بانسری کا دوسرا سرا
01 جون 2020 (23:16) 2020-06-01

مولانا جلال الدین رومیؒ کے دوسرے بیٹے علاؤ الدین جو حضرت شاہ شمس تبریزی ؒ سے بغض رکھتے، اس حد تک کہ 649ہجری میں حضرت شمس تبریزیؒ کو قتل ہی کر ڈالا جس کے بعد حضرت مولانا رومیؒ ان کی محبت میں فنائیت کی حد تک غرق ہو گئے کہ ہر چیز سے لاتعلق ہو گئے بالآخر اُن کی اس محویت کو حسام الدین ضیاء الحق چلپیؒ نے اپنی بے پناہ محبت کے ذریعے توڑا یہ حسام الدینؒ ہی تھے جنہوں نے مولانا رومیؒ سے مثنوی جیسا شہرہ آفاق نسخہ کتاب کی صورت لکھوایا۔ مثنوی میں حسام الدین کا بہت ذکر ہے۔ مولاناؒ فرماتے ہیں کہ مثنوی پڑھنے والا انسان اگر فقر کے کمال کو نہ بھی پہنچے پھر بھی شیطان کے ہتھ کنڈوں سے ضرور محفوظ رہتا ہے قونیہ ترکی میں آرام فرما مولانا رومیؒ کے فکر و تصوف کا سفر جاری ہے اور جاری رہے گا۔ مولاناؒ کی تقلید و چشم تصور کی محفل نے ’’محمد اقبال کو حضرت ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ بنا دیا۔ مولاناؒ کے بعد علامہؒ صاحب امہ میں ایسے صاحب تصوف ہستی ہوئے جن کو پڑھ کر ایران کے ڈاکٹر علی شریعتیؒ جو انقلاب ایران کے نقیب تھے جیسے علامہؒ صاحب تصور پاکستان کے بانی ہیں، انتہائی صوفی درویش جناب ڈاکٹر جہانگیر تمہیؒ نے آگے حضرت علامہ اقبالؒ سے فیض پایا۔ مرزا امتیاز بیگ (بھولی) وزیر آباد، حاجی محمد سعید بھٹو صاحب (گوجرانوالہ)، محمد ایوب خان (مصلی) گوجرانوالہ اور مجھ احقر کے ساتھ خصوصی نشست رہی۔ میرے ان سے خاندانی مراسم رہے۔ آخری وقت میں تمیمی صاحب 1 نمبر ہاسٹل میں جس کمرہ میں مقیم تھے وہ ایک درویش کا حجرہ بن چکا تھا۔دور نہ جائیے رضا ریاض بیورو کریسی کی منازل طے کرتے ہوئے مولانا رومیؒ کی تحریروں سے گزرے تو آج ممتاز دانشور رضا رومی کے نامی سے جانے جاتے ہیں۔

مولانا ؒ فرماتے ہیں روح کا تعلق جسم سے ہے اور خدا کا مخلوقات کے ساتھ مثلاً اگر انسان کی صفت انسانیت فنا ہو جائے تو وہ صفات الٰہی کا مظہر بن جاتا ہے۔ علامہ صاحبؒ فرماتے ہیں کہ طریقت یعنی تصوف یہ ہے کہ انسان تہ قلب میں احکام شرعی کی حقانیت اور صداقت کا احساس کرے۔ یہ صوفیاء لوگوں کا موضوع انسان کی روح اور اس کا اپنی اصل کے جڑے ہونے سے ہے۔ اصل کیا ہے وہی ہے جس کا اظہار کرے۔ مولانا رومی اپنی حکایت میں فرماتے ہیں بانسری سے سن

کیا حکایت بیان کرتی ہے اور جدائیوں کی شکایت کرتی ہے کہ جب سے مجھے بنسلی سے کاٹا میرے نالوں سے مرد و عورت سب روتے ہیں میں ایسا سینہ چاٹتی ہوں جو جدائی سے پارہ پارہ ہوتا کہ میں عشق کے درد کی تفصیل سناؤں جو کوئی اپنی اصل سے دور ہو جاتا ہے وہ اپنے وصل کا زمانہ پھر تلاش کرتا، میں مجمع میں روئی خوش اوقات اور بد احوال لوگوں میں رہی ہر شخص اپنے احوال کے مطابق میرا یار بنا مگر میرے اندر سے میرے رازوں کی جستجو نہ کی میرا راز میرے نالوں سے دور نہیں لیکن آنکھ اور کان میں وہ نور موجود نہیں۔

بانسری زہر بھی ہے اور تریاق بھی۔ بانسری خطرناک راستے کی بات کرتی ہے یعنی مجنوں کے عشق کے قصے بیان کرتی ہے۔ بانسری کی طرح گویا ہم دو منہ رکھتے ہیں۔ ایک بجانے والے کے لبوں میں چھپا ہے (اہل تصوف کے لیے اللہ/حق ) جیسے بانسری کا ایک منہ بجانے والے کے منہ میں چھپا ہوتا ہے اور اسی طرح دوسرے منہ سے جو آواز برآمد ہوتی ہے دراصل وہ بجانے والے کی ہی ہوتی ہے۔

جسے آنکھ میسر ہے وہ جانتا ہے کہ یہ تو اہل تصوف کے لیے سمجھنے کی بات ہے اب اسی حوالے سے اگر دنیا داری میں دیکھیں تو حقیقی ریاست مدینہ کے خلفائے راشدین کی بانسری کی آواز دوسری جانب دراصل میرے آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور پروردگار کے احکامات سے لگی ہوئی تھی۔ دنیا اسی آواز کو سنتی تھی انہی احکامات پر عمل پیرا ہوتی تھی۔ راہ حق میں زندگیوں کو قربان کرنے والوں کی آواز اور پکار دراصل حقیقی پکار اور حق کی آواز تھی اور جب تک امت کے اکابرین کی بانسریوں سے حقیقی اور حق پر مبنی سر لوگوں کی سماعتوں کو چھوتے رہے تب تک دنیا میں معتبر صاحب کشف و تصوف اور قابل تقلید ٹھہرے۔ مولانا رومیؒ کو دیکھیں تو مولانا ایسالفظ سے جو آج کے کسی مولانا پر پورا نہیں اترتا مولانا کہلوانے کے لیے جو دستار ہے وہ آج کے ملاؤں کے سروں سے بہت بڑی ہے جس کا بوجھ ان کا بھرکس نکال کر رکھ دے گاکیونکہ آدمیت اور بشریت جو روح سے خالی ہو وہ فضلہ ہے یہ وہ بوجھ ہے جسے دھرتی کسی بھی وقت اپنے اندر نگل لے گی اور روح کے کردار کی صورت میں کچھ باقی نہ ہو پائے گا۔ انسان کی کمائی دراصل وہ تذکرہ ہے جو اس کے بدن کا موت کی آغوش میں چلے جانے کے بعد جاری رہتا ہے۔ بدنصیبی سے ہم اس معاشرت میں رہتے ہیں کہ ہم اپنی بات بھی نہیں کر سکتے۔ یہ معاشرت بانسری کی دھن جو حق کے منہ سے جڑی ہے اور اپنے سوراخوں سے جو نغمہ یا نالا بیان کرتی ہے وہ نہیں سننا چاہتے بلکہ اقتدار، خوشامد ، خود پسندی، خود پرستی ، شخصیت پرستی (کردار کی تقلید نہیں) علمیت پرستی، مفاد پرستی، انسان دشمنی اقتدار پرستی کے منہ سے جڑی بانسری کی دھن سننا چاہتے ہیں۔ یہی بانسری ہماری قوم کی اب تک کی پوری زندگی پر ہاوی رہی۔ میری اپنے قارئین سے گزارش ہے کہ بانسری کی جس دھن پر آپ اور میں سر دھنتے ہیں اس پر ذرا غور فرما لیجیے کہ وہ کس منہ سے جڑی ہے۔ 1977ء سے لے کر اب تک کے سیاسی، سماجی، معاشرتی، تجارتی، عدالتی ، عسکری، سائنسی اور بین الاقوامی حالات کا باہوش و حواس خمسہ گواہ ہوں۔ ہم خود پسندی کے نشے کے عادی ہو چکے۔ 1977ء سے قوم کو ایسی دلدل کے پیچھے لگا دیا جو دور سے بلکہ چند قدموں سے پیاس بجھانے والا پانی دکھائی دیتی ۔ ہر روز آج یہ ہو گا حکومت جا رہی ہے، فلاں کی حکومت آ رہی ہے، فلاں ادارے نے فلاں کو سپورٹ کر دیا ہے ، فلاں ادارہ کا فلاں بندہ نہیں مان رہا۔ فلاں فلاں کے ساتھ ہو گیا اب حکومت گئی اور اب فلاں حکومت آئی۔ اس تگ و دو میں شب و روز گزارے رہے ہیں قوم اس غدر میں مبتلا رہی اور جس کاداؤ لگا وہ مال سمیٹ کر شانت ہوا نہ جانے کتنے نوجوان روزگار سرکاری نوکری، انصاف، میرٹ، مستقبل، ڈھونڈھتے ڈھونڈتے اپنے والدین سے بڑے لگنے لگ گئے جب بھی کسی سیاسی، مذہبی، مسلکی بانسری کی آواز سنیں اس کے نغمے کی محویت میں گم ہونے سے پہلے غور کر لیں کہ اس کا دوسرا سرا کس کے منہ سے جڑا پڑا ہے یہ حق کا سر اور دھن سناتی ہے یا غلاظت بھرے اقتدار کے ایوان سے جڑی پڑی ہے لہٰذا بانسری کا دور سرا کس منہ سے جڑا ہے یہ جان لینا پھر بے شک دمادم مست قلندر کر دیں۔


ای پیپر