وزیر اعظم عمران خان کے ایک فیصلہ نے بھارت کے دوٹکڑے کر دئیے
کیپشن:   Image Source : IK Facebook
01 مارچ 2019 (16:56) 2019-03-01

نئی دہلی :وزیراعظم پاکستان عمران خان نے گذشتہ روز پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاک فوج کی زیر حراستبھارتی پائلٹ کو رہا کرنے کا اعلان کیا تھا اور واضح کیا تھا کہ پاکستان یہ اقدام امن کے فروغ کے لیے جذبہ خیر سگالی کے تحت کر رہا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کے اس اعلان پر کئی تبصروں کا آغاز ہو گیا۔ایک طرف جہاں وزیراعظم پاکستان عمران خان کے اس اعلان کو پاکستان اور بھارت دونوں ممالک کے شہری سراہ رہے تھے وہیں کچھ بھارتی شہریوں نے پاکستان کے اس اعلان پر بھی پراپیگنڈہ شروع کر دیا تھا۔ بھارتی عوام کے رد عمل کو دیکھتےہوئے یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ وزیراعظم عمران خان کے اس فیصلے پر بھارتی عوام دو حصوں میں بٹ کر رہ گئی ہے۔ایک طرف جہاں بھارتی پائلٹ ابھینندن کی رہائی کو کچھ بھارتی عوام مودی سرکاری کی زبردست سفارتی کوششوں کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں وہیں دوسری جانب زیادہ تر بھارتی عوام نے پاکستان کے اس جذبہ خیر سگالی کے اقدام کو نہ صرف سراہا بلکہ ''شکریہ عمران خان'' کے بینرز بھی اٹھا لیے ۔جس سے صاف ظاہر ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے جنگی اور سفارتی محاذ پر کامیاب تو حاصل کی ہی لیکن اس فیصلے سے انہوں نے بھارتی عوام کے دل بھی جیت لیے ہیں۔

بھارتی عوام پاکستان کی جانب سے اس اقدام کے بعد اپنی حکومت سے بھی مذاکرات کرنے اور امن کے قیام کے لیے مثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے جبکہ بھارتی عوام نے مودی سرکار کی جارحانہ پالیسیوں کو بھی یکسر مسترد کر دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ خطے میں امن قائم رکھا جائے ۔ بھارت میں مودی سرکار کی گھنانی منصوبہ بندی اور ملک کو جنگ کی آگ میں دھکیل کر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی نیچ خواہش بھی بے نقاب ہو گئی ہے جس پر کئی بھارتی ٹویٹر صارفین نے بھی مودی سرکاری کو آڑھے ہاتھوں لیا ۔


ای پیپر