تلافی
01 مارچ 2019 2019-03-01

برا ہوا اس پروپیگنڈہ کا جوا ب تلک عالمی سطح پر بہت سی انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بن چکا ہے۔ اک وقت تھا جب اس نوع کی مشق کو بُری نگاہ سے دیکھا جاتا تھا، اقدار کے زوال کے ساتھ اتنی تبدیلی آئی کہ اسے مثبت اور منفی کا نام دے دیا گیا، بتدریج یہ تفریق بھی ختم کردی گئی ،اسکا باقاعدہ استعمال سبکی پالیسی کاحصہ بنتا جارہا ہے۔ عالمی ادارے بھی اس’’ بدعت ‘‘سے محفوظ نہیں رہے ،اس فریضہ کی انجام دہی کیلئے وزراء کا تقرر ہی نہیں کیا جاتا بلکہ اب ’’تو سپوکس مین‘‘ بھی مقر ر کیے جاتے ہیں جو اس تواتر سے ترجمانی کرتے ہیں کہ اصل حقائق پس پردہ چلے جاتے ہیں، منظر یوں دھند لادیا جاتا ہے کہ اچھائی اور برائی میں مکمل تمیز خاصی مشکل ہوجاتی ہے۔آج کی مہذب دنیا میں اس طرز کا فریضہ انجام دینے والے افراد نہ صرف سرکاری خزانہ سے تنخواہ پاتے ہیں بلکہ انکی گفتگو ہی کو اولیت حاصل ہوتی ہے فی زمانہ انہیں’’ سرکاری ترجمان‘‘ کہاجاتا ہے اسی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے اب تو سیاسی جماعتوں نے بھی اپنے اپنے ترجمان مقرر کرلیے ہیں جو اپنی اپنی جماعتوں اور ان کے قائدین کا موقف عوام کے سامنے رکھتے ہیں۔

یہ طرز عمل جمہور ی ممالک میں رائج العمل ہے جبکہ بادشاہی نظام حکومت میں بھی سرکار کی نمائندگی ہوتی ہے لیکن یہ ذرا ’’ وکھری ٹائپ‘‘ کی ہوتی ہے اس میں ترجمان صرف سرکار کی خوبیاں بیان کرنے کا پابند ہوتا ہے بالفاظ دیگر صرف لکھی ہوئی تقریر پڑھنا ہی اسکا مقدر ہوتا ہے یہ اپنی طرف سے کوئی رائے قائم کرسکتا نہ ہی کوئی ترمیم یا تردید کرسکتا ہے وہی بیان کرتا ہے جو ’’بادشاہ ‘‘کی خواہش ہوتی ہے اسے عوام سے زیادہ شاہ کی وفاداری عزیز ہوتی ہے اگر یہی عمل جمہوریت کی دعوی دار حکومت کے عہد میں انجام دیا جارہا ہوتو اس’’ کہانی‘‘ کو پروپیگنڈہ کے علاوہ دوسرا کوئی نام دیا ہی نہیں جاسکتا ۔

المیہ یہ ہے کہ یہ سب کچھ اس دور میں انجام دیا جاتا رہا جس کو ہم گلوبل ولیج کے نام سے موسوم کرتے ہیں جہاں لمحہ بہ لمحہ خبریں دنیا میں پھیلتی ، جو مختلف چینل کی جانب سے نشر کی جاتی رہتی ہیں اس’’ کارخیر‘‘ میں اب تو سوشل میڈیا بھی شریک سفر ہے اگر دو دہائی پہلے کے عالمی حالات پر نگا ہ رکھیں تو یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے اس عہد

جدید میں بھی عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی دانستہ کاوش کی جاتی رہی اور اتنی دھول اڑائی گئی کہ سچ اس میں گم ہوکررہ گیا۔ عالمی منظر نامہ پر اظہار خیال کرنے ، آراء او رتجزیے پیش کرنے والے عام افراد نہیں تھے یہ بڑی طاقتوں کے’’ جید ترجمان‘‘ تھے جنہوں نے ایسے ایسے مناظر عالمی برادری کے سامنے رکھے کے ان کا ہر قو ل’’ صادق ‘‘دکھائی دیتا تھا ،جس نے آگے چل کر معصوم شہریوں کو لقمہ اجل بنانے، املاک تباہ کرنے ،انسانوں کو اذیت ناک سزائیں دینے اور شرمناک سلوک کرنے کی راہ ہموار کی ۔آپ نائن الیون کے واقعہ، عراق میں کیمیائی ، ہتھیاروں کی موجودگی کے دعوی کا ہی جائزہ لیں۔طالبان کو دہشت گردقرار دینے کی’’ تھیوری‘‘ کو سمجھیں یہ تمام تر دعوے ہی اب بے بنیاد ثابت ہورہے ہیں۔ عراق میں کیمیائی ہتھیاروں سے ’’برائت‘‘ کااعلان سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر پہلے ہی کرچکے ہیں بلکہ انکی طرف سے معذرت عالمی شہرت پاچکی ،طالبان جو ماضی میں انکل سام کی نظر میں بنیاد پرست ،عالمی نقص امن کے ذمہ دار تھے ان سے روابط بڑھانے کا سلسلہ تاحال جاری ہے، نائن الیون پر مختلف آراء نے سارے کھیل کا بھانڈہ پھوڑ دیا۔لیکن لاکھوں انسان جو اس پروپیگنڈہ کی بھینٹ چڑھ گئے، کھربوں ڈالر کی جو املاک تباہ ہوئیں ،عالمی کاروبار میں جو تعطل پیدا ہو۔ا کیا نیٹو اتحادی ریاستوں کا کوئی’’ سرکاری ترجمان‘‘ اتنی اخلاقی جرات رکھتا ہے، جو اپنی غلطیوں کو تسلیم کرتے ہوئے عالمی برادری سے معافی مانگے، بچھڑنے والے مرحومین کے ورثاء سے تعزیت کرے اور نقصانات کی تلافی کرے؟ عالمی گماشتوں کی اس روش ہی نے ہندوستان کو بھی موقع فراہم کیا کہ وہ بھی دہشت گردی کی اس نام نہاد جنگ کا فائدہ اٹھاکر آزادی کشمیر کی تحریک کو اس کے ساتھ نتھی کرکے عالمی برادری کو گمراہ کرے اور اپنے ہمسایہ ملک پر الزام تراشی دھرے۔ ہر چند ہمارے سابق صدر اور سپہ سالار اس کے پروپیگنڈہ سے بے حد متاثر ہوئے۔ انہوں نے و ہ کچھ کردکھایا جسکا تصور کسی بھی عوامی حکومت میں ممکن نہ تھا۔ اگر یہ کہا جائے کہ کشمیریوں کی تحریک کو سب سے زیادہ ضعف اس عہد میں پہنچا تو بے جانہ ہوگا اسکو بنیاد بنا کر ہندوستانی حکومت نے کشمیری مجاہدین پر ظلم کے پہاڑ توڑ دیئے، خود ساختہ قانون سازی کے ذریعہ انکی زندگی اجیرن کردی، انکی قیادت کو پابند سلاسل رکھا۔ ردعمل کے طور پر اسکے نوجوان جان ہتھیلی پر رکھ کرنکلے اور وانی جیسے خوبرو مجاہدین نے شہادت کو زندگی پر ترجیح دی۔اس راہ پر کئی نوجوانان کشمیر چل نکلے ۔دہشت گردی کی بابت مودی سرکار کے پروپیگنڈہ کو انہوں نے مات دے کر پیغام دیا کہ یہ تحریک اہل کشمیر کے اپنے جوش و جذبے کی مرہون منت ہے اس میں اغیار کا خون شامل نہیں، انسانیت سوز سلوک بھی انکی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکا، حالانکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی باز گشت پورے عالم میں سنی جارہی ہے، عالمی اداروں کی چیخ و پکار پر انتہا پسندحکمران کان نہیں دھر رہے، جسکا شدید ردعمل پلوامہ حملے کے صورت میں سامنے آیا ہے۔ جن نے دو بڑی اٹیمی قوتوں کو آمنے سامنے لاکھڑا کیا ہے، نئی جنگی صورت حال کا دونوں کو سامنا ہے غربت ، مہنگائی میں پسی عوام کے جذبات اور خواہشات کا خراج اسلحہ کی خریداری کی صورت میں وصول کیا جارہا ہے۔

یہ حالات ان عالمی طاقتوں کو تو بہت’’ سوٹ‘‘ کرتے ہیں جنکی معاشی زندگی کا انحصار اسلحہ کی فروخت پرہے لیکن انہیں یہ ضرور یاد رکھنا چاہیے کہ لالچ کی کوکھ سے ایسی تباہی جنم لے گی جسکی لپیٹ میں جنوبی ایشیاء کا خطہ ہیں نہیں پورا عالم بالآخر آجائے گا۔

حالات کاتقاضا یہی ہے کہ عالمی راہنماء جھو ٹے پروپیگنڈہ کے سحر سے آزاد ہوں، زمینی حقائق کا ادراک کرتے ہوئے اہل کشمیر کی مدد کو دوڑیں اور اقوام متحدہ کے دروازہ پر دستک دے کر کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق استصواب کے انعقاد کو یقینی بنائیں ۔ نیٹو اتحادی اگر منفی پروپیگنڈہ کو بنیاد بنا کر اہل عراق، افغانستان پرچڑھ دوڑنے کیلئے اقوام متحدہ سے اجازت لینے کی’’ قدرت‘‘ رکھتے ہیں تو مثبت کام کرنے کیلئے قرارداد کی منظور کیوں نہیں کرواسکتے۔کیا مشرقی تیمور میں ریفرنڈم نہیں ہوا؟

جنگی جنون میں مبتلا مودی سرکار کو آئینہ دکھانے کا واحد ر استہ مسئلہ کشمیر حل ہی سے ہوکر گذرتا ہے اس میں جتنی تاخیر ہوتی جائے گی عالمی امن کو اتنا خطرہ لاحق رہیگا، پروپیگنڈہ کی گرد بیٹھنے کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادی کس اخلاقی مقام پے کھڑے ہیں؟ انکے جرائم کی تلافی کا واحد راستہ مظلوم اور بے کس فلسطینیوں او رکشمیریوں کی آزادی سے ہی ممکن ہے۔


ای پیپر