Nai Baat Magazine Report
01 جون 2021 (22:48) 2021-06-01

اسد شہزاد:

پہلے والی زندگی نہیں رہی

پہلے والی رونقیں نہیں رہیں 

پہلے والی خوشیاں نہ رہیں 

پہلے والی فضا نہیں رہی

پہلے والی نہ شام نہ صبح رہی

پہلے والی محبتیں نہ رہیں 

پہلے والی شرارتیں نہ رہیں 

پہلے والی باراتیں نہ رہیں 

پہلے والی رسمیں نہ رہیں 

پہلے والی دُلہن کی رُخصتی نہ رہی

پہلے والی لڑائیاں جھگڑے نہ رہے

پہلے والی پُررونق سڑکیں نہ رہیں 

پہلے والے ہجوم نہ رہے

پہلے والے کھیل نہ رہے

پہلے والے سٹیڈیم نہ رہے

پہلے والی سکول اور کالج کی تعلیمی سرگرمیاں نہ رہیں 

نہ قہقہے رہے نہ مسکراہٹیں رہیں 

نہ دل رہے نہ باتیں رہیں 

پہلے والی شناخت نہ رہی

خدا تعالیٰ نے چہروں کو ڈھانپ دیا

جو چہرے بے نقاب تھے

ان چہروں پر ماسک پہنا دیے

نہ صبح کے منتظر رہے نہ شام کی ڈوبتی سورج کی کرنیں رہیں 

نہ اچھی شاعری رہی نہ کتاب رہی

نہ پڑھنے والے رہے نہ پڑھانے والے پڑھا رہے ہیں 

نہ گیت رہے نہ سُر رہے

نہ وہ نمازیں رہیں 

نہ وہ عبادتیں رہیں 

نہ وہ دل رہے نہ دل کی باتیں 

نہ فسانے رہے نہ پھول دینے والے رہے

نہ پھول دینے کے انداز رہے

نہ عید رہی نہ عید کارڈ رہے

نہ عید کے ہاتھ سے لکھے پیغامات رہے

نہ چاند دیکھا گیا نہ چاند کی دھار رہی

نہ عیدیں دینے والے ہاتھ رہے

ایک عجیب سا میلہ ہے

میلے میں وہ میلے والی باتیں نہ رہیں 

میلے میں میلوں کی روایات نہ رہیں 

نہ جُھولے جھلانے والے رہے نہ جُھولے جُھولنے والے

نہ کھلے بازار رہے نہ بازار کی رونقیں 

نہ بھرے بازار رہے نہ بازار کا شور شرابا رہا

نہ گاہک رہے نہ دکانداری رہی

نہ چمن رہے نہ چمن کی فضائیں 

بکھری بکھری خوشیاں 

بکھری بکھری محبتیں 

بکھرے بکھرے لوگ

بکھرے بکھرے ماحول

بکھرے بکھرے چہرے

بکھرے بکھرے بال

چہروں پر اُداسیاں 

دلوں پر سردمہری

زندگی اے زندگی

کچھ تو بتا……!!

٭……٭……٭


ای پیپر