Nai Baat Magazine Report
01 جون 2021 (22:58) 2021-06-01

فرخ سہیل گوئندی

سینیٹر سیدمشاہد حسین پاکستان کی سیاست کے ان چند افراد میں سرفہرست ہیں جو علاقائی اور عالمی سیاست پر گہری نظر اور گرفت رکھتے ہیں۔ ان سے جب بھی کسی موضوع پر بات ہو تو وہ اس موضوع کے حوالے سے معلومات سے آگاہی پر چونکا دیتے ہیں۔ جب وہ ابھی عملی سیاست میں داخل نہ ہوئے تھے تب بھی ان کے ساتھ محفل کرنے کا لطف آتا تھا، ان کا مطالعہ کبھی جامد نہیں ہوا یعنی وہ ہر وقت عالمی سیاست کے موضوعات پر Update رہتے ہیں۔ 1993ء میں ابھی وہ عملی سیاست میں نہیں آئے تھے، تب میں نے ترکی کے سابق وزیراعظم جناب بلند ایجوت کو پاکستان میں مختلف سیمیناروں میں خطاب کی دعوت دی۔ میرے لیے یہ ایک اہم مرحلہ تھا کہ ”تیسری دُنیا میں جمہوریت کے محرکات“ کے موضوع پر پہلے سیشن میں پاکستان سے کون خطاب کرے جو بلند ایجوت جیسی شخصیت کی موجودگی میں خطاب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو اور اسی طرح یہ کہ اس سیشن کی صدارت کون کرے اور مہمان خصوصی کون ہو؟ لہٰذا میں نے فیصلہ کیا کہ واحد مقرر جناب سیّدمشاہد حسین ہوں گے، صدارت بیگم نصرت بھٹو کریں گی اور مہمان خصوصی جناب حنیف رامے ہوں گے۔ یہ تقریب ہوئی اور دوسری بھی تقریبات کا سلسلہ منعقد ہوا۔ سیّدمشاہد حسین نے ایک عالمی مدبر کی طرح ان تقریبات کو جاندار بنا دیا۔ اس کے چند ماہ بعد جناب مشاہد حسین عملی سیاست میں آئے تو میرے ساتھ ان کا مسلسل رابطہ رہتا تھا۔ وہ میاں نواز شریف کے اس سیاسی مرحلے میں ساتھی بنے جس میں نوازشریف ریاستی اداروں کی بجائے اپنے بل پر کھڑے ہونے کی جانب گامزن ہوئے۔ انہوں نے عملی سیاست میں جس شفافیت کا مظاہرہ کیا یقینا یہ اس تربیت کا نتیجہ تھا جو انہوں نے اپنے والدین سے حاصل کی۔ ان کی والدہ سے محبت اور والد کے ساتھ وابستگی ان کی شخصیت میں نمایاں ہیں۔

12اکتوبر 1999ء کے بعد ان کی آزادی سلب کرلی گئی۔ اس کے چند ماہ بعد میں انقرہ میں وزیراعظم ترکی کے دفتر میں بیٹھا تھا۔ وزیراعظم بلند ایجوت پاکستان میں فوجی مداخلت پر سخت پریشان تھے۔ یہ ایک طویل محفل تھی، بلند ایجوت نے مجھ سے پابند سلاسل جناب میاں نواز شریف کے مقدمے کے بارے میں بھی پوچھا اور تشویش کا اظہار کیا کہ کہیں حزب اقتدار لوگ نوازشریف کے ساتھ ذوالفقار علی بھٹو جیسا سلوک تو نہیں کریں گے؟ اسی گفتگو کے دوران میں نے وزیراعظم ترکی کو جب یہ بتایا کہ ہمارے دوست جناب مشاہد حسین پابند سلاسل ہیں تو وہ چونک گئے۔ انہوں نے کہا کہ بحیثیت وزیراعظم ترکی میں ان کی اس مشکل وقت میں کیا مدد کرسکتا ہوں؟ اس دوران انہوں نے مجھ سے یہ سوال بھی کیا کہ کیا وہ ایک ایماندار سیاستدان ہیں؟ جب میں نے ان کے سوال پر جواب دیا کہ وہ ایک انتہائی ایماندار سیاستدان ہیں اور یہ کہ ایمانداری اور شفافیت ان کے خون میں رچی بسی ہے تو وزیراعظم بلند ایجوت نے اسی وقت اپنے پرسنل سیکرٹری جناب زینل کو بلوایا اور ان سے کہا کہ ان کے خصوصی مشیرخارجہ (جو کہ ایک پروفیسر تھے) کو بلایا جائے اور ان کا رابطہ جنرل مشرف سے کروایا جائے اور انہوں نے مجھے یہ کہا کہ ”آپ میرا بحیثیت وزیراعظم ترکی پیغام لے کر ان کے اہل خانہ سے ملاقات کریں اور کہیں کہ بلند ایجوت اس مشکل گھڑی میں مشاہد حسین اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں“۔

میں پھر اس سلسلے میں مشاہد حسین سید کے والد محترم جناب کرنل امجد صاحب کے ہاں گیا جہاں مشاہد صاحب کے بھائی مواحد حسین بھی موجود تھے اور یوں ایک ایماندار حکمران جناب بلند ایجوت اور دوسرے ایماندار پابند سلاسل مشاہد حسین سید کے درمیان رابطہ قائم کیا گیا۔

چندسال قبل انہوں نے مجھے اور میری شریک حیات ریما گوئندی کو لاہور میں ایشین پارلیمنٹیرین اسمبلی کے افتتاحی ڈنر میں دعوت دی تو مجھے اس تقریب اور تنظیم کی افادیت کا بالکل علم نہیں تھا۔ یہ راز تو وہاں جا کر کھلا کہ مشاہد حسین سید نے اس تقریب کا انعقاد پاکستان اور وہ بھی لاہور میں کر کے پاکستان کی موجودہ عالمی Isolation میں جو کارنامہ کیا ہے اس کی مثال پچھلی ایک دہائی میں نہیں ملتی۔ ایک ایسا ملک جہاں دنیا کی کوئی کرکٹ نہ ہاکی ٹیم آنے کے لیے تیار ہے، انہوں نے یہاں ایشیا کے 41 ممالک کے چوٹی کے پارلیمنٹیرینز کو لاہور جیسے تاریخی شہر میں اکٹھا کر کے ایک عظیم قومی خدمت سرانجام دی ہے۔ وہ ایک متحرک شخصیت کے حامل ہیں۔ تقریب میں ایک میزبان کی حیثیت سے جو آداب انہیں نبھانے آتے ہیں، شاید ہی ہمارے کسی اور سیاست دان میں ہوں۔ اپنے عالمی، ملکی اور دیگر مہمانوں سے باری باری گرم جوشی سے ملاقات اور ایک دوسرے کو متعارف کروا کر انہوں نے محفل کو زندہ کردیا اور ان جاگیردارانہ انداز کو مسترد کردیا جو ہمارے ہاں اعلیٰ شخصیات کے مزاج کا حصہ ہیں۔ ان کے کوٹ پر ایک بیج لگا ہوا تھا جس کو قریب سے دیکھنے کے لیے میں بے تاب تھا۔ دیکھا تو وہ یاسر عرفات کی تصویر تھی۔ 

ایشیا بھر سے آئے پارلیمنٹیرین کے اس اجلاس کی افتتاحی تقریر مختصر اور کتنی جامع تھی، یہ ملکہ صرف اور صرف مشاہد حسین کو آتا ہے اور یہ بھی کہ بیرونی مہمانوں کے سامنے کیا کہنا ہے۔ ہمارے اکثر سیاستدان غیرملکی مہمانوں کے آگے جس قدر غلامانہ انداز میں گفتگو کرتے، وہ بھی میں نے دنیا میں کہیں نہیں سنی مگر مشاہد حسین نے اس تاریخی تقریب میں خطاب کر کے پاکستان کا مقدمہ ایشیا کے منتخب رہنماؤں کے سامنے جس قوم پرستانہ انداز میں پیش کیا، اس پر راقم ان کو دل وجان سے داد دیے بغیر نہ رہ سکا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں ایشیائی پارلیمنٹیرین اسمبلی کا پس منظر بناتے ہوئے اُبھرتے ہوئے ایشیاکو فوکس کیا کہ دنیا کے عالمی، سیاسی اور معاشی نظام میں ایک نیا توازن جنم لے رہا ہے۔ روس، چین، جاپان سے لے کر ایک نیا ایشیا جنم لے رہا ہے۔ اکیسویں صدی ایشیا کی صدی کے طور پر اُبھر رہی ہے اور آج بھارت، وسطی ایشیائی ممالک، ملائیشیا اور پاکستان سمیت 41 سے زائد ایشیائی ممالک کے منتخب رہنما پاکستان کے تاریخی شہر لاہور میں اکٹھے ہوئے ہیں جہاں فروری 1974ء میں دوسری اسلامی کانفرنس منعقد ہوئی جس کا انعقاد سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو اور شاہ فیصل کے سر ہے۔ اس اسلامی کانفرنس میں پی ایل او کو یاسر عرفات کی قیادت میں پہلی مرتبہ سرکاری سطح پر تسلیم کر کے ایک فلسطینی ریاست کو عملی طور پر منظور کیا گیا۔ اسی شہر میں 1940ء میں جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کے لیے محمد علی جناح کی قیادت میں آزاد وطن کا مطالبہ کیا گیا بلکہ اس اجلاس میں ایک آزاد فلسطین کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

لاہور اپنے اندر ادبی، فکری اور سیاسی تحریک رکھنے کے حوالے سے دنیا بھر میں اپنی ایک شناخت رکھتا ہے اور آج یہاں پر آئے ایشیائی رہنما ایک نئے سفر کا آغاز کرنے جارہے ہیں۔ مشاہد حسین نے جس طرح چائنا انسٹی ٹیوٹ کا قیام کر کے پاک چائنا تعلقات میں بنیادیں مزید مضبوط کرنے کا بیڑا اُٹھایا اور اب ایشیا بھر سے منتخب رہنماؤں کو اکٹھا کر کے پاکستان کے بارے دنیا میں پھیلے خوف کے سکوت کو توڑا ہے، اس سے ان کے وژنری مدبر ہونے کی عکاسی ہوتی ہے۔ اس کانفرنس نے ایشیائی ممالک کے رہنماؤں کے سامنے ایشیا کا مقدمہ نہیں بلکہ پاکستان کا مقدمہ ایشیا کے سامنے پیش کیا ہے۔ ایک پُرامن اور جمہوری پاکستان کا مقدمہ، جو دنیا میں، تعلیم، ترقی، خوشحالی، امن، عوامی جمہوری مزاج پر اُبھرنے کا خواہاں ہے۔ ایک پاکستان جس کا وژن سید مشاہد حسین جیسے سٹیٹسمین ہی رکھ سکتے ہیں جو پاکستان کو اقبال کی فکر اور جناح کے نظریات کے عین مطابق ترقی یافتہ اور خوشحال پاکستان بنانے میں کوشاں ہیں۔


ای پیپر