پاک فضائیہ کی بروقت حیران کن کارروائی: مودی سرکارسراسیمہ
01 مارچ 2019 2019-03-01

یہ امر 22کروڑ پاکستانیوں کے لیے حوصلہ افزاء ہے کہ 26فروری 2019ء کی شب بھارتی جنگی طیاروں نے پاکستان پر تین طرف سے حملے کی کوشش کی۔ پاک فضائیہ کی جوابی کارروائی سے وہ لاہور ، سیالکوٹ ، بہاولپور کی جانب سے حملے کی بزدلانہ کوشش میں پاک فضائیہ کی جوابی کارروائی کی وجہ سے ناکام رہے۔ تاہم بالا کوٹ کے جنگلات میں دو منٹ کی کارروائی کے دوران چار بم گرا کر دم دبا کر بھاگ گئے۔ اپنی طرف سے بھارت نے پلوامہ حملوں کا جواب دینے کی مذموم کوشش کی۔ 26فروری کی شام ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک پریس بریفنگ میں انتباہ کیا ’’بھارت جواب کا انتظار کرے، وقت اور مقام ہم طے کریں گے، اب ہم جھوٹ کا جواب سچ سے دیں گے اور حیران کر دیں گے‘‘۔ اگلے ہی روز 27فروری کو پاکستان نے بھارت کو دندان شکن سرپرائز دے دیا۔ 27 فروری کی صبح پاک فوج نے دو بھارتی طیارے مار گرائے جبکہ ایک بھارتی پائلٹ کو گرفتار کر لیا۔ ترجمان پاک فوج کے مطابق ایک بھارتی طیارہ آزاد جموں کشمیر کی حدود میں گرا جبکہ دوسرا بھارتی طیارہ مقبوضہ کشمیر کی حدود میں راکھ ہو گیا۔ دفتر خارجہ نے بھی اس امر کی تصدیق کی ہے کہ پاکستانی فضائیہ نے کل صبح پاکستانی حدود کے اندر سے کنٹرول لائن کے پار کارروائی کی۔ کارروائی کا واحد مقصد اپنے دفاع کے حق کا استعمال اور صلاحیتوں کا اظہار تھا۔ پاکستان کا مقصد ہرگز کشیدگی میں اضافہ نہیں۔ واضح رہے کہ بھارتی طیارہ مگ 21مقبوضہ کشمیر کے ضلع بڈگام میں تباہ ہوا اور طیارے کے دونوں پائلٹ نرگ باشی ہو گئے۔ شروع میں بھارتی میڈیا نے پروپیگنڈا کیا کہ بھارتی طیارہ تکنیکی خرابی کے باعث حادثے کا شکار ہوا۔ تاہم دن 12بجے کے بعد اس جنگی باؤلے پن میں مبتلا بھارتی میڈیا کو تسلیم کرنا پڑا کہ یہ کارروائی پاکستان کی ہے۔ یقیناًپاکستان کا یہ ہلکا پھلکا جواب دہلی سرکار کے لیے حیران کن اور غیر متوقع تھا۔ ادھر عالم یہ ہے کہ پاکستان کی جوابی کارروائی کے بعد بھارت نے متعدد ایئرپورٹ بند کر دیئے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ پاکستان کے اولین بروقت منہ توڑ جواب سے بھارتی افواج اور حکمرانوں پر بوکھلاہٹ طاری ہے۔ اسی طرح مقبوضہ کشمیر کے علاقوں میں لیہھ، جموں، سری نگر، امرتسر، چندی گڑھ اور پٹھان کوٹ میں ایئر پورٹس پر ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ فضائی حدود معطل ہیں اور کمرشل پروازیں بھی روک دی گئی ہیں۔

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ 1948ء میں بھارت نے وادئ جموں و کشمیر میں جاری مقامی تحریک آزادی کو کچلنے کے لئے باقاعدہ جارحیت کا ارتکاب کیا۔ وادئ جموں و کشمیر کے عوام تب سے بھارتی غیرقانونی اور غیراخلاقی قبضے کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے چلے آ رہے ہیں۔ 1948ء سے 1988ء تک وہ پرامن جدوجہد کے ذریعے بھارتی غاصب افواج اور حکام سے اپنا حقِ خودارادیت مانگتے رہے اور وادی میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصوابِ رائے کا مطالبہ کرتے رہے۔ جب ان کی پُرامن جدوجہد کو بھارتی غاصب افواج نے بزورِ شمشیر کچلنے کی دیرینہ روش کو برقرار رکھا تو مقبوضہ وادی کے محکوم عوام کی دوسری نسل نے شاخِ زیتون پھینک کر اپنے ہاتھوں میں بندوق تھام لی۔ غیرجانبدار عالمی مبصرین اسے غیرملکی جارح افواج کے خلاف مقامی تحریک مزاحمت کا عنوان دیتے رہے۔ 1988ء کے بعد بھارت نے کشمیری نوجوانوں کی مسلح جدوجہدِ آزادی کو دبانے کے لئے آرمڈ فورسز سپیشل پاور ایکٹ اور پبلک سیفٹی ایکٹ کا نفاذ کیا۔ مقبوضہ وادی کے عوام کی اکثریت ان دونوں قوانین کو کالے قوانین قرار دے کر مسترد کرتی رہی۔ بھارت حقائق کو تسلیم کرنے سے انکار کرتا رہا اور اُلٹا پاکستان پر بے بنیاد الزام دھرتا رہا کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری حریت پسندوں کی مسلح جدوجہد کو پاکستان کی حمایت حاصل ہے۔ مقبوضہ وادی میں بھارتی غاصب افواج اور پیراملٹری فورسز نے مظلوم عوام کے خلاف بدترین بہیمانہ مظالم کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ 31 برسوں سے بلاتوقف کرفیو کا نفاذ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ مقبوضہ وادی میں مقامی آبادی بالعموم اور نوجوان نسل بالخصوص بھارتی فوج کے غاصبانہ قبضے اور اسے وسیع اختیارات دینے والے قانون افسپا اور پبلک سیفٹی ایکٹ کے خلاف احتجاجی تحریک کے پرچم کو اپنے لہو سے گلنار بنا رہے ہیں۔

2014ء کے بھارتی عام انتخابات کے بعد عالمی برادری یہ توقع کر رہی تھی کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کی حلیف جماعتوں کی حکومت کے کلیدی وزرا پاکستان بارے بات چیت کرتے ہوئے اپنے لب و لہجہ کو مہذب بنانے کی کوشش کریں گے ۔ 4سال گزرنے کے باوجود بھارتی جنگی جنونی حکمرانوں کے اشتعال انگیز بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام بیزاری اور پاکستان دشمنی بھارتی حکام کے خمیر و ضمیر میں رچی بسی ہے۔بھارتی سیاستدان اور حکمران 2014ء سے 2019ء تک اسلام اور پاکستان کے حوالے سے جس جارحانہ اور منفی لب ولہجہ میں گفتگو کرتے ہیں، اس سے یہ مترشح ہوتا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنماؤں اور حکمرانوں کے لاشعور اور تحت الشعور میں آج بھی اٹل بہاری باجپائی، ایل کے ایڈوانی اور بال ٹھاکرے کے افکار و خیالات کی گہری چھاپ موجود و موجزن ہے۔محسوس ہوتا ہے کہ بھارت میں صرف چہرے بدلے ہیں، نظام نہیں بدلا۔ محض چہروں کی تبدیلی سے پاک بھارت تعلقات میں بہتری نہیں آ سکتی ۔2004 ء اور 2014ء میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے منشور میں واشگاف الفاظ میں متعصب ہندو رائے دہندگان کو یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت اکھنڈ بھارت کی بحالی اور قیام کیلئے مقامی و بین الاقوامی سطح پرہمہ جہتی مساعی بروئے کار لانے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرے گی ،نیز یہ کہ ’ خطے میں رام راج کا غلبہ ہمارا خواب ہے ‘۔ اس سے قبل انتخابات میں بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کی کامیابی میں پاکستان دشمنی کارڈ نے کلیدی کردار ادا کیا۔ بھارت دنیا کاوہ واحد ملک ہے، جہاں تقریباً گزشتہ اڑھائی عشروں سے پاور پالیٹکس کوانتہا پسند ہندو سیاست اور قیادت نے یرغمال بنارکھاہے۔ گزشتہ دنوں بھارتی وزیراعظم نے ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کو واشگاف الفاظ میں دھمکی دی ہے کہ اب ہم حساب لیں گے اور پورا حساب لیں گے۔ مودی بھول گئے کہ دہلی سرکار کو مقبوضہ وادی میں 1988ء سے روا رکھے جانے والے ایک ایک ظلم کا حساب اور ایک لاکھ سے زائد حریت پسند کشمیری شہیداء کے ایک ایک خون کی بوند کا بھی حساب دینا ہو گا۔ جلدبھارت کی ستائیس ریاستوں میں جاری بھارتی وفاق سے علیحدگی اور آزادی کی تحریکیں کامیابی کی منزل تک رسائی حاصل کرنے والی ہیں۔


ای پیپر