Nai Baat Magazine Report
01 جون 2021 (22:44) 2021-06-01

اسد شہزاد

پاکستانی سیاست کے رنگ بھی بڑے نرالے، بڑے انوکھے اور پھیکے رنگوں میں دکھائی دیتے ہیں 1948ء سے لے کر عمران حکومت تک کہیں بھی ٹھہراؤ، لیڈرشپ کا بہترین کردار اور سب سے بڑھ کر عوام کو جس رہنمائی اور رہنما کی ضرورت تھی وہ کبھی بھی پوری نہ ہو پائی۔ ادوار کے حوالوں میں اُتریں تو بڑی بھیانک تصویر نظر آتی ہے۔ آج تک کسی سیاسی جماعت اور رہنما کے بارے میں کوئی ایک مثال کہ اس نے بہترین راستے استوار کیے ہوں یا اس نے عوام کو ترقی وخوشحالی میں ڈھالا ہو البتہ کچھ ادوار میں بہتر کام ہوئے مگر ان میں بھی پارٹی مفادات سے لیڈرشپ تک کو الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔ اگر میں شہاب الدین کی کتاب ”شہاب نامہ“ کو دیکھتا ہوں تو پھر ہماری سیاست کی زمین میں قائداعظمؒ کی وفات سے پہلے ہی سازشی بیچ نے سازشی پودے اُگانا شروع کر دیے تھے۔ ایوب خان کے دور میں اقتدار کی جنگ سے مارشل لاء تک کی کہانی پاکستانی جمہوریت کے ابتدائی سالوں کی تباہ کن کہانی ہے جس کا آغاز بھی حصول اقتدار رہا اور پھر یہ سلسلہ رُکا نہیں، ایک طویل کہانی اس کہانی کے سیاسی کردار ہماری جمہوریت پر آج بھی سیاہ دھبہ ہیں۔ دیکھا جائے تو ہماری سیاست کو گندہ کرنے میں جہاں سیاسی جماعتوں کا نہایت بڑا کردار رہا وہاں بھٹو کی سیاست نے بھی ایسی گھٹیا سیاست کی بنیاد رکھی کہ ہم جمہوریت کی اصل روح سے مکمل طور پر دور کر دیے گئے۔

گزشتہ دو دہائیوں کی سیاست کا ذکر کریں تو پھر نہایت افسوس کے ساتھ بھی کہنا پڑتا ہے کہ یہ وہ تن ہے جس کو کبھی نہانے کو پانی ملا اور نہ پہننے کو کپڑے، نہ بولنے کو زبان دی گئی نہ کبھی خوشیاں، نہ خوشحالی، نہ ترقی کی راہیں دکھائی گئیں یہ کیسی سیاست ہے جو بیچ چوراہے 73سالوں سے لُٹ رہی ہے اور لُوٹنے اور برباد کرنے والے بھی تواپنے ہی تھے۔ اور تو اور غیروں نے بھی تو اپنا بن کر بے دردی سے لوٹا، کمزور ملک، کمزور لیڈرشپ، کمزور عوام، کمزور بنیادیں کمزور حکومتیں، جی سرکار کرتے کرتے نسلوں کو غلامی میں اُتار گئیں۔ آج ہر طرف ایک عجیب طوفان بدتمیزی برپا ہے ایک ہجوم ہے کہ وہ جدھر برائی دیکھتا ہے ادھر ہی چل دوڑتا ہے۔ 1947ء کو قائداعظمؒ نے آزاد پاکستان دیا یعنی ہمیں ایک نوزائیدہ پاکستان ملا پھر کیا ہوا 1965ء اور 1971ء کی جنگ۔ 1971ء کی جنگ میں ٹوٹا پاکستان، 1993ء میں دہشتگردی، پھر 1993ء میں لوڈشیڈنگ زدہ پاکستان، پھر ایک ایسا پاکستان ملا جس کے معاشی حب کراچی کو لندن میں بیٹھے ایک پاگل شخص نے یرغمال بنا رکھا تھا۔

کیا پاکستان کو کوئی نامعلوم آدم خور مخلوق وراثت میں ملی کہ وہ قائداعظمؒ کو کھا گئی، لیاقت علی خان، فاطمہ جناح کھا گئی، بھٹو کھا گئی، ضیاء الحق سمیت اعلیٰ فوجی قیادت ایک نوالہ میں کھا گئی، شاہ نواز اور مرتضیٰ بھٹو کو کھا گئی، حکیم محمد سعید کو کھا گئی، انیس امروہی اور بگٹی کو کھا گئی، بینظیر بھٹو کو کھا گئی، ہزاروں انسانوں، معصوم بچوں عورتوں کو دہشت گردی کے ایک بم میں کھا گئی، آصف جنجوعہ سمیت کئی اعلیٰ افسران کو کھا گئی، ہزاروں فوجی نوجوانوں کو نامعلوم مقصد حاصل کرنے، شہادت کے غلاف میں لپیٹ کر کھا گئی، ہزاروں مسنگ پرسن اور مسخ شدہ لاشوں کو کھا گئی، ڈھاکہ کھا گئی، سیاچن کھا گئی، کارگل کھا گئی، بکسے کھا گئی پولنگ عملہ کھا گئی، جمہوریت کھا گئی، آئی ایم ایف کھا گئی اور اب سی پیک کھا گئی۔

یہ سیاسی کیمسٹری ہے جو آج تک کسی کی سمجھ میں نہیں آسکی۔ ہمیں یہ کیوں بتانا پڑتا ہے کہ ہم عاشق رسولؐ ہیں، ہمارا کردار کیوں گواہی نہیں دیتا کہ ہم عاشق رسولؐ ہیں۔ ہماری زندگیاں انہی کے نام اور کردار سے وابستہ ہیں، عوام کو کیوں ہر حکمران آتے ہی یہ باور کراتا ہے کہ جانے والی قیادتیں غیرملکی ایجنٹ اور دین سے دور تھیں، کیوں غلط پیغامات دے کر عوام کو سیاست، سیاستدانوں اور حکمرانوں سے متنفر کیا جاتا ہے۔

ہمارے پاس کوئی گائیڈمین نہیں کوئی رول ماڈل نہیں، ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم بڑے ناموں کے بعد کوئی بڑے نام کوئی بڑی قدآور شخصیت کوئی  بڑا لیڈر پیدا نہ کرسکے، نہ ہم نرسریاں بناسکے نہ ہم اکیڈمیاں بنا سکے نہ تربیت گاہیں، نہ ہنرمند پیدا کرنے کی فیکٹریاں قائم کرسکے۔

73سال آزادی کو گزر گئے ہم ابھی تک آزادی سے متعارف نہ ہوسکے، آزادی کے بعد بھی محکوم قوموں کے رویے نہ چھوڑ سکے، نہ ادب میں نہ شاعری میں نہ ناول میں نہ کردار میں کسی پر کام کرسکے۔ کبھی کبھی یوں لگتا ہے کہ ہم منگتی قوموں میں شمار ہونے لگے ہیں، ہم ہر بھکاری کی طرف کچھ نہ کچھ مانگ رہے ہوتے ہیں اور اس عادت نے نسلوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ آس پاس سے مانگتے نظر آتے ہیں، خود کچھ نہ کرسکتے ہیں اور جو کرتے ہیں ان کو کرنے نہیں دیتے۔

وہ خواب تھے مرے ذہن کے

نہ میں کہہ سکا نہ میں لکھ سکا

کہ زباں ملی تو کٹی ہوئی

کہ قلم ملا تو بکا ہوا

دل کرتا ہے کہ مرنے سے پہلے وہ سب کچھ لکھ دوں جو میرے پاکستان کے ساتھ بدقسمتیاں جڑی ہوئی ہیں، ہر طرف بکھری سازشیں، ہر طرف الزامات، گندی گالیاں، بدتمیزیاں، اسمبلیوں میں جھگڑے ایک دوسرے کے گریبانوں تک ہاتھوں کا پہنچ جانا، عوامی اجتماعات میں لیڈرشپ کو جُوتے مارنا، جلسوں میں گالیاں اور گندی زبان کا استعمال …… یہ کیسی زندگی ہے؟ جو ہم پاکستان میں جی رہے ہیں جس میں کوئی ٹھہراؤ نہیں، کوئی رابطہ نہیں جس کی کوئی تصویر نہیں جس کا کوئی گھر نہیں، جس کو قبر بھی ہماری قیمت ادا کر کے لینی پڑتی ہے کہ اب مرنے کی فکر یہ ہے کہ قبر کے اخراجات کون دے گا، موت کو تو ایک دن آنا ہے مگر قبر پر لگے ٹیکس کون ادا کرے گا، یہ بھی ایک فکر ہے جو پاکستان کے غریب انسان کو اندر ہی اندر کھائے جارہی ہے۔ آج مجھے شمس الرحمن بہت یاد آرہے ہیں، انہوں نے سابقہ حکومتوں کے بارے میں لکھا کہ……

ہمارے دور میں 

غریبوں کے

سروں سے چھتیں چھین لی گئیں 

بلوائیوں کو اجازت ملی سب کچھ لوٹنے کی

اور غریبوں کے محلے اُجاڑتے گئے

پتھر کہیں سے آئے

صرف نام اورالزام پر فیصلے ہونے لگے

سچ تو یہ ہے کہ

تمہاری زبان پر عدل کا لفظ اچھا نہیں لگتا

ظلم کو پہنا دیا ہے تم نے قانون کا غلاف

ان تمام سوچوں اور رویوں کے باوجود ایک پاکستانی ہوں گو آزاد نہیں، محکوم ہوں، میری زبان بند ہے، میرا قلم خاموش ہے۔ جو لکھنا چاہتا ہوں نہیں لکھ سکتا، جو تصویر دکھانا چاہتا ہوں دکھا نہیں سکتا، لفظ بڑھا نہیں سکتا صرف چونکتا ہوں …… سِسک سِسک کے زندگی کو دھکیل رہا ہوں کہ میں اِک پاکستانی ہوں ……


ای پیپر