پاکستانی سماج اور عالمی رینکنگ
01 مارچ 2019 2019-03-01

سماج یا معاشرہ افراد کے ایک ایسے گروہ کو کہا جاتا ہے جس کی بنیادی ضروریات زندگی میں ایک دوسرے سے مشترکہ روابط موجود ہوں۔ معاشرے کی تعریف کے مطابق یہ لازم نہیں کہ ان کا تعلق ایک ہی قوم یا ایک ہی مذہب سے ہو۔اسی طرح ایک ایک حقیقی اور فلاحی معاشرہ اس وقت تشکیل پاتا ہے جب تمام افراد کو بنیادی ضروریات زندگی میسر ہوں۔کسی بھی انسانی معاشرے کو اس وقت تک اچھا معاشرہ نہیں کہا جا سکتا جب تک اس کے ہر فرد کو یکساں حقوق حاصل نہ ہوں ،یعنی ایسا سماج جس میں ہر شخص کو امن، سکون، اعتماد کی فضا، انصاف کا یقین تخفظ کا احساس ہو۔ اسی بنیاد پر یہ معاشرہ بڑی تیزی کے ساتھ ترقی کی منازل طے کرتا چلا جاتا ہے۔ لیکن اس کے برعکس ایسا معاشرہ جو ان صفات سے محروم ہو، اس کا اخلاقی اور علمی ارتقاءبھی رک جاتا ہے۔ گذشتہ دنوں بیس فروری کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں سماجی انصاف کا عالمی دن منایا گیا۔ لیکن پاکستان میں ریاستی بے حسی اور سماجی استحصال کی شکار عوام پر مبنی معاشرے میں یہ دن کوئی تبدیلی نہیں لا سکا، بلکہ ہمارے ہاں سماجی انصاف کے اس دن کا انعقاد ایک مذاق ہی محسوس ہوتا ہے۔ بین الاقوامی برادری کی طرف سے ہر سال یہ دن منانے کا مقصد انصاف کے حصول، غربت کے خاتمے اور تعلیم و روزگار کے بھرپور ویکساں مواقع فراہم کرنے کے اقدامات کو ا جاگر کرنا ہے۔ یعنی عالمی سطح پر کی گئی تشریح کے مطابق کسی بھی معاشرے میں انصاف کے حصول، غربت کے خاتمے اور تعلیم و روزگار کے بھرپور ویکساں مواقع فراہم کر کے سماجی انصاف کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ لیکن گزشتہ دس سال سے اس معاہدے کا رکن ملک ہونے کے باوجود پاکستان کا شمار اب بھی ان ممالک میں ہوتا ہے جن کے بارے میں یہ تاثر عام ہے کہ یہاں پر سماجی انصاف کی حالت انتہائی دگرگوں ہے۔ سماجی انصاف کی بنیاد بننے والے اگر ان چار عناصر انصاف کے حصول، غربت کے خاتمے، تعلیم اور روزگار کی فراہمی سے متعلق پاکستان کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو امریکی ادارے ورلڈ جسٹس پراجیکٹ کی رپورٹ کے مطابق قانون کی حکمرانی والے ممالک کی رینکنگ میں شامل 113 ممالک میں پاکستان کا 105 واں نمبر ہے جبکہ ڈنمارک پہلے، ناروے دوسرے اور فن لینڈ تیسرے نمبر ہے۔ اس رپورٹ میں قانون کی حکمرانی کا تعین 8 نکات پر کیا گیا ہے ہے جن میں حکومتی اختیارات، کرپشن کی عدم موجودگی، شفاف حکمرانی، بنیادی حقوق، احتساب، عوام کے جان و مال کا تحفظ، دیوانی اور فوجداری انصاف کے پیمانے شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کرپشن کی عدم موجودگی کے حوالے سے پاکستان کا 99 واں نمبر ہے، اوپن گورنمنٹ، حکومتی شفافیت میں پاکستان 80ویں، بنیادی حقوق میں 100واں جبکہ عوام کے جان و مال کے تحفظ میں پاکستان سب سے آخر 113 ویں نمبر پر ہونے کے باعث ایشیائی ممالک میں لوٹ، مار، قتل و غارت، چوری، چکاری کے لحاظ سے غیر محفوظ ترین ایشیائی ملک بن گیا ہے۔ ریگولیٹری احتساب میں پاکستان کا 105 واں نمبر ہے۔ دیوانی مقدمات میں انصاف پر پاکستان 107 اور فوجداری مقدمات میں 81 ویں نمبر پر ہے۔ اسی طرح اگر پاکستان میں غربت کی شرح کا جائزہ لیا جائے تو عالمی بینک کے مطابق ہر وہ شخص جس کی روزانہ آمدنی دو ڈالر یا ڈھائی سو روپے سے کم ہے اس کا شمار خط غربت سے نیچے ہوتا ہے لیکن پاکستان میں سو روپے روزانہ سے کم کمانے والے کو غریب تصور کیا جاتا ہے جو عالمی پیمانے کے معیار پر بھی پورا نہیں اترتا۔ یوں سمجھ لیں کہ دنیا 250 روپے سے کم کمانے والے کو غریب کہتی ہے اور پاکستان میں 100 روپے سے کم کمانے والا غریب تصور ہوتا ہے۔ 250 روپے روزانہ آمدنی کے بین الاقوامی معیار کے مطابق پاکستان کی 70 فیصد آبادی غریب تصور ہوتی ہے لیکن 100 روپے روزانہ کے پاکستانی معیار کے مطابق سرکاری کھاتوں میں پاکستان کی 24 فیصد آبادی غریب ہے۔ پلاننگ کمیشن کے تازہ سروے کے مطابق پاکستان میں 7 کروڑ 77 لاکھ افراد اب بھی خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ پنجاب میں غربت کی شرح 31.4 فیصد، سندھ میں 43 فیصد خیبر پختون خواہ میں 49 فیصد اوربلوچستان میں غربت کی شرح 71 فیصد ہے۔ ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس کی رپورٹ کے مطابق ملک میں غربت کی سب سے بڑی وجہ تعلیم کی محرومی ہے۔ اب اگر تعلیمی میدان کو دیکھا جائے تو 2019 میں 80 ممالک کے درمیان ہونے والی عالمی رینکنگ میں دنیا بھر میں بہترین تعلیم دینے والا ملک برطانیہ ہے جہاں کی کل آبادی 66 ملین ہے لیکن وہ جی ڈی پی کا 2.6 ٹریلین ڈالرز تعلیم پر خرچ کرتا ہے اور اس طرح یہ 44،292 ڈالرز ایک شہری کے لیے بنتے ہیں۔ اس فہرست میں پاکستان کا نمبر 76واں ہے، یہاں کی مجموعی آبادی 197 ملین اور جی ڈی پی کا 305 بلین تعلیم کے لئے رکھا گیا ہے جو کہ 5378 ڈالرز فی کس بنتے ہیں۔ اس فہرست میں پاکستان کے بعد آنے والے چار ملکوں میں نائجیریا، گھانا، انگولا اور عراق شامل ہیں۔ 2018 کی رینکنگ میں پاکستان آخری نمبر 80 پر تھا۔ اسی طرح اگر روزگار یا ذریعہ معاش کو دیکھا جائے تو اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونائیٹڈ نیشنل ڈویلپمنٹ پروگرام کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں صرف 39 فیصد نوجوانوں کو روزگار کے مواقع حاصل ہیں، دو فیصد مردوں اور خواتین کو روزگار کی تلاش ہے جبکہ 57 فیصد بے روزگاروں کو ملازمت کی تلاش ہی نہیں۔ پاکستان میں 77 فیصد نوجوان روزگار کی خاطر تعلیم ادھوری چھوڑ دیتے ہیں۔15 سے 29 سال کی آبادی ملک کی مجموعی لیبر فورس کا 41.6 فیصد ہے جبکہ 40 لاکھ نوجوان ہرسال جاب مارکیٹ میں داخل ہو رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان کو چاہیے کہ وہ ہرسال دس لاکھ افراد کے لئے روزگار کے مواقع فراہم کرے۔ عالمی سطح پر ہمارا معاشرہ آج جو منظر کشی کر رہا ہے وہ ہماری سابق اور موجودہ حکومتوں کی کارکردگی کا پول کھولنے کے لئے کافی ہے کہ قیام پاکستان سے اب تک اکہتر سال میں اس سماج کی بہتری کے لئے کتنے اقدامات کئے گئے۔ پاکستان تحریک انصاف نے حکومت بنانے سے قبل اور بعد میں عوام سے جو وعدے کیے ہیں وہ سماجی انصاف کے دائرے میں ہی آتے ہیں۔ ان وعدوں میں ناانصافی سے نجات، سستے اور فوری انصاف کی تقسیم، غربت سے نجات، پانچ سالوں میں فی کس آمدنی میں 50 فیصد اضافہ، بیروزگاری سے نجات، ہر سال 2 ملین نئی ملازمتیں، خانہ بدوشی سے نجات، ہر سال کچی آبادی میں بسنے والے لاکھوں لوگوں کیلئے 2 لاکھ رہائشی گھر اور اس کی مکمل ملکیت، جہالت سے نجات، 5 سالوں میں مکمل خواندگی، دولت اور آمدنی کی آزادی، خوف سے آزادی، آزادی خیال اور رائے کا مکمل اظہار، آزادی نسواں، غریب گھرانوں کی لڑکیوں کیلئے میٹرک تک مفت تعلیم دینا شامل ہے۔ لہٰذا تحریک انصاف کی حکومت اپنے ان وعدوں کو پورا کرنے کے لئے عملی اقدامات اٹھائے وگرنہ شاید وہ وقت دور نہیں کہ پاکستان کو عالمی رینکنگ سے ہی نکال دیا جائے۔


ای پیپر