسلسل اس خاتون کو دیکھتا رہا جیسے اس احمقانہ اور بے محل سوال سے اسے یہ احساس ہوا ہوکہ اس کا بیٹا واقعی اس دنیا سے چلا گیا، ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چلا گیا۔ اس بوڑھے کا چہرہ بجھ گیا، حلیہ خوفناک حد تک بگڑ گیا، اس نے بڑی عجلت میں اپنی جیب سے رومال نکالا اور لوگ یہ دیکھ کر حیرت میں مبتلا ہوگئے کہ اس کا ضبط پاش پاش ہوگیا اور وہ بڑے دردناک اور دل خراش انداز میں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا‘‘۔ نوبل انعام یافتہ اطالوی رائٹر ’’لیوجی پیراندلو‘‘ کی تقریباً سو برس پہلے لکھی گئی یہ کہانی ’’ وار‘‘ آج سو برس بعد جنگی جنون سے لبریز ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی کے لئے ایک آئینہ بھی ہے۔ انڈین اےئر فورس کے پائلٹ کے پاکستان میں گرفتار ہونے سے انڈیا میں جو کہرام مچا وہ اپنے الیکشن جیتنے کے لئے جنگ کو سہارا بنانے والے مودی کے لئے ایک لمحہ فکریہ بھی ہے۔ صرف دو دن کے لئے پاکستان میں گرفتار رہنے والے نوجوان بھارتی پائلٹ ’’ونگ کمانڈر ابھی نندن ورتھمان‘‘ کے باپ انڈین اےئر فورس کے ’’ریٹائرڈ اےئر مارشل ورتھمان‘‘ کے بظاہر حوصلہ مند بیان کے اندر چھپے بے حد تشویش زدہ جذبات کو بے رحم نریندر مودی کو بھی محسوس کرنا چاہئے۔ تاریخ کو یہ فیصلہ بھی کرنا ہوگا کہ پاکستان مقابلے اور منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت ثابت کرنے کے باوجود جنگ پر امن کو ترجیح دیتا ہے کیونکہ جنگ لوگوں کو پھوٹ پھوٹ کر رلاتی ہے جبکہ امن خوشی سے لوگوں کے قہقہے لگواتا ہے۔


ای پیپر