پاکستان کا او آئی سی میں شرکت سے انکار
01 مارچ 2019 (13:42) 2019-03-01

اسلام آباد : وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کم کرانے کے حوالے سے بیان پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں‘ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی جانب سے پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیشکش کو خوش امدید کہتے ہیں اور ان کو پاکستان کی دعوت دیتے ہیں‘ او آئی سی کی جانب سے بھارتی وزیر خارجہ کو او آئی سی کے اجلاس میں دعوت دینے پر او آئی سی کے وزراء خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت نہیں کروں گا ‘ روس کے وزیرخارجہ نے بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان مصالحتی کردار ادا کرنے کی پیشکش کی ہے پاکستان تیار ہے‘ بھارت کو او آئی سی کے اجلاس میں دعوت متحدہ عرب امارات نے میزبان کی حیثیت سی دی ہے اس حوالے سے رکن ممالک سے مشاورت نہیں کی گئی او آئی سی کو بھارتی وزیر خارجہ کو دعوت دینے پر پاکستان کی تشویش سے آگاہ کیا ہے۔

قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کل قائد حزب اختلاف نے او آئی سی کے اجلاس میں وزیر خارجہ کو اعزازی مہمان کے طور پر دعوت پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ آج او آئی سی کے وزراء خارجہ کی کونسل کا اجلاس ہورہا ہے بھارت او آئی سی کا ممبر اور آبزرور نہیں ہے اس کو ہماری مشاورت کے بغیر دعوت دی گئی۔ میں نے ترک وزیر خارجہ اور سیکرٹری او آئی سی سے رابطہ کیا تو وہ لاعلم تھے۔ بغیر مشاوت کے ان کو دعوت دی گئی عرب امارات نے بحیثیت میزبان ان کو دعوت دی یو اے ای شیخ محمد بن زید سے دو مرتبہ ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور درخواست کی کہ فیصلہ پر نظر ثانی کریں۔

انہوں نے کہا کہ جب ہم نے دعوت دی تو پلوامہ کا واقعہ نہیں ہوا تھا اگر واقعہ پہلے ہوتا تو دعوت نہ دیتے اب مشکل ہے دعوت نامہ منسوخ کرنا لیکن کوشش کریں گے۔ جب پلوامہ پر بھارتی جارحیت کے بعد میں نے دوبارہ رابطہ کیا اور پاکستان کے عوام کے جذبات سے آگاہ کیا اور کہا کہ نظر ثانی کریں یا اجلاس کو ملتوی کرنے کا کہا اس پر انہوں نے اپنا موقف سامنے رکھا۔ پہلا خط بیس فروری کو میں نے لکھا ابھی مشترکہ سیشن بلانے کا فیصلہ نہیں ہوا تھا۔ خطہ میں ان کو بھارتی وزیر خارجہ کو دعوت منسوخ کرنے کا کہا اور ان کو کہا کہ پاکستان اپنے اجلاس میں شرکت کے فیصلہ پر نظر ثانی کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہوگا مشترکہ اجلاس کے بعد کل رات ان کو ایک اور خط لکھا پارلیمنٹ کے جذبات اور مشترکہ قرارداد میں او آئی سی کے اجلاس میں نے شرکت کرنے کی تجویز کے بارے میں آگاہ کیا ان کو آگاہ کیا کہ اگر بھارتی وزیر خارجہ نے شرکت کی تو میں شرکت نہیں کروں گا ایوان کی رائے کو مقدم سمجھتے ہوئے فیصلہ کیا کہ کونسل آف فارن منسٹر کے اجلاس میں نہیں جاؤں گا۔ اجلاس میں ہماری 19قراردادیں تھیں جن کی اکثریت کشمیر کے حوالے سے ہیں جو ہمارے کم سطح کے افسران موجود ہوں گے اگر بھارت کو آبزرور رائٹس کی کوئی بات ہو تو پاکستان کے افسران مخالفت کریں گے ۔

ترکی کے وزیر خارجہ سے بات ہوئی ان کا موقف تھا یہ غیر مناسب اقدام ہے امریکی وزیر خارجہ پومپیو کو پاکستان کا موقف اور خطہ کا منظر نامہ پیش کیا۔ کل امریکی صدر ترمپ نے بیان دیا ہے جو اہم ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں وہ خطہ میں عدم استحکام نہیں چاہتا۔ انہوں نے کشیدگی کم کرنے کے لئے سفارت کاروں کو کہا ہے میں امریکی صدر ٹرمپ کے جذبے کی قدر کرتا ہوں اور ان کو شکریہ ادا کرتا ہوں خطہ میں امن کے لئے جو بھی کردار ادا کرے گا اس کو خراج تحسین پیش کریں گے۔

خدشہ تھا کہ بھارت انتخابات سے قبل مس ایڈونچر کرے گا اس حوالے سے روس کے وزیر خارجہ کو پہلے آگاہ کیا تھا بھارت میں اپوزیشن کی اکیس جماعتوں نے مودی کے خلاف مشترکہ بیان دیا کہ مودی بھارتی فوج کی ہلاکتوں کو انتخابات میں استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارا خدشہ اس بیان کے ساتھ ملتا ہے بھارتی سفارت کار ششی تھرور نے کہا بی جے پی کا ویژن بھارت کے باقی قائدین سے مختلف ہے ہندوستان سے مودی کے خلاف تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے اور آوازیں ابھر رہی ہیں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ دونوں ممالک تیار ہیں تو ثالثی کے لئے تیار ہیں ان کی پیشکش کو خوش آمدید کہتا ہوں اور پاکستان آنے کی دعوت دیتا ہوں کہ آکر حالات دیکھیں روس کو بھی کہتا ہوں کہ پاکستان کشیدگی کم کرنے کے لئے تیار ہے۔


ای پیپر