بھاشا ڈیم کی تعمیر کب مکمل ہوگی؟ڈیمز فنڈ میں آنے والی رقوم کی تفصیلات
01 جون 2020 (16:38) 2020-06-01

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے دیا مہر بھاشا مہمند ڈیم کیس میں بیرون ملک سے ڈیمز فنڈ میں آنے والی رقوم کی تفصیلات سٹیٹ بینک سے طلب کرلیں جبکہ چیف جسٹس گلزاراحمد نے ریمارکس دئیے ہیں کہ واپڈا کو ڈیمز کی تعمیر میں کوئی رکاوٹ درپیش ہو تو آگاہ کرے،ڈیمز فنڈ کا پیسہ سپریم کورٹ کے پاس موجود ہے،جب بھی ضرورت ہو واپڈا عدالت کو رقم کی فراہمی کا کہہ سکتا ہے‘ ڈیم میں کسی کیساتھ کوئی ناانصافی نہیں ہوگی‘ ڈیم کیلئے زیراستعمال زمین سے متعلق مسئلے حل کریں‘مہندڈیم میں عثمان اوربرہان خیل کی زمین کامسئلہ چل رہاہے‘دیامیر بھاشا ڈیم کا کنٹریکٹ تو پہلے ہی دیا جا چکا ہے ، بھاشا ڈیم کی تعمیر کب مکمل ہوگی؟۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں دیا مہر بھاشا مہمند ڈیم کیس کی سماعت ہوئی،چیف جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہاکہ مہمندڈیم کی منظوری سی ڈی ڈبلیوپی کے پاس زیرالتواہے،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ ڈیم میں کسی کیساتھ کوئی ناانصافی نہیں ہوگی، ڈیم کیلئے زیراستعمال زمین سے متعلق مسئلے حل کریں،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ مہندڈیم میں عثمان اوربرہان خیل کی زمین کامسئلہ چل رہاہے،واپڈاحکام نے کہاکہ وہاں 32 گھرانے ہیں اوروہ زمین ابھی ہمیں درکارنہیں،پہلے مرحلے میں جوزمین چاہیئے تھی وہ حاصل کرچکے،مہندڈیم کی تعمیرکیلئے ٹھیکیدارنے کام شروع کررکھاہے،چیف جسٹس آف پاکستا ن نے چیئرمین واپڈا سے استفسار کرتے ہوئے کہاکہ دیامیر بھاشا ڈیم کا کنٹریکٹ تو پہلے ہی دیا جا چکا ہے ، بھاشا ڈیم کی تعمیر کب مکمل ہوگی؟۔

چیئرمین واپڈا نے کہاکہ بھاشا ڈیم جولائی 2028 میں مکمل ہوجائے گا، چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیاکہ مہمند ڈیم پر تعمیر کی کیا صورتحال ہے؟،وکیل واپڈا نے کہاکہ مہمند ڈیم پر کام شیڈول کے مطابق جاری ہے، مہمند ڈیم کاپہلایونٹ 2024 میں آپریشنل ہوجائیگا،چیئرمین واپڈا نے کہاکہ مہمندڈیم کے تینوں یونٹ جولائی 2025 میں مکمل ہوجائیں گے،وفاق کی طرف سے فی الحال فنڈزکاکوئی مسئلہ نہیں۔

چیف جسٹس گلزاراحمد نے کہاکہ ڈیمز کی مقررہ وقت پر تعمیر بہت بڑا کارنامہ ہوگا،عوام ڈیمز کی تعمیر سے منسلک تمام افراد کے مشکور ہیں۔چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ واپڈا کو ڈیمز کی تعمیر میں کوئی رکاوٹ درپیش ہو تو آگاہ کرے،ڈیمز فنڈ کا پیسہ سپریم کورٹ کے پاس موجود ہے،جب بھی ضرورت ہو واپڈا عدالت کو رقم کی فراہمی کا کہہ سکتا ہے،سٹیٹ بینک حکام نے کہاکہ ڈیم فنڈسٹاک ایکس چینج میں انویسٹ ہوتوزیادہ منافع کیساتھ خطرہ بھی ہوگا،پیسہ جہاں انویسٹ کیاگیاوہاں نفع ٹھیک ہے،سیکیورٹی بھی ہے، ڈیم فنڈمیں رقم جمع کرانے سے متعلق ایمبیسیزکوخط لکھیں ہیں۔

چیف جسٹس گلزاراحمد نے کہاکہ خط لکھنے سے کیاہوگا،کسی سے فون پربات کریں،کوئی پاکستانی ایسی جگہ سے پیسے بھیجناچاہتاہوجہاں پاکستانی بینک نہ ہو،ایسی صورت میں متعلقہ سفارتخانوں کورقوم کی منتقلی کاپتہ ہوناچاہیے،عدالت نے بیرون ملک سے ڈیمز فنڈ میں آنے والی رقوم کی تفصیلات سٹیٹ بینک سے طلب کرلیں اورکیس کی سماعت 6 ماہ کیلئے ملتوی کردی۔


ای پیپر