وہ دن پھر لوٹ کر آئیں گے!
01 جون 2020 (23:18) 2020-06-01

زندگی سہم گئی ہے محبوس ہوکر رہ گئی ہے!

ہر قدم پھونک پھونک کر اٹھایا جاتا ہے کہ کہیں کوئی ’’خوف‘‘ گھات لگائے نہ بیٹھا ہو۔مگرایسا جینا کب تک؟

ہمیں اس افسردہ و آزردہ فضا سے نجات کب ملے گی کچھ معلوم نہیں؟

اتنا مگر ضرور ہے کہ ملے گی سہی کیونکہ کہا جا رہاہے کہ ایسا سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہواہے لہٰذا وہ منصوبہ ناکام ہوگا!

اب حالت یہ ہے کہ لوگ ایک طرح سے مقید ہیں وہ پہلے کی طرح زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں مگر انہیں ایسا نہیں کرنے دیا جا رہا کیوں ؟کیونکہ کہاجارہاہے ان کی زندگیوں کو خطرہ ہے جی بالکل خطرہ ہے مگر اتنا نہیں جتنا بتایا جا رہا ہے اگر وہ چند اصولوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہیں تو پھر سب ٹھیک ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ انہیں روشنیوں میں آنے دیا جائے سورج کو دیکھنے دیاجائیـ!

یہ طے ہے کہ جو پیدا ہوا ہے اس نے ایک روز مرنا ہے مگر غیر طبعی موت کا دکھ اور افسوس شدید ہوتا ہے لہٰذا پابندی پر پابندی عائد کی جارہی ہے مگر زندگی کی سانسوں کو بحال کرنے کا سامان بھی تو چاہیے اس کے لیے کچھ راستے کھلے رکھے گئے ہیں جہاں لوگ محنت مشقت کے بعد چند نوالے روٹی کے حاصل کرتے ہیںکہا جاتا ہے کہ بازاروں میں شاہرائوں میں لوگ جس طرح پھرتے ہیں کہیں کوئی المیہ جنم نہ لے لے مگردوسری جانب یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ قوت مدافعت انہیں محفوظ بھی رکھ سکتی ہے ایسا ہو بھی رہا ہے بہت سے لوگ جو متاثر ہورہے ہیں صحت یاب بھی ہو رہے ہیں…خوف مگر بعض کی زندگیاں نگل رہا ہے اور ہمارے حکمران معذرت کے ساتھ اس پہلو کی جانب توجہ نہیں دے رہے وہ گھروں کے اندر رہنے کی ہدایات جاری کر رہے ہیں جبکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سبھی کو متاثرہونا ہی ہے عرض تو اتنی کہ ان

بے بسوں کو ان غریبوں کو ان محکوموں اور غمگینوں کوسرکاری سطح پر حوصلہ دینے کا اہتمام کیاجائے پھر نظر آئے گا قوت مدافعت عود آئی ہے وہ تازہ دم ہوگئے ہیں اندیشوں اور وسوسوں کی فصیل سے باہر آگئے ہیں ۔ایک گزارش یہ بھی ہے کہ سیر گاہوں کو کھول دیاجائے ایک طریقہ کار وضع کرلیا جائے چلئے سارا دن نہ سہی صبح و شام ہی سہی چند گھنٹوں کے لیے ہی کھلا رکھا جائے تاکہ خالص آکسیجن پھیپھڑوں میں لیجا سکے مگر نہیں یہ کا م نہیں کیا جارہا سب کچھ کھول دیا گیا ہے مگر کھلے نہیں تو پارک!

اب تو کھلی فضا جہاں کچھ لوگ بیٹھ رہے ہوں انہیں بھی اٹھا دیا جاتا ہے نہر کنارے بھی کسی کو بیٹھنے نہیں دیا جارہا ۔

ادھر صحت کے اداروں کا حال پہلے ٹھیک تھا نہ اب ہے پہلے بھی غریب کراہ رہا تھا آج بھی زندگی کی بازی ہار رہا ہے۔ مہنگی دوائیں اور غذائیں اس کے بس میں نہیں وہ جائے تو کہاں جائے!

گھٹ گھٹ کر مرنے والی بات ہے؟

تصور میں بھی نہیں تھا کہ ایسے دن آئیں گے۔ خاک نشینوں نے تو سہانے خواب دیکھے تھے وہ چاند کی چاندنی میں مل کر بیٹھنا چاہتے تھے۔ نوجوانوں نے اپنے جیون کو حسین اور توانا بنانے کا سوچ رکھا تھا مگر یہ کیا ہوگیا آناًفاناًسب بدل گیا۔ ہم ایک دوسرے سے بچھڑ گئے۔ ملنے کو غیر اہم سمجھنے لگے۔ سب کچھ نئی ٹیکنالوجی سمیٹ کر لے گئی۔ بھلا انسان ایسے کیسے زندہ رہ سکتے ہیں اور اگر یہ سلسلہ آ گے بڑھتا ہے تو پھر دنیا واقعتا پاگل کہلائے گی کوئی کسی کا نہ ہو گا کوئی کسی کو نہیں جانے گا۔ ہاں تو پھر خوف کہاں کھڑا ہو گا۔ ذرا سوچیئے

اب کہ ہم بچھڑے تو کون کسے پہچانے گا

وقت کی اڑتی دھول ہمارے چہروں پر جم جائے گی

احتیاط برتی جائے مگر اس حد تک نہیں کہ انسان کا اندرونی نظام ڈگمگا جائے وہ ذہنی مریض بن جائے لہٰذا ضروری ہے کہ حکومت ان باتوں کو با ضابطہ طور سے عام کرے اور لوگوں کی ڈھارس بندھائے ویسے اب تک ایسا بندوبست نہ ہونے کے باوجود بھی عوام تھوڑے بے خوف بھی ہو گئے ہیں انہیں اپنی زندگی سے محبت بھی ہے مگر ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر بھی اختیار کریں گے اور سفر حیات بھی جاری رکھیں گے۔

یہ دیکھ کر اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ بہت جلد ہر طرف سے قہقہوں کا بلند ہونا شروع ہو سکتا ہے کیونکہ تحقیق کا عمل بہت آ گے جا چکا ہے جو اس اداسی اور چہروں پر چھائی پژمردگی کو ختم کر دے گا اور ایک کیفیت کبھی برقرار نہیں رہ سکتی کے مصداق وہ دن ضرور لوٹیں گے جن میں بانسریا کی صدا دور دور تک سنی جاتی تھی!


ای پیپر